کیا عمران خان کی بہن نورین خان بھی کڑکی لگنے والی ہیں؟

عسکری قیادت پر الزام تراشی کرتے ہوئے انھیں سخت تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین خان کی گرفتاری کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 اور تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران ریاستی اداروں اور مسلح افواج کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹا، گمراہ کن اور اشتعال انگیز بیانیہ پیش کیا، جس سے عوام میں بداعتمادی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ابتدائی طور پر نورین نیازی نے اپنے خلاف مقدمے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں ان کا مؤقف سامنے آیا کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا اور ان پر اس سے قبل کبھی کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ دوسری جانب این سی سی آئی اے کا مؤقف ہے کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر باقاعدہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
قانونی کارروائی سے قبل این سی سی آئی اے نے نورین نیازی کو 20 اور 27 جولائی کو تفتیش میں شامل ہونے کے لیے طلب کیا تھا، تاہم وہ دونوں مواقع پر پیش نہیں ہوئیں۔ ان کے وکیل نے پہلے نوٹس کے بعد مؤقف اختیار کیا کہ نورین نیازی بیرونِ ملک ہیں اور فوری واپسی ممکن نہیں، اس لیے مزید وقت دیا جائے۔ تاہم دوسری طلبی پر بھی عدم پیشی کے بعد ادارے نے مقدمہ درج کر لیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی آر درج ہونے کے بعد تفتیشی ادارہ گرفتاری کی کارروائی کر سکتا ہے، تاہم یہ ضروری نہیں کہ ہر مقدمے میں فوری گرفتاری ہی عمل میں آئے۔ عام طور پر ملزم کو متعلقہ عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے کا قانونی حق حاصل ہوتا ہے۔ اگر عدالت عبوری یا قبل از گرفتاری ضمانت منظور کر لے تو گرفتاری سے عارضی تحفظ مل سکتا ہے، جبکہ ضمانت مسترد ہونے کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم کو حراست میں لے سکتے ہیں۔
نورین نیازی کے خلاف درج مقدمے میں پیکا ایکٹ کی دفعات 20 اور 26-اے جبکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 505 اور 506 شامل کی گئی ہیں۔ اگر عدالت میں یہ الزامات ثابت ہو جائیں تو مختلف دفعات کے تحت الگ الگ سزائیں دی جا سکتی ہیں، تاہم حتمی سزا کا تعین عدالت مقدمے کے شواہد، نوعیت اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گی۔
پیکا ایکٹ کی دفعہ 20 کے تحت کسی شخص کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹی معلومات پھیلانے پر زیادہ سے زیادہ تین سال قید، دس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ دفعہ 26-اے کے تحت خوف، افراتفری یا ہیجان پیدا کرنے والی جھوٹی معلومات پھیلانے پر تین سال تک قید، بیس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 505 عوامی امن خراب کرنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت یا بغاوت پر اکسانے سے متعلق ہے، جس میں جرم ثابت ہونے پر سات سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ دفعہ 506 مجرمانہ دھمکیوں سے متعلق ہے، جس میں عام حالات میں دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ اگر دھمکی سنگین نوعیت کی ہو تو سزا سات سال تک قید اور جرمانے تک بڑھ سکتی ہے۔
یہ بھی اہم ہے کہ مختلف دفعات میں درج سزائیں خودکار طور پر جمع نہیں ہوتیں۔ اگر کسی شخص پر ایک سے زیادہ الزامات ثابت ہوں تو عدالت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ سزائیں بیک وقت (Concurrent) چلیں گی یا ایک کے بعد دوسری (Consecutive)، اس لیے زیادہ سے زیادہ ممکنہ مجموعی سزا کے بارے میں پیشگی حتمی رائے دینا درست نہیں۔
لاہور پولیس نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کے گھر پر چھاپہ کیوں مارا؟
فی الحال اس مقدمے میں نہ تو عدالت نے کسی کو قصوروار قرار دیا ہے اور نہ ہی سزا سنائی گئی ہے۔ آئندہ کارروائی میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا نورین نیازی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرتی ہیں، این سی سی آئی اے انہیں گرفتار کرتی ہے یا تفتیش کے بعد مقدمہ باقاعدہ ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر قانون کے مطابق ہر ملزم اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک عدالت شواہد کی بنیاد پر جرم ثابت نہ کر دے۔
