"جو گذرتے ہیں داغ پر صدمے”

تحریر:نصرت جاوید
بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت
منگل کی رات سونے سے قبل ایکس اکائونٹ کا سرسری جائزہ لیا تو میڈیا یہ خبر دے رہا تھا کہ عالمی منڈی میں گزشتہ دو ہفتوں کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تسلی بخش کمی نمودار ہورہی ہے۔ مذکورہ خبر پڑھنے کے بعد دل خوش فہم نے یہ سوچتے ہوئے بتی بجھادی کہ بدھ کی صبح اٹھوں گا تو ہمارے ہاں بھی پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں امید بڑھاتی کمی کا اعلان ہوچکا ہوگا۔ امید کا غچہ مگر بن کھلے مرجھاگیا۔ پیر اور منگل کی رات پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ایک روپے کمی کا اعلان ہوا تھا۔ اسے واپس لے کر فی لیٹر کی قیمت میں مزید 63پیسے اضافے کا اعلان ہوا ہے۔ اضافے کے مذکورہ اعلان سے قبل پٹرولیم کے ذہین وفطین وزیر علی پرویز ملک صاحب پیر کے روز قوم کو یہ خوش خبری سناتے پائے گئے تھے کہ پاکستان کیلئے تیل لانے والے جہاز باب المندب پارکرچکے ہیں۔ حوثی ملیشیا نے گویا ان پر حملوں سے گریز کیا۔ رسد کئی حوالوں سے لہٰذا برقرار ہے اور طلب بھی معمول کے مطابق۔ طلب اور رسد کی منطق کے استعمال سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی امید رکھنے والے مجھ جیسے سادہ لوح مگر قابل رحم حد تک سادہ ثابت ہوئے۔
آپ سے کیا پردہ اکثر یہ سوچنا شروع ہوگیا ہوں کہ قوم کو اجتماعی دعائوں کے ذریعے ربّ کریم سے فریاد کرنا چاہیے کہ سرکار مائی باپ روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے ساتھ یہ حکم بھی صادر نہ کردے کہ پٹرول پمپ پر دس سے زیادہ لیٹر خریدنے والے کی پشت پر سزا کے طورپر 5درے بھی لگائے جائیں گے تاکہ اسے احساس ہوکہ پٹرول کتنی قیمتی جنس ہے اور اس کی ہر بوند نہایت احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ یہ الگ بات ہے کہ درے کھائے بغیر ہی ہمارے بے تحاشہ دیہاڑی دار پٹرول خریدنے کے قابل نہیں رہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران اسلام آباد کے تقریباََ ہر سگنل پر سبز بتی کا انتظار کرتے ہوئے میں نے کئی موٹرسائیکل والوں کو اپنے زیر استعمال مشین زمین پر الٹائے ہوئے دیکھا۔ موٹرسائیکل کو زمین پر لٹاکر آپ اس کی ٹینکی میں بچے پٹرول کی چند بوندیں مشین کی رگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ کسی پٹرول پمپ تک پہنچ کر مزیدتیل ڈلواسکیں۔ جوافراد اپنی موٹرسائیکلوں کے ’’سانس بحال‘‘ کرنے کی جدوجہد میں مصروف نظر آئے ان کی اکثریت بائیکیاچلاتی تھی۔ تین سے چار افراد گھروں میں کھانا یا ای مارکیٹنگ کے ذریعے منگوائی اشیاء ڈیلیور کرنے والے تھے۔
میرے ایک دوست کے دفتر میں ایک ڈرائیور دس گھنٹے گاڑی چلاتا ہے۔ کرائے کے مکان میں رہتا اور بجلی کے بل باقاعدہ ادا کرتا ہے۔ اس کا بیٹا اور بیٹی کالج جاتے ہیں اور و ہ دیوانگی کی حد تک انہیں اچھی تعلیم دلوانے کا خواہش مند ہے۔ دس گھنٹے کی نوکری سے لیکن اس کا خرچ پورا نہیں ہوتا۔ دفتر آنے اور وہاں سے گھر لوٹنے سے قبل وہ کم از کم پانچ گھنٹے بائیکیا چلانے میں صرف کرتا ہے۔ میں اس کی دیانتداری، فرض شناسی اور خصوصاََ بچوں کی تعلیم کے حوالے سے جنونی محسوس ہوتی لگن سے بہت متاثر ہوں۔ اپنی بساط کے مطابق یہ کوشش بھی کرتا ہوں کہ اسکی عزت نفس مجروح کئے بغیر کوئی مالی معاونت فراہم کرسکوں۔
دو دن قبل میری اس سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ جب سے پٹرول کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین شروع ہوا ہے اکثر سواریوں سے اس کی کرائے کے معاملے میں توتکار ہوجاتی ہے۔ تین دن وہ بائیکیا چلانے کے باوجود ایک پیسہ بھی کمانہیں پایا۔ سنجیدگی سے سوچ رہا تھا کہ اضافی رقوم کے حصول کے لئے کونسا متبادل ڈھونڈوں۔ اس کا ایک ڈرائیور دوست شادی شدہ ہے مگرفی الحال بچوں کا والد نہیں۔ اس سے یہ سن کر حقیقی خوشی محسوس ہوئی کہ بچہ پیدا کرنے سے قبل وہ اپنی آمدنی میں اضافے کی تگ ودو میں مصروف ہے۔ بیوی اس کی اسلام آباد نہیں آبائی گائوں میں رہتی ہے۔ چند ڈرائیوروں کے ہمراہ ایک کمرہ میں رہتا ہے۔ اسلام آباد میں تنہا رہنے کی وجہ سے اس نے گزشتہ 3برسوں میں 80ہزار کے قریب رقم بچالی۔ اس کے ذریعے ایک سستی گاڑی خریدی۔ وہ بھی ایک کمپنی کا ڈرائیور ہے۔ اس کی ڈیوٹی مگر 8گھنٹوں تک محدود ہے۔
80ہزار سے خریدی سکینڈ ہینڈ کار کو رواں اور صاف ستھرا رکھنے کے لئے اسے مزید 60سے 70ہزار روپے درکار ہیں۔ ان کے حصول کے لئے وہ قرض کا طلب گار ہے جسے قسطوں میں لوٹاسکے۔ قرض کے حصول سے قبل مگر اس نے 80ہزار میں خریدی گاڑی کو فارغ اوقات میں مختلف کمپنیوں کو رائیڈ(Ride)کیلئے استعمال کیا۔ بقول اس کے جتنے بھی پھیرے لگائے ان کے نتیجے میں صرف پٹرول کا خرچ پورا ہوا۔ کوئی اضافی رقم میسر نہ ہوئی۔ مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے وہ طے کرچکا تھا کہ جو گاڑی اس نے خریدی ہے اسے بیچ دے اور رائیڈ کے لئے اپنے فاضل وقت میں گاڑی چلانا چھوڑدے۔ محض دو افراد سے گفتگو نے ثابت کیا کہ پٹرول کی روز افزوں قیمت اور خصوصاََ اس کا روزانہ کی بنیاد پر تعین نچلے متوسط طبقے کے ایماندار اور محض محنت کے ذریعے اضافی آمدنی کے خواب دیکھنے والوں کی زندگی اجیرن بنارہا ہے۔ علی پرویزملک اور ان کے ہم نوائوں کی محفل میں بیٹھو تو وہ سینہ پھلائے مصر رہتے ہیں کہ پٹرول کی روزانہ کی بنیاد پر فی لیٹر قیمت طے کرنے کے نتیجہ میں پٹرول کے اجارہ دار سیٹھ ’’ذخیرہ اندوزی‘‘ کے قابل نہیں رہے۔ دیہاڑی دار اور متوسط طبقے کے لوگوں کو سکون نصیب ہوا ہے۔ شاعر نے صحیح کہا تھا: جو گزرتے ہیں داغ پر صدمے- آپ بندہ نواز کیا جانیں۔
