کیا عمران کے بعد علامہ سعد رضوی اگلے وزیراعظم ہوں گے؟

حکومت کے سر پر دھرنے کی دو نالی بندوق رکھ کر حال ہی میں کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہونے والے تحریک لبیک کے بریلوی قائد سعد رضوی کے بارے میں اب یہ سننے میں آرہا ہے کہ وہ عمران خان کے بعد ملک کے اگلے وزیر اعظم بھی ہو سکتے ہیں۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ عمران خان اور سعد رضوی دونوں اہل سنت کے بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار محمد حنیف بی بی سی کیلئے اپنی تازہ تحریر میں لکھتے ہیں کہ گن پوائنٹ پر حکومت کی قید سے رہائی حاصل کرنے والے علامہ سعد رضوی کو کئی وجوہات کی بنا پر مستقبل کا وزیر اعظم کہہ جا رہا ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں پاکستان میں کالعدم تحریکیں یہ نعرہ لگایا کرتی ہیں کہ ’دم ہے تو کالعدم ہے۔‘ لہذا اندازہ لگائیں کہ جو تحریک کالعدم ہو کر پھر غیر کالعدم ہوجائے اور کالعدم کرنے والے پھولوں کے گلدستے لے کر اس۔کی راہ میں بچھ جائیں اُس تحریک اور اس کے قائد میں کتنا دم ہوگا۔ انکامکہنا یے کہ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ علامہ خادم رضوی اپنے بیٹے سعد رضوی کا ذکر اپنے خطبات میں اُسی شفقت سے کرتے تھے جیسے اکثر باپ اپنی ہی لاڈ پیار سے بگڑی ہوئی اولاد کا کرتے ہیں۔ وہ فرماتے تھے کہ میں نے اپنے بیٹے کو کسی سکول یا مدرسے نہیں بھیجا اور ساری تعلیم خود گھر میں دی۔ پھر جب سعد کو دین کی خدمت کا پہلا کام ملا اور معاوضے کے ساتھ گھڑی، سوٹ اور نئے جوتے بھی ملے تو علامہ نے جتایا کہ دیکھا بیٹا دین کی چوکیداری میں اجر ہی اجر ہے۔
محمد حنیف کہتے ہیں کہ سعد رضوی کو اپنے پہلے کام کے سلسلے میں گھڑی، سوٹ اور جوتے ملیں ہوں گے لیکن والد کی وفات کے ایک سال کے اندر اندر، دو چار دفعہ جیل جانے سے، ڈھائی دھرنے دینے سے، فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا نعرہ لگانے سے انھیں پورا بریلوی ووٹ بینک تحفے میں دیا گیا ہے۔ایسا پکا ووٹ بینک تو مریم نواز یا بلاول بھٹو جیسے جدی پشتی سیاست دانوں کو بھی نہیں ملا ہوگا۔
ایسے میں ہمارے سازشی ذہن کہیں گے کہ سعد رضوی کے مستقبل کا فیصلہ نہ علامہ خادم رضوی کی تعلیم نے کیا نہ تحریک لبیک کے بزرگوں نے بلکہ چاند والے مفتی منیب، کراچی کے ایک مشہور سیٹھ اور سپہ سالار نے چائے کے کپ پر مشاورت کی اور کہا یہ ہمارا ہونہار لڑکا ایسے ہی جیل میں پڑا ہوا علامہ اقبال کی نظموں کو رٹا لگا رہا ہے یا بقول عمران خان کے ایسے ہی پڑا ہوا ہے، اسے نکالو اور پھر تماشا دیکھو۔
حنیف کے بقول، زیادہ سنجیدہ اور مدبر تجزیہ نگار فرمائیں گے کہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں اتنے بڑے بریلوی فرقے کے جذبات کی ترجمانی کرنے والی کوئی سیاسی جماعت نہیں تھی، اس لیے تحریک لبیک کا سیاسی ظہور ایک قدرتی امر تھا۔ لیکن یہ کوئی نہیں بتائے گا کہ علامہ خادم رضوی کے ظہور سے پہلے بریلویوں کو پتا ہی نہیں تھا کہ ان کے جذبات ہیں کیا جس طرح انڈیا میں مودی کے ظہور سے پہلے ہمارے ہندو بھائیوں کو یہ پتا نہیں تھا کہ وہ تقریباً ایک ارب کی مظلوم اکثریت ہیں۔ وہ تو بھلا ہو علامہ خادم رضوی کا جنھوں نے ہمیں بتایا کہ بھول جاؤ جماعتیوں کو اور جہادیوں کو کیونکہ تمھاری ہر گلی میں گستاخ گھوم رہے ہیں۔
محمد حنیف کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان بھی سوچتے ہوں گے کہ اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر پوری دنیا کو مسلمانوں کے جذبات کے بارے میں انھوں نے بتایا، رحمتہ اللعالمین اتھارٹی انھوں نے بنائی اور اب یہ چھوٹا رضوی جیل سے چھوٹنے ہی اپنے جانثاروں کو بتا رہا ہے کہ اگلے الیکشن میں ووٹوں سے ڈبے بھرنے ہیں۔
علامہ خادم رضوی نے اپنے صاحبزادے کی تعلیم کے دوران پاکستان کے تمام اچھے استادوں کی طرح علامہ اقبال کی نظموں کو رٹا تو لگوایا ہوگا جن کا استعمال وہ اب اپنے خطبات میں کرتے ہیں۔ ہمیں علامہ صاحب کی شاگردی تو نصیب نہیں ہوئی لیکن علامہ اقبال کی کچھ نظمیں زبانی یاد کرا دی گئیں تھیں۔ ان میں سے ایک ہمارے حسب حال تھی اس لیے پہلا شعر آج تک یاد ہے:
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کيا تو نے
وہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اِک ٹوٹا ہوا تارا
تعلیم کے دوران استادوں نے گردوں کا مطلب نہیں بتایا تھا۔ اب کچھ اندازہ ہے کہ یہ کوئی آفاقی چیز ہے جو حرکت میں رہتی ہے۔ بقول حنیف، علامہ رضوی نے اپنے ولی عہد کو یہ سب اچھی طرح سمجھا دیا ہوگا۔ یہ بھی بتایا ہوگا کہ یہ جو پھولوں کے گلدستے لے کر آتے ہیں اور تیرے ساتھ تصویر بنواتے ہیں، ان کے پھولوں کو اچھی طرح سونگھ لینا۔ یہ تیرے کان میں کہتے ہوں گے کہ ہمیں جو بھی کہنا ہو کہہ لینا گستاخ نہیں کہنا۔ اور یہ جب تجھے گلے لگائیں تو خیال رکھنا کہ یہ ایک ہاتھ تیری جیب میں ڈال کر تیرا ووٹ بینک چرانے کی کوشش کریں گے۔ علامہ خادم رضوی جیسی رنگین پنجابی میں بات کرنے کی ہمت نہیں ہے ورنہ وہ ولی عہد کو پیار سے کوئی اچھا سا لقب دے کر کہتے کہ یہ ڈبے بھرنے والی پٹی تجھے کس نے پڑھائی ہے اگلے الیکشن تو مشینوں پر ہوں گے۔ لہذا صرف ایک ولی عہد کی ہی نہیں پوری جمہوریت کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے جا رہا ہے۔
