پی ٹی آئی کا 5 اگست کا انقلاب سوشل میڈیا تک محدود کیوں ہو گیا؟

تحریک انصاف کے 5 اگست کو احتجاج کے نام پر انقلاب کے دعوے مکمل طور پر ٹھس ہو گئے۔ عوامی پذیرائی میں شدید کمی کے بعد پی ٹی آئی کی تمام تر احتجاجی سرگرمیاں صرف سوشل میڈیا تک محدود ہو گئیں۔ ناقدین کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے پانچ اگست کو پشاور میں ہونے والے مجوزہ جلسے سے قبل پارٹی کی انتخابی اور احتجاجی مہم ایک بار پھر زیادہ تر سوشل میڈیا تک محدود دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق زمینی سطح پر وہ سرگرمی نظر نہیں آ رہی جو کسی بڑے عوامی جلسے سے قبل عموماً دیکھی جاتی ہے، جبکہ پارٹی کے اندر بھی حکمتِ عملی پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں کا مؤقف ہے کہ احتجاج خیبر پختونخوا کے بجائے پنجاب، خصوصاً اسلام آباد میں ہونا چاہیے، کیونکہ ان کے نزدیک اہم سیاسی فیصلے وہیں کیے جاتے ہیں۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر اس جلسے میں بھی لانگ مارچ یا اسلام آباد کی جانب کسی بڑے احتجاج کا اعلان نہ کیا گیا تو پارٹی کے اندر مزید مایوسی پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض کارکن یہ شکایت بھی کر رہے ہیں کہ ہر بار خیبر پختونخوا کے کارکنوں پر ہی احتجاج کی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے، جبکہ پنجاب کی قیادت کو بھی عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔
دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے پی ٹی آئی کی حکمتِ عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان کا خاندان موجودہ حکمتِ عملی سے مطمئن ہوتا تو ان کی بہنوں کو بار بار احتجاج کے لیے سڑکوں پر نہ آنا پڑتا۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی اور دیگر مشکلات کا شکار ہے، اس لیے احتجاج وہاں ہونا چاہیے جہاں فیصلے کیے جاتے ہیں، جبکہ صوبے کو اس وقت عوامی خدمت اور ترقیاتی اقدامات کی زیادہ ضرورت ہے۔
مسلم لیگ (ن) فاٹا کے رہنما سید ولی شاہ آفریدی نے بھی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت اپنی کارکردگی میں ناکام رہی ہے اور جلسوں و دھرنوں کے علاوہ اس کے پاس کوئی مؤثر حکمتِ عملی نہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس سے عوامی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کو جلسے کی تیاریوں میں بھی بعض چیلنجز کا سامنا ہے۔ پارٹی کے اندر اختلافات اور مختلف گروپوں کی موجودگی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جبکہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے متعلق بھی مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ تاہم ان خبروں کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان سمیت کئی اضلاع میں جلسے کے حوالے سے غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی، جبکہ تشہیری مہم بھی محدود دکھائی دے رہی ہے۔ پشاور میں چند مقامات پر بینرز ضرور آویزاں کیے گئے ہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ مہم کا زیادہ تر انحصار سوشل میڈیا پر ہے۔
اس کے باوجود پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت پانچ اگست کے جلسے کے کامیاب ہونے کے لیے پُرامید ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ جلسے میں بڑی تعداد میں کارکن شریک ہوں گے اور عمران خان کی رہائی کے حوالے سے آئندہ کی سیاسی حکمتِ عملی، ممکنہ لانگ مارچ، اسلام آباد کی جانب احتجاج یا دیگر اہم اعلانات کیے جا سکتے ہیں۔
کیا عمران خان کی بہن نورین خان بھی کڑکی لگنے والی ہیں؟
مجموعی طور پر پانچ اگست کا جلسہ پی ٹی آئی کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس کی کامیابی یا ناکامی نہ صرف پارٹی کی عوامی متحرک کرنے کی صلاحیت بلکہ مستقبل کی احتجاجی حکمتِ عملی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے دعوے اور تنقید اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم جلسے کی اصل عوامی شرکت اور اس کے بعد کیے جانے والے اعلانات ہی اس کی سیاسی اہمیت کا تعین کریں گے۔
