کیا فوج تحریک طالبان کی دہشت گردی روک پائے گی؟

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے سیز فائر کے خاتمے کے بعد سے بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر ہماری سکیورٹی ایجنسیز اس کی کمر کیوں نہیں توڑ پا رہیں اور اس کے خود کش بمبار اسلام آباد تک کیسے پہنچنا شروع ہوگئے ہیں؟

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ غلط تھا کیونکہ دہشت گردوں نے اس عمل کو اپنا نیٹ ورک مضبوط کرنے اور پاؤں جمانے کے لیے استعمال کیا جس کا خمیازہ آج ہم سب بھگت رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے بعد جس تیزی سے حالات بگڑے ہیں، اس کی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومت مسلسل ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں لیکن اندر خانے حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالات کی خرابی کی اصل ذمہ دار سابقہ فوجی قیادت ہے جس نے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا اور جس کے نتیجے میں ہزاروں طالبان جنگجو افغانستان سے واپس پاکستان آگئے۔

حکومت پاکستان اور تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات کی معطلی اور پھر جنگ بندی کے خاتمے کے بعد شدت پسندوں کی جانب سے گذشتہ ایک ماہ میں 65 سے زیادہ حملے کیے گئے، جن میں 75 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر پولیس اور سیکیورٹی اہلکار تھے۔ مئی 2022 میں جب تحریک طالبان پاکستان نے جنگ بندی کا اعلان کیا تو اس کے بعد خیبر پختونخوا کے قبائل اضلاع ہوں یا ملک کے دیگر علاقے سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں اور عام شہریوں پر حملے لگ بھگ رک گئے تھے۔

تاہم جنگ بندی کے خاتمے کے بعد بڑے پیمانے پر شدت پسندوں نے ایک نئی شدت سے حملے شروع کیے جن کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ایک دن میں چار سے پانچ یا اس سے بھی زیادہ حملے کیے گئے جن میں سے بیشتر کا نشانہ تھانے اور پولیس کی گاڑیاں، سیکیورٹی فورسز کے قافلے اور چوکیاں بنیں۔ اگرچہ یہ واقعات خیبر پختون خوا اور بلوچستان سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہوتے رہے ہیں لیکن اسلام آباد میں حالیہ خودکش دھماکے کے بعد لوگوں میں اب خوف مزید بڑھ گیا ہے، دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے بظاہر ایسا تاثر اُبھرا ہے کہ جیسے ملک میں امن کا قیام تحریکِ طالبان کی مرضی پر منحصر ہو اور وہ جب چاہیں سکیورٹی کی صورتحال کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد واقعے کے بعد یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی روک تھام کے لیے پولیس اور سکیورٹی اداروں کے پاس کوئی منظم منصوبہ نہیں ہے۔

اپریل میں جب وفاق میں تحریکِ انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو وہ تمام شدت پسند تنظیموں سے مذاکرات کی پالیسی کا اعلان کر چکی تھی لیکن موجودہ اتحادی حکومت بظاہر مذاکرات کے حق میں نہیں تھی۔ تاہم جولائی میں وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی نے عسکری قیادت کو ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا اختیار دے دیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ عسکری قیادت مذاکرات سے متعلق ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کرے گی اور اس کے بعد اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی۔

تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحریک طالبان کی دہشت گردی سے خوف زدہ ہو کر ان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو یہ ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا. وزیر خارجہ بلاول بھٹو پہلے ہی مذاکراتی عمل کی بجائے دہشت گردوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی تجویز دے چکے ہیں، آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ کور کمانڈرز کانفرنس میں ٹی ٹی پی کے حملوں کے بعد سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور کہا گیا کہ دہشت گروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔

 یاد رہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں جنرل قمر باجوہ کی زیر قیادت تب کے آئی ایس ائی سربراہ فیض حمید نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات شروع کیے تھے۔ انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ اب چونکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوچکی ہے لہٰذا وہ پاکستانی طالبان کو ہتھیار پھینکنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔ تاہم ٹی ٹی پی قیادت کے مطالبات اتنے زیادہ تھے کہ مذاکرات ناکام رہے۔ ویسے بھی پاکستانی طالبان کے ذہن پر یہ سوچ ہو چکی ہے کہ اگر افغان طالبان ایک ملک کے حکمران بن سکتے ہیں تو وہ پاکستان کے حکمران کیوں نہیں بن سکتے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا یہ خیال ہے کہ شاید ریاست ٹیسٹ کرنا چاہ رہی تھی کہ جب طالبان واپس آئیں گے تو ردِ عمل کیا ہوگا، جب ان کی واپسی شروع ہوئی تو بہت سخت ردِ عمل آیا جس کے بعد ریاست کو بھی اپنی پالیسی کا جائزہ لینا پڑا اور سیز فائر بالآخر ختم کیا گیا۔

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین میں کسی بھی دہشت گرد گروہ سے مذاکرات کی گنجائش نہیں اور جو کوشش سرکاری سطح پر کی گئی وہ ایک سنگین غلطی تھی جس سے طالبان کو اپنے ٹھکانے بنانے کے مواقع ملے اور اب شدت پسند مختلف علاقوں میں پھیل چکے ہیں۔

Back to top button