کیا واقعی فوج عمران خان کے نیچے اور وہ اس کے اوپر ہیں؟


ماضی میں پاکستانی جرنیلوں کا پیشاب نکلنے کی باتیں کرنے والے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے فوجی قیادت پر تنقید کا مقصد میری حکومت کو نکالنے کے لیے فوج پر دباؤ ڈالنا ہے لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ فوج میرے اوپر نہیں بیٹھی، بلکہ میرے نیچے ہے۔ تاہم اس سے پہلے عمران خان بار بار یہ بتا چکے ہیں کہ فوج کی ایجنسیوں کو انکے سمیت ہر سیاستدان کے پل پل کی خبر ہوتی ہے اور وہ ان کے فون بھی سنتی ہیں۔

اپنے تازہ ٹی وی انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کے جلسوں میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ اور آئی ایس آئی چیف فیض حمید پر تنقید کی وجہ سے شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ خود سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹینینٹ جنرل ظہیر الاسلام کے ایما پر ڈی چوک میں دھرنا دے کر تب کے وزیراعظم نواز شریف کا استعفی مانگنے والے عمران خان نے اپوزیشن پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ لوگ فوج کو بلیک میل کر رہے ہیں کہ کسی طرح میری حکومت کو گرانے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن میں وزیر اعظم منتخب ہونے والے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں ‘جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعریف کرتا ہوں، کیونکہ میں پرانے آرمی چیفس کو بھی جانتا ہوں، لیکن اس طرح سے اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی آرمی چیف کو تنقید کا نشانہ بنانے سے فوج کے اندر ایک ردعمل آتا ہے۔ جنرل باجوہ ایک سلجھے ہوئے آدمی ہیں۔ ان کے اندر ٹھہراؤ ہے۔ اس لیے وہ برداشت کر رہے ہیں۔ کوئی اور فوجی سربراہ ہوتا تو بہت بڑا ردعمل آنا تھا۔ غصہ تو اس وقت فوج کے اندر بہت ذیادہ ہے۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ وہ برداشت کر رہے ہیں، کیوں کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔’

یہ باتیں وزیر اعظم عمران خان نے نجی ٹی وی سماء کو انٹرویو دیتے ہوئے کیں۔ تاہم وزیراعظم نے یہ نہیں بتایا کہ اپوزیشن فوجی قیادت پر نہیں بلکہ فوجی قیادت کے سیاسی کردار پر تنقید کر رہی ہے جو کہ ادارے کی ساکھ خراب کر رہا ہے۔ عمران خان نے آرمی چیف پر حزب اختلاف کی تنقید کا تو بتا دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ خود فوج کے ادارے میں بھی ان کی جانب سے آرمی چیف کو تین سال کی توسیع دینے کے فیصلے پر کیسا ردعمل پایا جاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ فوجی قیادت پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا بنیادی مقصد ادارے پر دباؤ ڈالنا ہے تا کہ وہ ایک منتخب جمہوری حکومت کو گرانے پر تیار ہو جائے۔ تم نے یاد دلایا کی فوج میرے اوپر نہیں ہے بلکہ میرے نیچے۔۔وزیراعظم نے کہا کہ میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس طرح کی سازش کرنے والے عناصر غداری کے مرتکب یو رہے ہیں۔ تاہم عمران خان شاید بھول گئے کہ 2014 میں وہ خود بھی ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنا دے کر اسی طرح کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ انکی اپوزیشن نے تو صرف لانگ مارچ کرنے کی دھمکی دی ہے لیکن عمران خان نے تو اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کے بعد پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ کر دیا تھا اور پی ٹی وی کی عمارت پر قبضہ کرلیا تھا۔ بعد میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ انہوں نے 2014 کا لانگ مارچ اور دھرنا تب کے آئی ایس آئی چیف ظہیر الاسلام کے کہنے پر دیا تھا جنہوں نے نواز شریف کی حکومت گرانے کی سازش تیار کی تھی۔

پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حالیہ جلسوں سے خطاب کے دوران نواز شریف نے اسی سازش کا ذکر کرتے ہوئے جنرل قمر باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر کڑی تنقید کی۔جب نواز شریف خطاب کرتے ہیں تو وہ 2018 انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے ذریعے عمران کو وزیراعظم بنانے کی ذمہ داری آرمی چیف قمر باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید پر عائد کرتے ہیں۔ وہ ان دونوں حضرات پر عمران خان حکومت کی پشت پناہی کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں۔ 13 دسمبر۔کے آخری جلسے میں پی ڈی ایم نے وزیر اعظم کو 31 جنوری تک مستعفی ہونے کی ڈیڈلائن دی ہے۔

اس حوالے سے وزیر اعظم نے اہنے تازہ انٹرویو میں کہا کہ ‘ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن اپوزیشن کو اس میں دلچسپی نہیں ہے۔ یہ فوجی قیادت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ جمہوری حکومت کو ہٹا دو۔ یہ ان کی ڈیموکریٹک موومنٹ ہے جو جمہوری نظام کے خلاف کام کر رہی ہے۔ تاہم وزیراعظم نے اپوزیشن کو یاد دلوایا کہ ’پاکستان کی فوج میرے اوپر نہیں بیٹھی، میرے نیچے ہے۔’
عمران خان نے کہا کہ ‘اگر پی ڈی ایم لانگ مارچ کردے تو پتہ چل جائے گا کہ استعفیٰ ان کو دینا پڑے گا یا مجھے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں چیلنج کرتا ہوں کہ اپوزیشن اگر اسلام آباد میں ایک ہفتہ کا دھرنا بھی دے سکے تو میں استعفیٰ کے بارے میں سوچنا شروع کر دوں گا۔’
عمران خان نے پی ڈی ایم کے لاہور جلسے پر تبصرہ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ’وہ ایک فلاپ شو تھا۔ میں پاکستان میں جلسوں کا ماہر ہوں۔ لاہور میں جتنے بھی لوگ تھے یہ ایک فلاپ شو تھا۔‘ عمران کا کہنا تھا کہ اپوزیشن وسلے اِدھر اُدھر سے لوگ لے کر آئے۔ لاہور کے اندر سے لوگ نکلے ہی نہیں ہیں، جلسے کے اندر ایک جنون ہوتا ہے، لیکن جہاں تک لاہور جلسے کی بات ہے۔۔۔ تو خیر میں نے یہ دیکھا ہی نہیں ہے۔‘

پی ڈی ایم کی طرف سے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’وہ کل نہیں بلکہ آج استعفے دیں۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پی ڈی ایم جماعتوں میں سے اکثریت استعفے نہیں دی گی۔‘ عمران نے کہا کہ ’یہ استعفے دیں تو میں کہتا ہوں کہ اس سے پاکستان کے لیے بہتری ہو گی۔ ان استعفوں سے یہ ہمارا فائدہ کرائیں گے۔‘ مریم نواز اور بلاول بھٹو کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ’ان دونوں بچوں کے والدین سیاستدان تھے۔۔ یہ ایسا ہی ہے کہ میرا بیٹا کرکٹ میں کپتان بن جائے۔ انھوں نے جدوجہد کی ہی نہیں ہے‘۔

نواز شریف کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے کہا کہ اب میں کہا کہوں یہ ایک دکھ بھری داستان ہے۔۔ اب میں کیا کہوں مجھے کہا گیا کہ وہ بہت بیماری ہیں۔ ان کا سیاسی بیگیج اسحاق ڈار اور نواز شریف کے دونوں بیٹے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ‘اب میں آپ کو کیا بتاؤں، یہ ایک دکھ بھری کہانی ہے۔ ہم چاہ رہے ہیں اس کو ڈی پورٹ کروائیں۔’ انھوں نے کہا کہ ‘پہلے تو مشرف کے دور میں این آر او لے کر چلا گیا تھا، پھر جُھوٹ بولتا رہا کہ کوئی ڈیل نہیں کی۔ آخر سعودی شہزادے نے آکر بتایا کہ معاہدہ ہوا ہے۔ اس بار نواز شریف نے ایسی ادکاری کی ہے کہ بالی ووڈ میں آسکر مل جائے گا۔’ انھوں نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ نواز شریف کو واپس لے کر آئیں مگر کچھ کہہ نہیں سکتا کہ کتنی دیر لگے گی۔

وزیر اعظم نے کہا یہ حکومت کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے سینیٹ انتخابات کرا سکتے ہیں اور ہم نے اوپن بیلٹ کے ذریعے تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ہمارے قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ آئینی ترمیم کے بغیر بھی انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ عمران خان کے مطابق اس طرح انتخابات کا فائدہ یہ ہو گا کہ سب کو معلوم ہو گا کہ کون کس کے لیے ووٹ دے رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے مطابق اس طرح پیسے کے زور سے لوگ اوپر نہیں آئیں گے اور قابل لوگ سینیٹر بن سکیں.

عوام کو تبدیلی کی امیدیں دلانے سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘میں نے لوگوں سے یہ نہیں کہا تھا کہ جس دن ہم آئیں گے ایک سوئچ آن کریں گے اور ملک ٹھیک ہوجائے گا اور آتے ہی تبدیلی آ جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘جب وعدے کرتے ہیں تو لوگوں کو 5 سال کا وقت دیتے ہیں تب آپ جج کرتے ہیں اور پھر اگلے انتخابات میں ووٹ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘تبدیلی یہ آئی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ جو بڑے بڑے نام تھے جن پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا وہ جیلوں کے چکر لگا رہے ہیں’۔ تاہم وزیراعظم نے یہ بتانے سے قاصر رہے کہ بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے عوام کو کیا فائدہ ہوا جن کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ انہوں نے احتساب کے نام پر اپنے سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور اسی وجہ سے اب تک نیب کی جانب سے دائر کردہ تمام کیسز جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button