عمرانڈوز غائب، عمران کے بعد زمان پارک بھی اجڑ گیا

توشہ خانہ کی گھڑیاں اور ہار چوری کنے کے جرم میں سابق وزیر اعظم عمران خان اس وقت اٹک جیل میں قید ہیں جس کی وجہ سے نعروں اور پارٹی ترانوں سے گونجنے والا عمران خان کا زمان پارک گھر اجڑے مزار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جہاں پر قیام پذیر بشریٰ بی بی صرف چلے کاٹنے میں مشغول دکھائی دیتی ہیں۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے دس ماہ کے دوران جہاں ہر وقت گانے ڈھول ڈھمکے رقص ترانے اور گائے جاتے تھے وہاں پر اب سڑکیں، چوک چوراہے، لان اوردریو دیواربھی ویران ہو چکے ہیں اور گذشتہ پانچ روز سے یہاں کسی نے چیئرمین پی ٹی آئی کے نام کا نعرہ لگانا تو دور کی بات بلدن آواز میں نام تک نہیں لیا، نہ ہی کوئی پوچھنے آیا کہ اسیری کے بعد قائد کے رونق خانہ اور اہلِ خانہ کے حالات کیا ہیں؟ ایک سکوت ہے جسے پرندوں کی چہچہاہٹ توڑتی ہے۔ گلیاں معمول کے مطابق خاموش، البتہ پارک آباد ہے جہاں بچے بڑے نصٖف سال کے بعد اپنی سرگرمیاں بحال کرسکے ہیں، جو اس سے پہلے عمران خان کو جیل بچانے سے بچانے کیلیے’ محافظین ‘ کی بستی بسا کر قبضے میں لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو توشہ خانہ تحائف میں سے سے حاصل کی جانے والی قیمتی گھڑی بیچنے اور اس کے بارے میں حقائق چھپانے پر سزا کے بعد گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا اور گرفتاری کے روز یہاں اپنے قائد کے حق اور ریاست و ریاستی اداروں اور شخصیات کے خلاف سخت گیر نعروں پر دو درجن کے قریب کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، جس کے بعد سے زمان پارک میں دوبارہ کسی نے نعرہ لگانے یا یکجہتی کیلیے جانا گوارا نہیں کیا۔ اور یہاں ویرانی چھا چکی ہے۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے وزارتِ عظمیٰ سے آئین کے تحت عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے سبکدوشی کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کیلئے اپنے آبائی گھر زمان پارک کو مرکز بنایا تھا اور اسی احتجاجی تحریک کے دوران زخمی ہونے کے بعد زمان پارک عام شہریوں کیلئے علاقہ غیر بن گیا تھا۔ اسے پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے کئی ایک ’مقابلوں‘ کے بعد واگزار کرایا جاسکا تھا تاہم نو مئی کے واقعات کے بعد یہ یہاں کارکنوں نے آنا چھوڑ دیا تھا۔

اس وقت جبکہ عمران خان جیل میں ہیں اور زمان پارک کے باہر ان پر جان وارنے کے دعوے کرنے والوں کی اکثریت الگ ’سیاسی باغ ‘ میں تازہ ہوا کے جھونکے لے رہی ہے تو زمان پارک کے درودیوار ایسی کئی دعوے داروں کی راہ تکتا ہے۔ مگر کوئی موومنٹ نہیں ہوتی۔ پانچ روز کے بعد پہلی موومنٹ پی ٹی آئی چیئرمین کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اس گھر سے اٹک جیل روانگی کے وقت صبح نو بجے ہوئی۔ اس سے پہلے بڑی موومنٹ یہاں سے سیکورٹی ڈیوٹی سے واپس بلائے جانے والے ایک سو ساٹھ سے زائد پولیس ملازمین کی روانگی سے ہوئی تھی۔

سابق وزیراعظم کی سیکیورٹی کیلئے دو ڈی ایس پی ، سات انسپکٹر اور مختلف ماتحت درجے کے ایک سو ساٹھ ملازمین تعینات کیے گئے تھے جبکہ انٹیلی جنس ڈیوٹی کرنے والے اہلکار اس کے علاوہ تھے ۔تاہم اب وہاں صرف ایک تھانیدار اور صرف چار اہلکار تعینات ہیں ۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جس کی سیکیورٹی مقصود تھی وہ ہی نہیں تو اب اس تعیناتی کا کوئی جواز نہیں البتہ گھر کی تکنیکی سیکیورٹی کے انتظامات موجود ہیں اور پولیس کی گشت کرنے والی ایک کار بھی ان گلیوں میں گھومتی دکھائی دیتی ہے ۔ گلیوں سے رکاوٹیں ختم کردی گئی ہیں اور مختلف مقامات پر رکھی گئی ریت کی بوریاں بھی ہٹا لی گئی ہیں ، کہیں پی ٹی آئی کا جھنڈا دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی چیئرمین کا کوئی پوسٹر اور تصویر دکھائی دیتی ہے ۔

زمان پارک کے باہر زندگی معمول پر ہے اور مقامی مکین اب یہاں آدھا سال کے شوروغل کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتے۔ وہ واک کرتے ہوئے پرندوں کو اڑاتے ہیں اوران کے چہچہانے پر مسکراتے ہیں۔ سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں نے تصدیق کی کہ زمان پارک میں عمران خان کے جیل جانے کے بعد انہیں ان کی اہلیہ سے یکجہتی کیلیے آنے والا کوئی نہیں دیکھا گیا ۔

Back to top button