کیا نواز شریف کوئٹہ جلسے میں ایک اور دھماکہ کرنے والے ہیں؟


16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں نواز شریف کی جانب سے ایک دھواں دھار اینٹی اسٹیبلشمنٹ تقریر کے بعد اب اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے میں نواز شریف دو قدم اور آگے بڑھ کر مذید دھماکا خیز گفتگو کر سکتے ہیں جس سے پاکستانی سیاست اور آگے کی جانب بڑھے گی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کی اگلی تقریر کے بعد پاکستانی میڈیا میں موضوع بحث وہ نہیں ہوگا جو آج تک ہے اور بات اس سے کہیں آگے چلی جائے گی۔
یاد رہے کہ 16 اکتوبر کی گوجرانوالہ تقریر میں نواز شریف نے فوجی قیادت کو چارج شیٹ کرتے ہوئے یہ الزام لگایا تھا کہ ان کو اقتدار سے رخصت کر کے عمران خان کو وزیراعظم بنانے کی سازش میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پوری طرح ملوث تھے اور اسی لیے آج پاکستان اور عوام کے مسائل اور مصائب کی بنیادی ذمہ داری بھی عمران کو لانے والوں پر عائد ہوتی ہے۔ نواز شریف کی اس تقریر نے پاکستانی سیاست میں ایک بھونچال پیدا کر رکھا ہے۔ ان کی اس تقریر کے دو روز بعد کراچی میں ہونے 18 اکتوبر کے جلسے سے نوازشریف نے خطاب نہیں کیا۔ لیکن اب مریم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ان کے والد کوئٹہ میں ہونے والے 25 اکتوبر کے جلسہ سے ایک بار پھر خطاب کریں گے۔ لہذا یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کوئٹہ خطاب میں نواز شریف ایک قدم اور آگے بڑھیں گے اور مزید سنسنی خیز تقریر کریں گے۔ شاید اسی لیے بلاول بھٹو زرداری نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کوئٹہ کے جلسے میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔
 سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے اپوزیشن کے اتحاد سے ایک ہی تقریر کی ہے لیکن اس ایک تقریر سے ہی بہت کچھ بدل چکا ہے اور یہ بیانیہ دم توڑ گیا ہے کہ نواز شریف کسی ڈیل کے متلاشی ہیں اور این آر او مانگ رہے ہیں۔ یہ اور بات کے وزیراعظم عمران خان ابھی تک این آر او کی لکیر پیٹتے چلے آرہے ہیں۔ اس حوالے سے سینئر صحافی عمار مسعود اپنے ایک تجزیے میں لکھتے ہیں کہ آج تک ہم سنتے چلے آئے ہیں کہ پنجاب نے ہمیشہ طاقتوروں کے سامنے سر خم کیا۔ کسی لیڈر نے ہمت نہیں دکھائی ، کسی نے جرات کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہر ایک پنجابی حکمران نے غیر جمہوری قوتوں کی مدد سے اس ملک پر حکمرانی کی۔ ہمیشہ پنجابیوں کی’’کنڈ‘‘ لگوائی۔ لیکن اب یہ بات ختم ہو گئی ہے۔ نواز شریف نے جو کچھ ایک تقریر میں کہہ دیا وہ کہنے کی کسی کو جرات نہیں رہی۔ پنجابیوں کے چہرے سے دہائیوں کی بدنامی کا یہ داغ نواز شریف نے ایک ہی تقریر میں دھو دیا۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ تقریریں تو بہت سی ہوتی ہیں لیکن اس ایک تقریر کے بعد اب وہ بات جو لوگ ادھر ادھر دیکھ سن کر کہتے تھے ،اِس کا اظہار برملا کرنے لگے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کی بات اب صرف سیاسی مبصرین یا دانشوروں کی بحث نہیں رہی۔ اس کا ذکر گلی کوچوں میں ہو رہا ہے۔ بنیادی تبدیلی ہمیشہ عوام سے اٹھتی ہے۔ یہ بیانیہ اب عام لوگوں تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔ اس بیانیے کی پذیرائی صرف پنجاب میں ہی نہیں رہی اس کا اثر اب تمام پاکستان میں ہو رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی گوجرانوالہ میں دھواں دار اینٹی اسٹیبلشمنٹ تقریر کے بعد اب عمران خان نہ کسی کا ہدف ہیں اور نہ ہی کوئی ان کو موضوع بنا رہا ہے۔ مریم نواز نے کھلم کھلا کہہ دیا ہے کہ بڑوں کی لڑائی میں عمران خان کا کوئی کام نہیں۔ ویسے بھی نواز شریف کی تقریر سے موجودہ جمہوری سیٹ اپ کی قلعی کھل گئی ہے۔ اب آئی جی اغوا ہو رہا ہے، خواتین کے دروازے توڑے جا رہے ہیں، ظلم اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہے ، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔ لیکن ان واقعات کے ردعمل میں جو انہونی ہوئی وہ یہ کہ پولیس کے سینئر افسران نے ملک کی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور رینجرز کی دشنام طرازیوں کے خلاف بغاوت کر دی جس کے نتیجے میں آرمی چیف کو ان ایجنسیوں کے خلاف ایک انکوائری کا حکم جاری کرنا پڑا۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ دراصل یہ سب آگہی کے مرحلے ہیں اور اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ اس ملک کے عوام کو یہ آگہی نواز شریف کی ایک تقریر سے حاصل ہوئی ہے۔ لیکن اب بھی بہت سے سوال تشنہ ہیں۔ ایک صوبے کی پولیس کے ردِعمل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاملات ٹھیک ہوگئے ہیں اور جمہوریت کا بول بالا ہو گیا ہے۔ پارلیمان کی عزت بحال ہو گئی ہے۔ ووٹ کو عزت ملنے لگی ہےیا پھر اب عوام کی توقیر ہونے لگی ہے۔ عمار کے مطابق ابھی تو ایک لمبے سفر کی شروعات ہوی ہے۔ ابھی بہت سے مرحلے باقی ہیں اور بہت کچھ ہونا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اصل تبدیلی ذہنوں میں آچکی ہے۔ اندھیرا گھٹ رہا ہے ، خوف کے بادل چھٹ رہے ہیں۔ امید کا دامن وسیع ہو رہا ہے۔ نئے امکانات سامنے آ رہے ہیں۔
ان حالات میں عوامی ذہنوں میں ایک ہی سوال ہے کہ اس نااہل اور ناکام حکومت سے کب نجات ملے گی؟ کیا اس بار بھی تبدیلی کا پیش خیمہ بلوچستان کی اسمبلی ثابت ہو گی؟ کیا حکومت کی بساط سینیٹ الیکشن سے پہلے لپٹ جائے گی؟ نئی حکومت کس پارٹی کی آئے گی؟ کیا پی ڈی ایم کا اتحاد قائم رہے گا؟ کیا وزیر اعظم اسمبلی توڑ دیں گے یا کیا اسمبلی میں’’اندر‘‘ سے کوئی تبدیلی آئے گی اعر پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک بنے گا؟ کیا عمران خان کی جگہ پی ٹی آئی کسی اور کو پارٹی کی قیادت سونپے گی؟ کیا نواز شریف چوتھی دفعہ وزیر اعظم بنیں گے یا مریم نواز کو چانس ملے گا؟ کیا اس دفعہ بھی تبدیلی زور آوروں کی مدد سے آئے گی یا عوام کا بھی اس میں کوئی عمل دخل ہو گا؟ کیا عوام ایک چنگل سے نکل کر کسی دوسرے جال میں تو نہیں پھنس جائیں گے؟ کیا میڈیا کی زبان سے تالے ہٹائے جائینگے ؟ کیا نفرت کی سیاست ختم ہو گی؟ کیا نیب کا قانون تبدیل ہوگا؟ نئے الیکشن کب ہوں گے؟ کیا اس دفعہ بھی جھرلو پھر جائے گا یا انتخابات منصفانہ ہوں گے؟
تجزیہ کار عمار مسعود کے مطابق ان تمام سوالات کے جوابات کا انحصار نواز شریف کی دوسری تقریر پر ہو گا۔ میں نہیں جانتا کہ اس تقریر میں کیا ہو گا لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ دوسری تقریر کے بعد ہمارا موضوع بحث وہ نہیں ہو گا جو آج کل ہے۔ بات اس سے کہیں آگے چلی گئی ہو گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button