کیا مریم کو اپنا میک اپ آرٹسٹ بدلنے کی ضرورت ہے؟


تین دہائیاں ملکی سیاست اور حکومت پر راج کرنے والے سابق وزیراعظم نوازشریف کی بیٹی مریم نواز کی مزاحمتی اور جارحانہ سیاست آج کل ٹاک آف دی ٹاؤن ہے۔ ویسے تو مریم تین بچوں کی والدہ ہیں لیکن ان کی سیاسی عمر کا حساب لگائیں تو وہ ”ٹین ایجرز“ میں شمار ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے حکومت اور طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں اور ملکی سیاست میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ مگر یہ بھی ایک سچ ہے کہ چونکہ خواتین سیاست دان اس ملک میں مرد سیاستدانوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی زیرِ عتاب رہتی ہیں۔ شادی، شوہر اور بچوں سے لے کران کے فیشن سینس تک ہر چیز ہر کڑی تنقید کی جاتی ہے۔ کون سی خاتون سیاست دان کیا پہنتی ہیں، کتنا میک اپ کرتی ہیں، کون سے برانڈز استعمال کرتی ہیں؟ یہ سب ڈسکس یوتا ہے۔ اور ایسا صرف ایشیائی ممالک میں ہی نہیں ہوتا، یورپ اور امریکہ کی سیاستدان خواتین بھی تنقیدنگاروں کے نشانے پر رہتی ہیں۔
تاہم یورپی خواتین سیاستدان بناؤ سنگھار میں ایشیائی خواتین سے چند قدم پیچھے ہی ہیں۔ ان کی اکثریت نو میک اپ لُک کو ترجیح دیتی ہے اور زیورات کا استعمال بھی بہت کم کرتی ہے۔ بیشتر سیاستدان خواتین کے کانوں اور گلے میں آپ کو گولڈ کی بجائے وائیٹ پرل نظر آئیں گے، جس سے وہ کافی ڈیسنٹ نظر آتی ہیں۔ برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر بھی ہمیشہ پرلز کا نیکلس اور ٹاپس پہنتیں، جس کا فیشن میگزینز میں بھی بہت چرچا ہوتا تھا۔ تھیچر باقاعدہ میک اپ کی شوقین تھیں۔ فاؤنڈیشن، پاؤڈر، آئی شیڈ، بلش آن اور لپ سٹک، ان کا میک اپ ان اشیاٴ کے بغیر ادھورا تھا۔ انہی کی طرح جرمنی کی انجیلا مرکل بھی گلے میں پرلز کا نیکلس ضرور پہنتی ہیں مگر ان کے کان اکثر خالی ہوتے ہیں۔ لائیٹ کلر کے شارٹ ہیئر ، لائیٹ آئی بروز، ہلکا فاؤنڈیشن اور لائیٹ کلر کی لپ سٹک، یہ ہے انجیلا کی کل تیاری۔۔۔جبکہ ہیلری کلنٹن نیکلس کی بجائے ٹاپس شوق سے پہنتی ہیں، شارٹ بالوں والی ہیلری کو لائیٹ میک اپ پسند ہے مگر ان کی لپ سٹک کے شیڈز عام طور پر ڈارک ہی ہوتے ہیں۔ ناروے کی وزیراعظم ارینا سابرک بھی لائیٹ میک اپ کرتی ہیں لیکن آئی بروز کو شیپ اپ کرنا نہیں بھولتیں، اسی طرح انھیں کانوآ میں جڑاؤ ٹاپس پہننا اچھا لگتا ہے۔ لائبیریا کی صدر ایلن جانسن بھی آپ کو ہمیشہ نو میک اپ لُک میں نظر آئیں گی، البتہ وہ بھی گلے میں پرلز پہننا نہیں بھولتیں۔ میانمار کی آنگ سان اگرچہ بال ڈائی کرتی ہیں لیکن ان کا میک اپ بھی نمایاں نہیں ہوتا۔ لائیٹ براؤن بالوں والی چلی کی صدر مشعل بیمثلٹ بھی پرلز ہی پہنتی ہیں مگر وہ جب بھی میک اپ کریں، آئی شیڈ ان کے میک اپ کا لازمی جُز ہوتا ہے۔ ڈنمارک کی سابق صدر ہیلی سمتھ بھی آئی شیڈ لگانا نہیں بھولتی تھیں، ان کے آئی بروز بہت باریک تھے اور وہ انھیں باقاعدہ شیپ اپ کرتی تھیں۔ انھیں گھڑی اور بریسلیٹ پہننا بھی کافی پسند تھا۔ تائیوان کی صدر تسائی آنگ وان کا ہیئرسٹائل شارٹ باب ہے، جس کے ساتھ انھیں نظر کا چشمہ بہت سوٹ کرتا ہے۔ تسائی بھی برائے نام میک اپ کرتی ہیں۔
برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے بھی شارٹ ہیئر ہیں لیکن یورپ کی دیگر خواتین ساستدانوں کی نسبت وہ قدرے ڈارک میک اپ کرتی ہیں۔ فاؤنڈیشن، آئی شیڈ، لپ سٹک، وہ کچھ نہیں بھولتیں۔ تھریسا مے کو کانوں میں پرلز پہننا بھی پسند ہے۔ اسی طرح پولینڈ کی وزیراعظم کے بھی شارٹ ہیئر ہیں مگر وہ ہمیشہ نو میک اپ لُک میں ہی نظر آتی ہیں۔انڈیا کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کی بھی نو میک اپ لُک ہوتی البتہ وہ پاؤڈر کا استعمال باقاعدگی سے کرتی تھیں۔ ان کا بلیک اینڈ وائیٹ ہیئر سٹائل تو ان کی پہچان تھا۔ سونیا گاندھی بھی یورپیئن خواتین کی طرح کانوں میں اکثر پرلز ہی پہنتی ہیں۔ ان کا میک اپ بھی لائیٹ ہوتا ہے، اگرچہ وہ کاجل باقاعدگی سے لگاتی ہیں لیکن آئی بروز کو شیپ اپ نہیں کرتیں۔۔۔ہاں عوامی اجتماعات میں سونیا تلک لگانا کبھی نہیں بھولیں۔ شیخ حسینہ واجد بھی سمپل خاتون ہیں اور بہت لائیٹ میک اپ کرتی ہیں۔ آنکھوں پر چشمہ اور سر پر ساڑھی کا پلو، یہی ان کا سٹائل ہے۔ سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو کا یونیک سٹائل شاید ہی کوئی بھُلا سکے۔ گلے میں چین، کانوں میں چھوٹے چھوٹے بُندے یا ٹاپس، لائیٹ لپ سٹک اور آنکھوں میں بھر بھر کر کاجل لگانے والی بے نظیر بھٹو کی اصل پہچان ان کا دوپٹہ تھا جو وہ ہر قسم کے ڈریس کے ساتھ بڑے اہتمام سے اوڑھتیں۔ وہ عام طور پر لائیٹ میک اپ ہی کرتیں لیکن شادی بیاہ کی تقریبات کے لئے بڑے اہتمام سے تیار ہوتیں۔ اب ان کی چھوٹی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری بھی باقاعدہ میدانِ سیاست میں اُتر چکی ہیں اور آصفہ میں آپ کو جا بجا بےنظیر کی جھلک نظر آئے گی۔ وہی میک اپ، لائیٹ لپ سٹک، آنکھوں میں کاجل کی جگہ کبھی کبھار لائنر اور دوپٹہ اوڑھنے کا وہی انداز۔۔۔
جہاں تک مریم نواز کا تعلق ہے، وہ اپنی والدہ کلثوم نواز کے برعکس ماڈرن میک اپ میں نظر آتیں ہیں۔ کلثوم نواز کا میک اپ اکثر نمایاں ہوتا، وہ ہمیشہ اہتمام سے تیار ہوتیں، ڈائمنڈ اور گولڈ کی جیولری ان کی شخصیت کا خاص حصہ ہوتے ہیں۔ وہ گولڈ کے کڑے اور چوڑیاں پہننے کی بھی شوقین ہیں۔ ویسے تو مریم بھی ڈائمنڈ اور گولڈ ہی پہنتی ہیں لیکن جیولری میں ان کی چوائس مخصوص ہے۔ آپ انھیں اکثر ٹاپس، رنگز اور بریسلٹ وغیرہ ہی پہنے دیکھیں گے۔ ناقدین کی جانب سے مریم کے میک اپ کے حوالے سے البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ انھیں اپنی میک اپ آرٹسٹ بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مریم شفاف جِلد کی مالک ایک گوری چٹی اور حسین خاتون ہیں، ناقدین کہتے ہیں کہ سیاستدان ہونے کے ناطے انھیں ہیوی بیس اور میک اپ کی ضرورت نہیں۔ یاد رہے کہ نہ صرف مریم کی میک اپ بیس بلکہ ان کی آئی بروز کی شیپ بھی کافی ہیوی ہوتی ہے۔ اب یہ تو ان کے میک اپ آرٹسٹ ہی بتا سکتے ہیں کہ ان ڈور پارٹی میٹنگز اور ڈے لائٹ میں ہونے والے عوامی اجتماعات میں ان کا یکساں میک اپ کیوں ہوتا ہے؟
بہرحال یہ طے ہے کہ مریم نواز نے جب سے میدانِ سیاست میں قدم رکھا ہے، لوگ حنا ربانی کھر کے برانڈڈ بیگز، گلاسز اور جوتے بھول گئے ہیں۔ گرمیاں ہوں یا سردیاں، مریم نواز پارٹی میٹنگز میں ہی نہیں عوامی اجتماعات میں بھی قیمتی برانڈز کے جوڑے پہنتی ہیں حتیٰ کہ ان کے جوتے اور بیگز بھی دنیا کے مہنگے ترین برانڈز کے ہوتے ہیں اور اکثر سوشل میڈیا پر زیر بحث رہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button