کیا واقعی بشریٰ بی بی کے قبضے میں جن ہیں؟

چئیرمین تحریک انصاف جب اقتدار میں تھے تو ان کےمخالفین تواتر سے یہ الزامات دہراتے دکھائی دیتے تھے کہ ان کی حیثیت ایک طوطے کی مانند ہے جس کی جان سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے قبضے میں ہے۔یہ ہر فیصلہ ،ہر تعیناتی، بشریٰ بی بی کے جادو ٹونے نما مشورے بلکہ ان کے حکم کے مطابق کرتے ہیں ۔بظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ بیانیہ صرف اپوزیشن عمران خان کو زچ کرنے کیلئے بناتی ہے لیکن آہستہ آہستہ ایک وقت ایسا آیا کہ خود چئیرمین تحریک انصاف کے قریب سمجھے جانے والے رہنماؤں نے بھی ایسی باتیں کرنا شروع کر دیں ۔
اور یہاں تک کہنا شروع کردیا کہ بنی گالہ میں جھاڑ پھونک کا کام بخوبی سرانجام دیا جاتا ہے۔وہ ساتھ میں یہ بھی بتانے لگے کہ کیسے میٹنگز میں ہونے والے فیصلے بعد میں تبدیل ہو جاتے اور بشریٰ بی بی کس طرح اس وقت کے وزیر اعظم پر حاوی تھیں ۔اب بشریٰ بی بی کی ایک مبینہ ڈائری اور اس میں لکھے گئے احکامات یہ ثابت کرتے ہیں کہ جو بھی باتیں کی جا رہی تھیں وہ حرف بحرف سچ تھی ۔بشریٰ بیگم نہ صرف حکومتی امور میں مداخلت کرتی تھیں بلکہ وہ پارٹی قائدین ،خود عمران خان اور قانونی ٹیم تک کو کنٹرول کرتی تھیں اور انہیں ہدایات دیتی تھیںباخبر حلقے بتاتے ہیں کہ ڈائری کے چند صفحات سامنے آنا ابھی اس سلسلے کی ایک ہلکی سی جھلک ہے، آنے والے وقت میں پوری کی پوری ڈائری سامنے آ سکتی ہے۔
سابق خاتون اول کی ڈئری میں درج تحاریر نے پی ٹی آئی کی سیاسی حریفوں کو اور کھل کر بولنے اور بیانیے کا موقع فراہم کر دیا ہے اور ان کے الزامات کو سچ ثابت کر دیا ہے۔صرف حکومتی جماعتیں ہی نہیں خود چئیرمین تحریک انصاف کے قریب رہنے والے اہم رہنماؤں نے بھی کئی مواقع پر اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ بانی تحریک انصاف کے ہر فیصلے کے پیچھے بشریٰ بی بی تھی اور وہ چلوں کے ذریعے یہ فیصلے کرتی تھیں۔
پی ٹی آئی دور حکومت میں وزیر اطلاعات رہنے والی فردوس عاشق اعوان کے مطابق پنکی پیرنی کا عمران خان کوپر اتنا اثر تھا کہ وہ وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان سے جو چاہتیں کرواتی رہیں۔یہاں تک کہ جب کارکنان نے عمران خان کے لئے ‘مرشد کا نعرہ لگایا تھا تو عمران خان نے جواب دیا تھا کہ میں کسی کا مرشد نہیں ہوں کیونکہ میں تو خود بشریٰ بی بی کا مرید ہوں کیونکہ وہ میری مرشد ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اپنے دور حکومت میں جتنے بھی کام خان صاحب نے کیے، چاہے وہ پبلک سروس ڈلیوری تھی، گورننس کے مسائل تھے، ترقیوں یا تبادلوں کے معاملات تھے، جہاں جہاں خان صاحب نے ‘چین آف کمانڈ’ کی خلاف ورزی کی اس کے پیچھے مرشد کا ‘امر’ تھا جس کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ جب عمران خان اس ‘امر’ کو چیلنج نہیں کر سکے اور آنکھیں بند کر کے اندھی تقلید کرتے رہے تو اس کا پاکستان کو بہت نقصان ہوا۔
وزیراعظم عمران خان کی تیسری بیوی اور خاتون اول بشریٰ بی بی بظاہر سامنے نہیں آتیں لیکن اپنی غیرمرئی طاقت کی وجہ سے ہیڈلائنز میں ہمیشہ نمایاں رہتی ہیں۔ تاہم وہ جب بھی خبروں میں آتی ہیں ایک سنسنی لے کر آتی ہیں۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ ان کے قبضے میں کوئی جن یا مؤکل ہے جو ان کے ہر جنتر منتر کو سچ کر دکھاتا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ بشریٰ بی بی کے پاس ایک نہیں بلکہ دو دو جن ہیں لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں، اکثر عاملوں کے قبضے میں جن ہوتے ہیں اور عامل انہی کی مدد سے تعویذ دھاگے کرتے ہیں۔ ان جنوں کی خوراک عام طور پر کچا گوشت ہوتی ہے۔ بشریٰ بی بی کے مرید بھی انھیں نذر نیاز کی صورت میں کچا گوشت بھجواتے رہتے ہیں۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ جادو ٹونے کرتی ہیں اور اپنے بعض مریدوں سے پکا گوشت بھی منگواتی ہیں۔ خان صاحب کے گھریلو ملازمین کے مطابق بشریٰ بی بی اکثر خود بھی گوشت پکاتی ہیں، جو اتنی مقدار میں ہوتا ہے کہ اسے جن ہی کھاتے ہوں گے۔
بشریٰ بی بی کے مریدوں کا ان پر اندھا اعتقاد ہے کیونکہ وہ جو کہتی ہیں، ویسا ہی ہوتا ہے۔ عمران خان کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کے مشورے کے بغیر ایک قدم نہیں چلتے حتیٰ کہ بطور وزیر اعظم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران وہ جو تسبیح پڑھ رہے تھے، اس کے لئے بھی بشریٰ بی بی نے ہی انھیں کہا تھا۔ بشریٰ بی بی کو بہت سے لوگ جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عمران خان سے شادی کے بعد جب بھی وہ سامنے آٹی ہیں وہ سر سے پیر تک چادر اوڑھے رکھتی ہیں ان کی صرف آنکھیں ہی نظر آتی ہیں۔ البتہ عمران خان سے شادی سے پہلے وہ پردے کی اتنی پابند نہیں تھیں، ان کا چہرہ اکثر کھلا ہوتا تھا۔ اس کے باوجود ان کا شمار گوگل پر کثرت سے سرچ کی جانے والی خواتین میں ہوتا ہے۔
وہ کتنی طاقتور عاملہ ہیں؟ اس سوال کے جواب میں اتنا جان لینا کافی ہے کہ عمران خان کے مطابق ان کی طویل سیاسی جدوجہد کے باوجود ان کے وزیراعظم بننے کا سپنا پورا کرنے میں ان کی تیسری بیوی ہی کا ہاتھ ہے۔ عمران خان کا پیروں فقیروں کو ماننا، روحانیت کی جانب مائل ہونا، پنکی پیرنی کے آستانے پر حاضری دینا اور پھر انہی کا مرید ہو کر رہ جانا، اگر آپ نے مشہور ٹی وی سیریز "گیمز آف تھرون” دیکھ رکھی ہے تو یہ کہانی سمجھنا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔ سیریز کے اہم کردار ریڈ وومن (میلی سینڈر) کی طرح پنکی پیرنی بھی ایک خواب دیکھتی ہیں لیکن یہاں خواب کے کردار مقامی تھے۔ خیر پنکی پیرنی کو اپنے مؤکل کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار کی کرسی عمران خان سے زیادہ دور نہیں، تو انھوں نے ایک انوکھا عمل تجویز کیا اور وہ یہ کہ خان صاحب مانیکا خاندان کی کسی عورت سے نکاح کر لیں تو یہ منزل آسان ہو سکتی ہے۔ شاید وہ اپنی بہن یا بیٹی کو خاتون اول کے روپ میں دیکھ رہی تھیں۔ عمران خان نے پس و پیش سے کام لیا تو پنکی بی بی نے ایک نیا خواب دیکھا اور بتایا کہ عمران خان کی جس عورت سے شادی ہو گی وہ مانیکا خاندان کی بہو اور پانچ بچوں کی ماں ہو گی۔ دراصل بشریٰ مانیکا عمران خان کو کھونا نہیں چاہتی تھیں۔ یہاں کہانی نے ایک انوکھا موڑ لیا، باہمی مشاورت سے بشریٰ بی بی کے شوہر عطا مانیکا نے انھیں طلاق دے دی اور یوں بشریٰ بی بی کے خاتون اول بننے کی راہ ہموار ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ طلاق اور اس کے بعد عمران خان سے شادی کے فیصلے کو انتہائی خفیہ رکھا گیا، البتہ بچوں کو پہلے ہی اعتماد میں لیا جا چکا تھا۔ 2018 میں ایک نجی تقریب میں دوران عدت ہی دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے اور ٹھیک 6 ماہ بعد عمران خان، وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا رہے تھے۔
