اپوزیشن نے تحریک طالبان سے مذاکرات مسترد کر دئیے

قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کرنے والی اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر تحریک طالبان پاکستان جیسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ہزاروں پاکستانیوں کی قاتل تنظیم کے ساتھ شہیدوں کے خون کا سودا کرے۔
دوسری جانب حکومتِ پاکستان کی جانب سے تحریکِ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک ماہ کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد ٹی ٹی پی نے بھی پہلی مرتبہ مذاکرات کی تصدیق کر دی ہے۔ یاد رہے کہ دونوں فریقین کے مابین مذاکرات افغان طالبان کروا رہے ہیں۔ لیکن شاید پاکستانی فیصلہ ساز بھول چکے کہ اقوم متحدہ نے تحریک طالبان اورافغان طالبان کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے کر ان پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ حکومت پاکستان کی جانب سے کیا جانے والا معاہدہ ایف اے ٹی ایف میں ملک کے لئے مزید مسائل کھڑے کر دے گا۔ دوسری جانب پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکی حکومت افغان طالبان سے سمجھوتہ کر سکتی ہے تو پاکستانی حکومت تحریک طالبان سے سمجھوتہ کیوں نہیں کر سکتی؟ تاہم یہ موقف پیش کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ پاکستان امریکہ نہیں ہے اور نہ ہی امریکہ کو پاکستان کی طرح ایف اے ٹی ایف جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
ادھر 8 نومبر کو اسلام آباد میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد حکومت کی جانب سے یہ تاثر دیا کہ اپوزیشن جماعتوں کو تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر اعتماد میں لیا گیا ہے اور اس حوالے سے اتفاق رائے پیدا کیا جا رہا ہے۔ لیکن ماضی کی کئی مرتبہ اس بار بھی اپوزیشن جماعتوں کی بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان شریک نہیں ہوئے اور ان کی جگہ ذمہ داریاں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے سرانجام دیں۔ بریفنگ کے بعد پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی سلیکٹڈ کو کوئی حق نہیں کہ وہ پارلیمان میں اتفاقِ رائے کے بغیر خود اپنے طور پر تحریکِ طالبان سے مذاکرات کرے جس کے ہاتھ ہزاروں معصوم پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ اجلاس کے بعد مسلم لیگ نون کے ایک سینیئر رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ کے دوران ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی دونوں ہی کے معاملے پر اپوزیشن رہنماوں نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دیا جانے والا یہ تاثر درست نہیں ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات پر اعتماد میں لے لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس روز اپوزیشن جماعتوں کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا اسی روز ایک معاہدے کا اعلان بھی کر دیا گیا لیکن اپوزیشن کا موقف ہے کہ ایسے عناصر سے مذاکرات پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر شروع ہی نہیں کیے جا سکتے تھے کیونکہ نیشنل ایکشن پلان پارلیمنٹ نے بنایا تھا جس کے تحت تحریک طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ تحریکِ طالبان ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں سکیورٹی فورسز اور عوام دونوں کو نشانہ بناتی رہی ہے اور اس کے شدت پسندوں کے حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ بھی شامل تھا جس میں 147 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔ تحریکِ طالبان سے مذاکرات اور جنگ بندی کے بارے میں اعلان 8 نومبر کی شام وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کیا جو ماضی میں طالبان کے سخت ناقد رہے ہیں۔ موصوف نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وسیع تر قومی مفاد میں ہونے مزاکرات کے بعد ایک معاہدے کے تحت حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان ایک ماہ کے سیز فائر پر آمادہ ہو چکے ہیں تاہم مذاکرات کی پیشرفت کو سامنے رکھتے ہوئے سیز فائر میں توسیع ہوتی جائے گی۔ فواد چوہدری کے اس بیان پر تحریک طالبان کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ مذاکرات جنگ کا حصہ ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت اس کا انکار نہیں کر سکتی، لہٰذا تحریک طالبان ایسے مذاکرات کے لیے تیار ہے جس سے ملک بھر میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان موجودہ مذاکراتی عمل میں تحریک طالبان پاکستان اور حکومت پاکستان کے مابین ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے اور فریقین نے مذاکراتی کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق کیا ہے جو آئندہ لائحہ عمل اور فریقین کے مطالبات پر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گی۔ ٹیلی پی کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فریقین نے نو نومبر سے نو دسمبر تک فائر بندی پر بھی اتفاق کیا ہے جسے قائم رکھنا فریقین کی ذمہ داری ہو گی اور اس مدت میں فریقین کی رضامندی سے مزید توسیع بھی کی جائے گی۔
تاہم پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وہ واحد سیاسی لیڈر ہیں جنہوں نے کھل کر اس معاہدے کی مخالفت کی ہے اور اسے شہیدوں کے خون سے غداری قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی اس پر تنقید کرتے رہے ہیں اور اب بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کسی کو آن بورڈ نہیں لیا گیا، کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہوا وہاں کون ہوتا ہے ایک سلیکٹڈ وزیراعظم کہ وہ بھیک مانگتے ہوئے تحریکِ طالبان سے مذاکرات کرے۔ انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی ’جس نے ہمارے فوجیوں اور سپاہیوں کو شہید کیا، ہماری قومی قیادت کو شہید کیا، ہمارے اے پی ایس کے بچوں کو شہید کیا، وہ ناقابل۔معافی جرم ہے۔ یہ کون ہوتے ہیں کہ اپنے طور پر فیصلہ کریں کہ ایسے جانور صفت عناصر کو معافی دینا ہے۔
بلاول نے کہا ’ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی جو بھی پالیسی ہو اس کی پارلیمان منظوری دے، وہ اتفاقِ رائے سے بنے۔ وہ پالیسی بہتر پالیسی بھی ہو گی اور اس کی قانونی حیثیت بھی ہو گی۔‘
اس سے پہلے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اپوزیشن اراکین کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں شریک مسلم لیگ ن کے ایک سینیئر رہنما نے بتایا کہ میٹنگ میں ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی دونوں ہی کے معاملے پر اپوزیشن نے کھل کر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور مذاکرات اور معاہدوں کو حفیہ رکھنے پر پر اظہار حیرت کیا۔ ’ہم نے پوچھا کہ تحریک طالبان سے بات چیت کے اقدام کی کیا جسٹیفکیشن ہے؟‘ انھوں نے بتایا کہ ’اجلاس کے دوران حکومت اور سکیورٹی اداروں سے کہا گیا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا معاہدے سے قبل ان لوگوں کے جذبات سے متعلق ضرور سوچا جائے جو ان کے حملوں سے متاثر ہوئے۔‘
’ان متاثرین میں خود بلاول بھٹو زرداری بھی شامل ہیں جن کی والدہ بنیظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری پاکستانی طالبان نے قبول کی تو ان کے جذبات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اپوزیشن کی جانب سے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شدید تنقید کا نشانہ بننے والے وزیراعظم عمران خان خان موجود نہیں تھے۔ اپوزیشن نے قومی سلامتی کے اجلاس میں عمران خان کے شرکت نہ کرنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم سپیکر اسد قیصر نے بتایا کہ وزیراعظم کو ان کی خواہش کے مطابق اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
