کیا فوجی قیادت نے واقعی وزیراعظم کو بائی پاس کیا؟

نئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کی تعیناتی کا معاملہ شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہوتا چلا جا رہا ہے جس سے ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں سیاسی بے یقینی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بظاہر وجہ تنازع فوجی قیادت کی جانب سے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے نام کا اعلان کرنے سے پہلے وزیراعظم کو اعتماد میں نہ لینا تھا لہذا وزیراعظم ہاؤس آئی ایس پی آر کی جانب سے پریس ریلیز جاری کرنے کے عمل کو خود کو بائی پاس کرنے کے مترادف قرار دیتا ہے۔
درحقیقت ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کی تعیناتی کبھی بھی سادہ عمل نہیں رہی ہے۔ اس عہدے پر فرد کے چناﺅ سے لے کر مشاورت اور نوٹیفیکیشن کے اجرا تک کا تمام عمل اور مراحل پس پردہ اور رازداری کے پردوں میں ہی چھپے رہتے ہیں۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ماہرین قانون اور سینیئر حکومتی حکام سمیت کوئی نہیں جانتا کہ کس قانون یا ضابطے میں تعیناتی کے اس عمل کی واضح تفصیل یا جزئیات موجود ہیں۔ اسی وجہ سے گذشتہ کئی روز سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی تقرری بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے لگ بھگ دو ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس تعیناتی کی پریس ریلیز فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر نے جاری کی تھی۔ مگر اس حوالے سے وزیراعظم کی جانب سے اعتراض آنے کے بعد ابھی تک کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا جا سکا۔
اس دوران حکومت کی جانب سے وزیراعظم اور آرمی چیف کے ایک ‘پیج’ پر ہونے سے متعلق بیانات بھی آئے۔ پھر یہ افواہیں سوشل اور مقامی میڈیا پر گردش کرتی رہیں کہ وزارت دفاع سے تین ناموں پر مشتمل ایک نئی سمری وزیرِ اعظم ہاؤس بھیجی گئی ہے تاہم سرکاری سطح پر ان خبروں کی تصدیق نہیں کی گئی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیرِ اعظم فوج کے تجویز کردہ افراد کے انٹرویو کریں گے اور اس کے بعد ہی سمری پر دستخط کریں گے۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس حوالے سے کہا ہے کہ بڑے عہدے پر تقرری سے قبل انٹرویو ہونا ‘ایک معمول کا عمل ہے اور اب اس روایت کو بھی متنازع بنایا جا رہا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعظم کے مشیر عامر ڈوگر نے نجی ٹی وی چینل سما ٹی وی کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ عمران خان چاہتے تھے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید مزید کچھ عرصہ آئی ایس آئی کے سربراہ رہیں۔ تاہم اس سب کے بیچ ایک سوال بدستور موجود ہے اور وہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے حوالے سے قانون کہتا کیا ہے؟ اسلام آباد میں مقیم ایک سینیئر آئینی ماہر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کیا اور ان سے اس قانون کے بارے میں دریافت کیا جس کے تحت ڈی جی آئی ایس آئی کا انتخاب، مشاورت اور تعیناتی کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔ سینیئر قانون دان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا انھیں علم نہیں تھا کہ ایسا کوئی قانون موجود ہے بھی یا نہیں۔
معروف قانون دان اور جی ایچ کیو کی لیگل برانچ (شعبہ قانون) کے سابق رکن کرنل (ر) انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ آرمی رولز اینڈ ریگولیشن بک کے تحت میجر جنرل کے رینک کے اوپر کے آرمی افسران کی تمام تعیناتیاں اور تبادلے وزیراعظم کا استحقاق ہے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل تک آرمی رولز اینڈ ریگولیشن بُک ایک ’خفیہ دستاویز‘ تھی لیکن سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے اسے ’پبلک ڈاکومینٹ‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایک سوال پر انعام الرحیم نے بتایا کہ ’اب دفاعی افواج سے متعلق تمام قواعد وضوابط عوامی دستاویز قرار دیے جا چکے ہیں اور اس کے ساتھ یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ یہ عوام کو بھی دستیاب ہوں۔ سال 2020 میں جاری کردہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے مطابق ہر قانون عوام کی پہنچ اور رسائی میں ہونا چاہئے۔
کرنل (ر) انعام الرحیم نے تسلیم کیا کہ قانون کی کتابوں میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے متعلق کوئی خاص یا مخصوص قانون موجود نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں آئی ایس آئی کے امور کار اور تعیناتیوں سے متعلق قانون ہونا چاہئے کیونکہ کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے کسی متاثرہ شہری کو (قانونی) دادرسی دستیاب نہیں ہوتی۔
اس معاملے پر سینیئر قانون دان کامران مرتضیٰ بھی یہی کہتے ہیں کہ کوئی مخصوص قانون موجود نہیں جس کی بنیاد پر آئی ایس آئی کے ڈی جی ہی کی نہیں بلکہ ملک کے دیگر انٹیلیجنس اداروں میں تعیناتی کا عمل واضح انداز میں درج ہو۔ کامران مرتضیٰ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے انٹیلیجنس بیورو کے موجودہ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان خان کی سات مئی 2018 کو ہونے والی تعیناتی کا جاری کردہ نوٹیفیکیشن دکھاتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہے باضابطہ نوٹیفیکیشن جسے آفیشل گزیٹ میں شائع کیاگیا ہے، لیکن اس نوٹیفیکیشن میں کسی قانون کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔‘
سینیئر قانون دان سلمان اکرم راجہ نے وجوہات بیان کیں کہ پاکستان میں انٹیلیجنس ایجنسیوں کے امور کار اور تعیناتیوں سے متعلق قانون کیوں موجود نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’آئی ایس آئی کو ایک ‘اِنٹرنل چارٹر’ کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے جو ایک خفیہ دستاویز ہے۔‘ جسٹس (ر) طارق محمود نے کہا کہ آئی ایس آئی جس منشور کے تحت کام کرتی ہے، اسے خفیہ دستاویز کے طور پر رکھنے کی وجہ ہے۔ اُن کے مطابق ’اس کی وجہ یہ ہے کہ آئی ایس آئی ایک خفیہ ادارہ ہے ۔۔۔ اس کے ارکان اپنی شناخت عوام سے چھپاتے ہیں، وہ اپنی کارروائیاں خفیہ رکھتے ہیں۔۔۔ لہذا جس منشور کے تحت وہ کام کرتے ہیں، وہ بھی خفیہ ہے۔‘ تاہم کامران مرتضیٰ کا استدلال ہے کہ کوئی بھی قانونی دستاویز جو عوامی دستاویز نہ ہو، اسے قانون قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر یہ عوام کے سامنے نہیں تو یہ قانون نہیں کیونکہ معاشرے میں رہنے والے افراد کو علم ہونا چاہیے کہ معاشرے میں کیا قانون رائج یا لاگو ہے۔ کیونکہ اس میں ارتکاب جرم کا پہلو شامل ہے لہذا ریاست کسی شہری کو ایسے عمل پر سزا بھی نہیں دے سکتی جس کے بارے میں قانون کا عوام کو سرے سے علم ہی نہ ہو۔
کامران مرتضی نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر بحث چھڑنے کے بعد انھوں نے تین دن صرف کیے، قانون کی کتابیں چھانیں تاکہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے طریقہ کار یا عمل کے بارے میں کسی قانون کا پتہ چل سکے۔ انھوں نے کہا کہ ’تلاش بسیار کے بعد مجھے صرف پاکستان آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 بی ملا ہے جسے کھینچ کھانچ کر اور استعمال کر کے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘ آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 بی کچھ یوں ہے کہ ’مسلح افواج میں عارضی تبادلہ وفاقی حکومت تحریری حکم کے ذریعے کر سکے گی جن کا سیکشن 2 کی شق (اے) کی ذیلی شق (1) میں حوالہ دیاگیا ہے۔‘ کامران مرتضیٰ کے مطابق اس مخصوص قانون کی شق مبہم ہے اور براہ راست ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے متعلق نہیں۔ چونکہ یہ سیکشن ان شرائط کو بیان کرتا ہے جس کے تحت ایک آرمی افسر کو وفاقی اداروں میں خدمات کی انجام دہی کے لیے بھیجا جا سکتا ہے تو ممکنہ طور پر یہ قانون ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر لاگو ہو سکتا ہے۔
کرنل (ر) انعام الرحیم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ آرمی کے تنظیمی ڈھانچے کے اندر ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی معمول کی تعیناتیوں اور تبادلوں کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آرمی کے اندر لیفٹیننٹ جنرل یا اس کے مساوی عہدوں پر تمام تعیناتیاں وزیراعظم کرتا ہے۔ کرنل (ر) انعام الرحیم بتاتے ہیں کہ’آٹھ اکتوبر2020 کو ترمیم شدہ رولز آف بزنس 1973 (قواعد کار) کے مطابق کرنل کے عہدے سے اوپر یعنی بریگیڈیئر اور اس سے اوپر کی تمام تقرریاں وزیراعظم کی منظوری سے کرنا ہوں گی۔ 2) بشرطیکہ آرمی کے لیفٹیننٹ جنرل یا دیگر دفاعی افواج کے مساوی درجہ کے عہدے پر تقرریاں وزیراعظم صدر مملکت کی مشاورت سے کریں گے۔
انعام الرحیم نے کہاکہ مذکورہ بالا حقیقت سے بظاہر متعلقہ اور متصادم واضح حقیقت یہ ہے کہ تمام تعیناتیاں اور تبادلے خالصتاً چیف آف آرمی سٹاف کی صوابدید ہے۔ اُن کے مطابق ’افسران کی تقرریاں اور تبادلے خالصتاً چیف آف آرمی سٹاف کی صوابدید پر ہے اور ہر افسر کی تعیناتی کا حکم ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے کہ ‘چیف آف آرمی سٹاف درج ذیل تعیناتیوں کا حکم دیتے ہیں۔
کرنل (ر) انعام الرحیم نے کہا کہ ’آرمی ہائی رارکی‘ میں کوئی تعیناتی وزیراعظم کی منظوری کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ یہ صورتحال بہت سارے سوالات پیدا کرتی ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ڈی جی آئی ایس آئی کی سلیکشن اور مشاورت کے عمل میں وزیراعظم کو بائی پاس یا نظر انداز کیا گیا؟
قانونی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کی رائے اس حوالے سے منقسم ہے۔ سول ملٹری تعلقات کے ماہر حسن عسکری کہتے ہیں کہ بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ آرمی قیادت نے وزیر اعظم کے زبانی احکامات پر جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے، انھوں نے کاغذی کارروائی مکمل ہونے کا انتظار نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ ہم یہ صورتحال دیکھ رہے ہیں۔
یہ ہی وجہ ہے کہ جب زیراعظم نے اعتراض کیا تو تقرریوں اور تبادلوں کا تمام عمل رک گیا۔ حتی کہ 6 اکتوبر 2021 کو جاری ہونے والے پریس ریلیز میں جن تقرریوں کا ذکر تھا، ان پر بھی عملدرآمد عارضی طور پر رک گیا۔‘ حسن عسکری نے کہا کہ پروفیشنل افواج تقرریوں اور تبادلوں کے داخلی امور میں سویلین مداخلت قبول نہیں کرتیں۔ ریاستی امور کے انتظام میں ہر چیز ایک مخصوص قانون کے تحت انجام نہیں دی جاتی، بعض اوقات کنونشن اور روایات اس ضمن میں زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہیں اور یہی معاملہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا بھی ہے۔ حسن عسکری کے مطابق یہ کام کنونشن اور روایات کے تحت کیا گیا ہے۔
فوج اور سلامتی سے متعلق امور کے تجزیہ کار سعید شفقت نے اس خیال کو قطعی طور پر مسترد کر دیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے عمل میں وزیراعظم کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انھوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر سویلین قیادت آرمی کے طریقہ کار اور اس کے امور کی انجام دہی کے عمل سے قطعی بے بہرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ سویلین قیادت نے یہ سمجھنے کی کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کیں کہ آرمی کیسے فوج کی اعلی ترین قیادت کے اتفاق رائے سے کام کرتی اور امور انجام دیتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ وزیراعظم کو بائی پاس کیا گیا ہے۔ یہ اعتماد کا معاملہ ہے جو دونوں کے درمیان تنہائی میں ہونے والی بات چیت میں طے پایا۔ میں زیادہ وزن اسے دوں گا جو چیف آف آرمی سٹاف نے تحریری طور پر بھیجا۔‘
