کیا عمران چیف کی تعیناتی پر اسلام آباد پہنچنا چاہتے ہیں؟

عمران خان کی جانب سے اپنے لانگ مارچ کو قسطوں میں چلانے اور روزانہ دس بیس کلومیٹر ہی آگے بڑھانے کا فیصلہ اس وقت سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر اسکے پیچھے کیا منطق ہے؟ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ ماضی کے برعکس اس مرتبہ کپتان کے مارچ میں عوام کی شرکت امیدوں کے برعکس بہت ہی کم رہی ہے جس وجہ سے عمران اپنی عزت بچانے کی خاطر اسے شارٹ مارچ کی صورت میں قسطوں میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ اسی لیے وہ روزانہ شام کو مارچ ختم کر کے اپنے ساتھیوں سمیت گھر چلے جاتے ہیں اور اگلی صبح پھر ٹرک پر نمودار ہو جاتے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ عمران نے لانگ مارچ کا آغاز اس امید پر کیا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اسکا دباؤ لے کر حکومت کو ان سے مذاکرات پر مجبور کرے گی، لیکن ظلم یہ ہوا کہ موصوف کی گالی گلوچ کے بعد اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں نے ہی ان سے بات کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ڈی جی آئی ایس آئی خود ان کے خلاف ایک پریس کانفرنس کر چکے ہیں۔ ایک تیسرا نظریہ یہ ہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ کا بنیادی مقصد نئے آرمی چیف کی تعیناتی میں حصہ دار بننے کے لیے پریشر بڑھانا تھا، لیکن اب جبکہ شہباز اور نواز شریف دونوں نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ اس معاملے پر ان سے مشاورت نہیں ہو گی تو موصوف نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے مارچ کو اسلام آباد پہنچانے کی ٹائمنگ آرمی چیف کی تعیناتی کے اعلان کی ٹائمنگ کے ساتھ جوڑ لیں تاکہ ان کی مرضی کا فوجی سربراہ نہ لگے تو وہ اسے متنازع بنا دیں۔ شاید اسی لیے یہ افواہ بھی چل رہی ہے کہ عمران اپنے لانگ مارچ کا رخ اسلام آباد کے ڈی چوک کی بجائے راولپنڈی میں جی ایچ کیو ایم کی جانب بھی کر سکتے ہیں۔
ماضی میں عمران سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے ہونے والے لانگ مارچز پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ مارچ میں شریک لوگوں کی بڑی تعداد کے باوجود مارچ کی رفتار اس سے کہیں زیادہ تیز رہی ہے۔ تاہم موجودہ لانگ مارچ پاکستانی سیاسی تاریخ کا سست ترین مارچ یے اللہ کے اس کے شرکاء کی تعداد بھی چار یا پانچ ہزار سے زیادہ نہیں۔ سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ اس مرتبہ پی ٹی آئی کی جانب سے باقاعدہ حکمت عملی کے تحت مارچ کی رفتار سست رکھی جا رہی ہے۔ عمران شاید چاہتے ہیں ان کا مارچ تب اسلام آباد پہنچے جب ملک میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا وقت ہو۔ یاد رہے کہ نومبر ہی میں فوج کی کمانڈ تبدیل ہونی ہے۔ مہینے کے آخر میں موجودہ آرمی چیف قمر جنرل جاوید باجوہ اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل ندیم رضا کی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے۔ فوجی ترجمان اور جنرل باجوہ واضح طور پر اعلان کر چکے ہیں کہ انہوں نے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کر لیا یے۔
یاد رہے کہ عمران کا لانگ مارچ 4 نومبر کو اسلام آباد پہنچنا تھا لیکن اب اس کے شیڈول میں تبدیلی کردی گئی ہے۔ نئے پلان کے مطابق نام نہاد لانگ مارچ مزید بھی سست روی سے چلتا ہوا آئندہ اتوار کے روز تک جہلم پہنچے گا۔ عمران اور پارٹی قیادت میں شامل رہنما یہ لطیفہ نما دعوی کرتے نظر آتے ہیں کہ مارچ میں شامل لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی پیش قدمی سست ہو رہی ہے۔ لیکن حقیقت میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ لوگوں کی تعداد توقعات سے انتہائی کم ہے۔ صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ میں اتنے لوگ نہیں ہیں جتنے کی عمران اور ان کی جماعت توقع کر رہی تھی۔ بات تو لاکھوں کی کی جا رہی تھی لیکن یہاں تو معاملہ ہزاروں کا بھی نہیں بلکہ سینکڑوں کا نکلا ہے۔ مگر سلیم بخاری یہ بھی سمجھتے ہیں کہ لانگ مارچ کی پیش قدمی سست ہے اور انھیں بھی لگتا ہے کہ ایسا کرنا عمران کی حکمت عملی ہے۔
جب سہیل وڑائچ سے سوال کیا گیا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے وقت لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے میں کیا حکمت عملی ہو سکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ بظاہر پی ٹی آئی کی حکمت عملی یہی نظر آتی ہے کہ وہ سست روی سے چلتے ہوئے اس وقت اسلام آباد پہنچیں جب فوج کے اگلے سربراہ کی تعیناتی کا وقت قریب ہو۔ اس طرح وہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ تاہم شہباز شریف پہلے ہی ایک بیان میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اگلے آرمی چیف کی تعیناتی وہ خود کریں گے۔ انھوں نے ایک دعویٰ کیا تھا کہ عمران نے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے انھیں پیغام بھجوایا تھا کہ تین نام آپ دیں، تین میں دیتا ہوں، مل کر آرمی چیف کی تعیناتی کرتے ہیں۔ لیکن میں نے شکریہ کہہ کر انکار کر دیا۔ تاہم اگلے ہی روز لانگ مارچ میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اس بیان کی تردید کی تھی۔
ایسے میں اوال یہ ہے کہ کیا لانگ مارچ کو لے کر اسلام آباد پہنچنے پر عمران شہباز شریف سے اپنی بات منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی کا آرمی چیف تعینات کیا جائے؟ اور اگر ایسا ہے تو وہ لانگ مارچ کے ذریعے وہ اس ارادے میں کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟ سہیل وڑائچ کے مطابق اگر وہ اپنی مرضی کے آرمی چیف کی تعیناتی نہ بھی چاہتے ہوں تو وہ یہ بھی نہیں چاہیں گے کہ اس معاملے پر ان کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیاجائے۔ تاہم وہ لانگ مارچ کے ذریعے یہ مقصد حاصل کر پائیں گے اس کا اندازہ تب کیا جا سکے گا جب وہ مارچ کے ساتھ اسلام آباد پہنچیں گے۔
سہیک وڑائچ کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہ پی ٹی آئی دانستاً اپنی پیش قدمی کو سست رکھ رہی ہے، صحافی سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ عمران کی جانب سے لانگ مارچ کے لیے نومبر کا مہینہ چننا یہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ آرمی چیف کی تعیناتی پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں۔تاہم پی ٹی آئی کے سینٹرل سیکریٹری انفارمیشن فرخ حبیب نے اس تاثر کی نفی کی کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ سست روی کا شکار ہے اور ان کی جماعت دانستہ طور پر لانگ مارچ کی پیش قدمی کو سست رکھ رہی ہے تا کہ نئے چیف کی تعیناتی کے وقت اسلام آباد پہنچا جائے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’لانگ مارچ کا آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے سے تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ تو ہمارا مطالبہ ہی نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ تو پہلے دن سے یہی ہے کہ حکومت نئے عام انتخابات کی تاریخ دے۔‘ فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ سے ان کا مقصد جلد ملک میں نئے عام انتخابات کروانا ہے جس کا وہ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا بیک ڈور بات چیت کی وجہ سے مارچ کی رفتار کم رکھی جا رہی ہے؟ بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی رفتار کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف اور ’اسٹیبلشمنٹ‘ کے درمیان بیک ڈور بات چیت ہو رہی ہے۔ یعنی اس پر پی ٹی آئی کو امید ہے کہ وہ اس بات چیت کے ذریعے اپنے مطالبات تسلیم کروانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس پر سلمان غنی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اگر سیاسی قیادت کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے تو بہت سے لوگ سیاستدانوں میں ایسے ضرور موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشنز میں دو تین ماہ کے فرق سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔
اگر یہ طے ہے کہ الیکشن اگلے سال ہونے ہیں تو اگر وہ دو تین ماہ قبل ہو جائیں مگر اس سے ملک میں استحکام رکھا جا سکے تو دو تین ماہ سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ تاہم ان کے خیال میں ’الیکشن اب عمران خان کا ہدف نہیں ہیں۔ وہ صرف افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔لیکن اگر ایسی صورتحال میں مارشل لا لگتا ہے تو اس کے صرف عمران ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ باقی سیاسی قیادت بھی اتنی ہی ذمہ دار ہو گی۔‘
صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی کھل کر یہ بات بتا چکی ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان نے ’چھپ چھپا کر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی ہے جو کہ ناکام ہو چکی ہے۔ اپنی پریس کانفرنس میں آئی ایس آئی کے سربراہ ندیم انجم خود یہ بات بتا چکے ہیں کہ وہ رات کے اندھیرے میں ہم سے بات کرتے ہیں اور دن میں ہمیں بُرا بھلا کہتے ہیں۔ سلیم بخاری کے مطابق اس سے یہ بات تو ظاہر ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پہلے کوئی مذاکرات ہو بھی رہے تھے تو اب وہ بات چیت ختم ہو گئی ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ اور دیگر حکومتی عہدیداروں کے حالیہ بیانوں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے ساتھ بھی پی ٹی آئی کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔
خود پی ٹی آئی کے رہنما اپنے حالیہ بیانات میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی جماعت کے کسی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ بخاری کے مطابق ’کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ لانگ مارچ سست ہونے کی اصل وجہ کچھ اور ہے۔ ان کے خیال میں لانگ مارچ میں لوگوں کی شرکت انتہائی کم ہے۔
سلمان غنی سمجھتے ہی کہ عمران خان توقع کر رہے تھے کہ جب وہ لانگ مارچ کی کال دیں گے تو لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ان کے پیچھے چلیں گے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ایسا نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران اندھیرا ہوتے ہی اس دن کے لیے مارچ کو ختم کر کے واپس لاہور چلے آتے ہیں۔ اس لیے لانگ مارچ کا کوئی ٹیمپو نہیں بن پایا۔ سلمان غنی کے خیال میں عمران خان کی امیدیں اب زیادہ تر صوبہ خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں سے جڑی ہوں گی۔ سلیم بخاری کا بھی استدلال ہے کہ عمران خان لانگ مارچ میں لوگوں کی کم تعداد میں شرکت کی وجہ سے خوش نہیں ہیں بلکہ وہ جماعت کی قیادت سے نالاں ہیں۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا ہو گا کہ جب عمران خان اسلام آباد پہنچتے ہیں تو کیا وہ لاکھوں کا وہ مجمع اکٹھا کر پاتے ہیں جس کا انھوں نے دعوٰی کیا تھا۔ تاہم ان کے خیال میں ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔
