کیا طالبان کی دہشت گردی نے پاکستان کو ڈیل پر مجبور کیا؟


افغان طالبان کی معاونت سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور تحریک طالبان پاکستان کے مابین جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے سابق قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی دیکھی گئی، جس کا بنیادی مقصد پاکستانی ریاست کو دباؤ ڈال کر معاہدے پر مجبور کرنا تھا۔
شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافیوں کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں ٹارگٹ کلنگ کے 170 کے لگ بھگ واقعات پیش آئے ہیں جس میں 180 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سال اب تک دہشت گردی کے 54 واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں سے زیادہ ترکی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔ یہ واقعات اب جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند اور دیگر علاقوں میں بھی پھیل چکے ہیں۔ تاہم حکومتی اور ریاستی حکام کا موقف ہے کہ تحریک طالبان کے ساتھ فائر بندی کے معاہدے کے نتیجے میں اب تک قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات ختم ہونے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ تحریک طالبان اور پاکستانی فوجی حکام کے درمیان افغانستان کے صوبہ خوست میں طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی ثالثی میں مذاکرات کے دوران قبائلی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ اور سکیورٹی فورسز پر حملے ماضی کے مقابلے میں تیز تر ہو گئے تھے۔ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں واضح اضافہ نظر آیا اور شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے بڑھ گے، لکی مروت میں چار پولیس والوں کی فائرنگ سے شہادت ہو یا بنوں میں محکمہ جنگلات کے عہدیدارں کا اغوا، ضلع بنوں کی پولیس افسر عمران شاہد کے قافلے پر حملہ ہو یا پشاور میں سکھ حکیم کے قتل اور ٹریفک پولیس پر حملے ہوں، ان سب کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔
پاکستانی حکام کے ساتھ ایک ماہ کا عارضی امن معاہدہ ہونے سے پہلے تحریک طالبان کے ترجمان نے دو ہفتوں کے دوران ایک درجن سے زیادہ ایسے واقعات کی ذمہ داری قبول کی جس میں پولیس سمیت سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ان واقعات میں ٹی ٹی پی کے ترجمان نے سکیورٹی فورسز کے چھاپے کے دوران اہلکاروں کے حصار سے نکلنے والے کمانڈروں کا ذکر بھی کیا اور ایسے افراد کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جو کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے لیے کام کر رہے ہیں یا کرتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ سب واقعات ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستانی حکام اور تحریک طالبان کے مابین امن مذاکرات چل رہے تھے لہذا یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ان حملوں کا بنیادی مقصد ریاست پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تھا، اور بالآخر ریاست نے سرنڈر کردیا۔ خیبر پختونخواہ کے انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری کا کہنا ہے کہ یہ خدشات ضرور موجود تھے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے جانے کے بعد پاکستان میں حالات زیادہ خراب ہو سکتے ہیں لیکن پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بہتر منصوبہ بندی سے ان واقعات میں معمولی اضافہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ سرحد پار سے کچھ لوگ پاکستان میں داخل ہو گئے ہوں، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے چوکنا ہیں اور ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ معظم جاہ انصاری کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حالات کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے اور جب سے افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی ہے اس کے بعد سے پاکستان میں تشدد کے واقعات بڑھے ہیں لیکن یہ اضافہ اتنا نہیں جتنا طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے وقت کہا جا رہا تھا۔ آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق بظاہر جو گروپ ایسے حملوں کی علی اعلان ذمہ داریاں قبول کرتا ہے وہ دوسری بات ہے اور تفتیش کے بعد یہ معلوم کرنا کہ کون سا گروپ درحقیقت ان میں ملوث ہے وہ الگ بات ہے۔ انکے مطابق ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن کی ذمہ داری ایک گروہ نے قبول کی اور بعد میں معلوم ہوا کہ کوئی دوسرا گروپ بھی اس کی ذمہ داری لے رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سال 2021 کے پہلے دس ماہ میں 17 پولیس اہلکاروں یا سویلینز کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کے تعداد کا انھیں علم نہیں ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال کچھ زیادہ تشویش ناک نہیں ہے۔ معظم انصاری نے بتایا کہ داعش اور ٹی ٹی پی کے چند ایک لوگ موجود ہیں یا ایسا کہیں کہ بچے کھچے لوگ ہیں، کوئی زیادہ تعداد یا بڑے گروہ بالکل نہیں ہیں اور یہ کوئی زیادہ متحرک نہیں ہیں اور کبھی کبھار کوئی ایک آدھ واردات کر جاتے ہیں لیکن کوئی بڑی کارروائی نہیں کر سکے۔
تاہم دفاعی تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ اگر خیبر پختونخواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی کی دہشت گردانہ کارروائیاں پاکستانی حکام کے لیے پریشانی کا باعث نہیں تھیں تو پھر تحریک طالبان کے ساتھ معاہدہ کر کے ریاست پاکستان نے اپنی رٹ کا جنازہ کیوں نکالا ہے؟

Back to top button