کیا نگران حکومت کی مدت میں توسیع ممکن ہے؟

وزیراعظم شہباز شریف اعلان کر چکے ہیں کہ آئندہ ماہ مدت ختم ہونے سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔ اس اعلان کے بعد آئینی طور پر الیکشن کمیشن 90روز کے اندر انتخابات کروانے کا پابند ہے تاہم سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے اب بھی چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ نگران سیٹ اپ 90 روز سے زیادہ کی مدت کے لیے تشکیل دیا جائے گا۔پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات وقت پر نہ ہونا بھی غیر یقینی صورت حال کا سبب بن رہا ہے۔دوسری طرف نگران حکومت کی مدت میں توسیع کے حوالے سے ماہرین کی آراء مختلف نظر آتی ہیں
نگران حکومت کی مدت میں توسیع کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سابق وزیرقانون اور سینئیر قانون دان خالد رانجھاکا کہنا تھا کہ “آئین میں انتخابات کروانے کی مدت اسمبلی قبل از وقت تحلیل ہونے کی صورت میں 90روز درج ہے تاہم جب بھی مارشل لاء نافذ ہوتا ہے وہ ابتداء میں 90روز کے لیے ہی آتا ہے، بعد میں 9 سال گزر جاتے ہیں۔”اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “نگران حکومت کی مدت میں توسیع کا راستہ صرف سپریم کورٹ ہی سے نکل سکتا ہے۔ آئین میں ایسی کوئی گنجائش تو موجود نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ایسا کوئی حکم نامہ صادر کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔”
دوسری جانب پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ “آئین میں نگران حکومت کی مدت کا تعین نہیں ہے صرف 90روز میں انتخابات کروانے کی پابندی ہے،”انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر ایسا کوئی آپشن موجود نہیں ہے کیونکہ آئین میں اس کی مدت کا ذکر ہی نہیں ہے، نگران سیٹ اپ اگلی حکومت قائم ہونے تک اور ایک خلاء کو پر کرنے کے لیے ہے، آئین میں جو مدت ہے وہ الیکشن کی ہے اور وہ بہت واضح ہے۔”کیا مردم شماری انتخابات میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہے؟احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ آئین کہ مطابق جب نئی مردم شماری ہوتی ہے اور اس کے نتائج شائع ہو جائیں تو حلقہ بندیاں نئی مردم شماری کے مطابق ہوں گے لیکن اس کے لیے آئین کے آرٹیکل 51 سیکشن فائیو اور سیکشن تھری میں ترمیم کرنا پڑے گی جس میں آبادی کے لحاظ سے حلقہ بندیاں ہونا ہیں لیکن چونکہ آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہوسکتی اس لیے سنہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق ہی انتخابات ہوں گے۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے آئندہ عام انتخابات رواں برس نومبر میں کروانے کا عندیہ دینے کے بعد اپنے اتحادیوں کے ساتھ نگران سیٹ اپ کے قیام کے لیے مشاورت شروع کر دی ہے۔اسی حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ اور وزیر برائے انسداد منشیات نوابزادہ شاہ زین بگٹی سے ملاقات کی۔یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل اتوار کو وزیراعظم نے لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی تھی۔امکان ہے کہ وزیر اعظم آئندہ 2 روز میں حکمران اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے سربراہان سے ملاقات کریں گے۔
دوسری طرف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ ریاض احمد نے اعلان کیا ہے کہ وہ نگراں وزیراعظم کے تقرر کے حوالے سے صلاح مشورے میں اپنی مرضی کرینگے اور باہر سے کسی کی رائے نہیں لیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ18جولائی کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں ۔ قائد ایوان وزیراعظم شہباز شریف دستیاب ہوئے تو ان سے ملاقات ہوجائے گی اور نگراں حکومت کے بارے میں تبادلہ خیال ہوسکتا ہے۔ ایک استفسار کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان سے اس معاملے میں لازماً گفتگو ہوگی فی الوقت یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ نگراں وزیراعظم کی حیثیت سے نامزدگی کے لئے ان کی سفارشات کیا ہوگی۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 20جولائی کو طلب کیا جارہا ہے اس سلسلے میں وزیراعظم کے لئے سمری ارسال کردی گئی ہے جس کی بنیاد پر وہ صدر مملکت کوایڈوائس جاری کرینگے۔ قومی اسمبلی کی مدت پورا ہونے تک یہ اجلاس جاری رہے گا اس طرح یہ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کا الوداعی اجلاس ہوگا۔ پارلیمانی ذرائع نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس امر کا یکساں امکان موجود ہے کہ قومی اسمبلی 13اگست کو اپنا آخری اجلاس منعقد کرکے معدوم ہوجائے یا اس سے دو تین دن پہلے تحلیل کردی جائے اس سلسلے میں معاملہ صلاح مشوروں سے مشروط ہے تیرہ اگست تک اجلاس جاری رہا تو الیکشن کمیشن ساٹھ روز میں عام انتخابات کرانے کا مکلف ہوگا بصورت دیگر اس پر نوے دن میں عام انتخابات کرانے کی پابندی ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں بھی قومی اسمبلی کی طرح انجام کو پہنچیں گی دونوں صوبوں میں بھی نگراں حکومتوں کے قیام کی خاطر اسمبلیوں کےقائد ایوان جو بلحاظ منصب وزیراعلی ہیں اپنے اپنے قائد حزب اختلاف سے آئندہ ہفتے مشاورت کرینگے۔ بتایا جاتا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں پیش آمدہ ایام میں ہونے والے صلاح مشورے غیر رسمی نوعیت کے ہونگے غالب امکان یہی ہے کہ باضابطہ مشاورت اگست کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔ ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ اگر وزیراعظم یا کسی وزیراعلیٰ نے صوبائی اسمبلی میعاد پورا ہونے سے پہلے توڑ دی تو پھر نگراں حکومت کا تقرر اسمبلی ٹوٹنے کے فوری بعد بھی مکمل کیا جاسکتا ہے۔ مبصرین کی رائے میں قومی اور صوبائی سطح پر حکومت اور حزب اختلاف ایک دوسرے کےساتھ اس قدر شیروشکر ہیں کہ کسی تنازعے کے پیدا ہونے کا اندیشہ موجود نہیں تاہم حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ’’فاصلوں‘‘ کو طبعی رنگ دینے کے لئے مشاورتی عمل میں ’’طوالت‘‘ کو جنم دیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے ممکنہ امیدواروں کے طور پر کچھ بڑی شخصیات کے نام گردش کر رہے ہیں تاہم ابھی تک اس حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ اگر حکومت 12 اگست (قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے) سے پہلے تحلیل ہوجاتی ہے تو انتخابات 90 روز کے اندر ہوں گے اور اگر اسمبلی اپنی مدت پوری کرتی ہے تو الیکشن کمیشن 60 روز کے اندر انتخابات کرانے کا پابند ہوگا۔
