کیا اپوزیشن فوج کا سیاسی کردار ختم کرنے میں کامیاب ہو پائے گی؟

لاہور میں 13 دسمبر کے جلسے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو 31 جنوری تک استعفے کی ڈیڈلائن دینے والی پی ڈی ایم کی تحریک کے لیے آنے والے دو مہینے بہت اہم ہیں جن کے دوران اپوزیشن اتحاد کو متحد رہ کر پوری طاقت سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنا ہو گا اور اسمبلیوں سے استعفے دے کر اپنے احتجاج کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا تاکہ کپتان حکومت سینٹ کے الیکشن کروانے میں کامیاب نہ ہو پائے۔ اس دوران اگر تمام اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں میں پھوٹ پڑ گئی تو پی ڈی ایم کی تحریک کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ لہذا ضروری ہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی اپنے اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کے اعلان پر قائم رہیں اور اگر اس دوران سیاسی حالات بدل کر انکے حق میں جاتے نظر آئیں تو پھر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا روک بھی لے لیا جائے۔ یوں اگر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جائے تو اسمبلیاں بچ جائیں گی لیکن اگر یہ تحریک ناکام ہو جائے تو پھر اسمبلیوں سے استعفے لینے کا فیصلہ تو پہلے ہی ہو چکا ہے۔

تاہم دوسری طرف حکومت بار بار یہ دعوی کر رہی یے کہ پی ڈی ایم اتحاد میں شامل دونوں بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی زیادہ عرصہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل پائیں گی اور ان میں سے کوئی ایک جماعت حکومت مخالف تحریک کے آخری مرحلے میں داخل ہونے سے پہلے ہی مک مکا کر کے پیچھے ہٹ جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو اپوزیشن کی طاقت بکھر جائے گی اور کپتان حکومت کو اپنے پانچ سال مکمل کرنے کا موقع مل جائے گا۔ تاہم پی پی پی اور نواز لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں میں سے اگر کسی نے اس طرح کا گند کیا تو وہ عوام کی نظروں میں رسوا ہو کر کر ہمیشہ کے لیے سیاست سے باہر ہو جائے گی لہذا ایسے حکومتی خواب، خواب ہی رہیں گے اور حقیقت نہیں بن پائیں گے۔ اپوزیشن ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ان کی تحریک کا بنیادی مقصد فوج کا سیاسی کردار ختم کرنا اور عوام کا اقتدار بحال کرنا ہے اور وہ دن دور نہیں جب فوجی اسٹیبلشمنٹ پیچھے ہٹ جائے گی اور ملک پر حقیقی معنوں میں عوام کا راج ہوگا۔

یاد ریے کہ تازہ انتخابات کے لیے پی ڈی ایم نے تحریک کا پہلا مرحلہ لاہور جلسے پر ختم کرتے ہوئے عمران خان کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے کیے 31 جنوری کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ اگر عمران استعفی دینے میں ناکام رہے تو انکے خلاف احتجاج کا دوسرا مرحلہ شروع ہوجائے گا جس میں 11 جماعتی اتحاد قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کا اعلان کرے گا۔ تیسرے مرحلے میں مارچ میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔ سوال یہنہے کہ حکومتِ وقت کے لیے پی ڈی ایم کی دھمکی کتنی خطرناک اور سیریس ہے اور کیا اپوزیشن واقعی اگلے 2 ماہ میں ایسے حالات پیدا کر لے گی کہ اسٹیبلشمنٹ اپ ی لائی ہوئی حکومت کو گرانے کی اجازت دے دے؟

یاد ریے کہ ایک ماہ تک چاروں صوبوں میں کیے جانے والوں کامیاب جلسوں کا نقطہ عروج لاہور کا جلسہ تھا جسے کہ حکومت نے ”ناکام“ قرار دیا۔ پی ڈی ایم کا اصرار ہے کہ یہ کامیاب تھا۔ زیادہ تر مبصرین کی توجہ اس بات پر ہے کہ جلسے میں حاضرین کی تعداد کتنی تھی اور وہ کس قدر پر جوش تھے۔ ان عوامل پر پی ڈی ایم کی حکمتِ عملی کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار تھا۔ چونکہ لاہور کو مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے،یہاں سے ملنے والی حمایت سے پارٹی کے بیانیے کی جانچ ہونی تھی۔ تاہم جلسے کی اہمیت شرکا کی حسابی تعداد اور اچھے کو عظیم یا حیرت انگیز قرار دینے کی خوش بیانی سے کہیں آگے ہے۔ پی ڈی ایم کے حامیوں کے والہانہ جوش کو قدرے سرد کرنے میں کئی ایک عوامل کارفرماتھے۔ ملتان میں حکومت نے بہت سی رکاوٹیں کھڑی کردیں یہاں تک کہ جلسے کو آخری وقت تبدیل کرناپڑا۔ لاہور میں بھی حکومت نے عوامی جوش کو سرد کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی۔ اس نے ڈی جے بٹ کو گرفتار کرکے ساؤنڈسسٹم نصب کرنے سے روک دیا، گراؤنڈ میں پانی چھوڑ دیا، کوویڈ 19 کے پھیلاؤ کا پراپیگنڈا کرکے لوگوں کو جمع ہونے سے خوف زدہ کیا اورکرسیاں فراہم کرنے والوں کوکارروائی کی دھمکی دے کر سروس فراہم کرنے سے منع کردیا۔ اس شام لاہور کے سرد موسم نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ جب نواز شریف نے رات کو تقریر شروع کی تو درجہ حرارت چھے ڈگری تھا۔ تاہم اس جلسے کی ناکامی کا تاثر فوجی اسٹبلشمنٹ نے میڈیا پر معلومات کنٹرول کرکے ابھارا۔ کسی ٹی وی چینل کو جلسہ دکھانے یا پوری تقاریر نشر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ میڈیا مالکان اور نیوز ڈائریکٹرکو جلسے کو ”ناکام“دکھانے کا حکم تھا جس کے لیے اُنہوں نے مختلف سیاسی اور تیکنیکی حربے استعمال کیے۔ ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن کی طویل حراست اور اُن کے خلاف انتقامی کارروائی اور حکومت سے اختلاف رائے رکھنے والے صحافیوں کی تواتر سے ”گم شدگی“ کے بعد کوئی میڈیا مالک دھمکی آمیز فون کال یا واٹس ایپ پیغام کو نظر انداز کرنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔ کون سا صحافی ہے جو حکم عدولی کرکے اس معاشی ابتلا کے دورمیں اپنی ملازمت سے محروم ہونا چاہے گا۔ درحقیقت چند ایک معزز صحافیوں کو چھوڑ کر ٹی وی پر تجزیہ کاروں،اینکروں اور نمائندوں کی حکومت کی حامی فوج یامتعصب شرکاپی ڈی ایم کی پالیسی کو ناکام قرار دیتے ہوئے اس کے راہ نماؤں پر کڑی تنقید کررہے تھے۔ ان حقائق سے تصدیق ہوتی ہے کے اس وقت میڈیا کا بازو کس قدر مروڑا جاچکا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے لاہور جلسے کا 2011  ء کے عمران خان کے جلسے سے موازنہ کرنا بددیانتی ہے کیوں کہ اُس جلسے کو اسٹبلشمنٹ کی پشت پناہی حاصل تھی اور اس کے لیے پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی فری ہینڈ دیا تھا۔ سب سے بڑھ کر، وہ موسم بھی سہانا تھااور فضا میں کسی وائرس کے خطرے کی دھمک نہیں تھی۔ دوسری طرف لاہور میں 13 دسمبر کو ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد مولانا فضل الرحمن پریس کانفرنس میں یہ بتا چکے ہیں کہ ان کے جلسے کو ناکام ثابت کرنے کے لئے آئی ایس پی آر نے میڈیا پر دباؤ ڈالا کیونکہ مریم نواز کی لاہور میں میں جلسے سے پہلے چلائی جانے والی رابطہ عوام مہم نے حکومت کی نیندیں اڑا کر رکھ دی تھیں۔

لیکن اپوزیشن کے نقطہ نظر سے اہم ترین بات یہ ہے کہ 13 دسمبر کے جلسے کے بعد بھی پی ڈی ایم اتحاد قائم ہے اور اسکی قیادت نے مشترکہ طور پر اسمبلیوں سے استعفے دینے اور لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری طرف حکومت کے ذیلی ادارے نیب کے پاس بلاول بھٹو اور مریم نواز کے خلاف ایسے کرپشن کے کوئی کیسز موجود نہیں ہیں جن کی بنیاد پر ان دونوں کو پابند سلاسل کیا جاسکے اور حکومت مخالف تحریک کو روکا جا سکے۔

پی ڈی ایم تحریک کی اہمیت کی وجہ کئی غیر معمولی اہمیت کے حامل حقائق ہیں۔ سب سے پہلا یہ کہ پی ڈی ایم کی تحریک پاکستان کی بائیں بازو کی مرکزی جماعت، دائیں بازو، سیکولر، روایتی سوچ رکھنے والی مذہبی اور مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے۔ دوسرا یہ کہ اس میں شامل تمام جماعتوں کا اصل ہدف حکومت کی بجائے سیاسی عمل میں مداخلت کرنے والی فوجی اسٹبلشمنٹ ہے۔ تیسرا یہ کہ اُن کے احتجاج کی اصل سرزمین پنجاب ہے جو کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بھی طاقت کا مرکز ہے۔ چوتھا یہ کہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے وجود میں آنے والی کپتان حکومت کی نااہلی اور نالائقی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی مشکلات کا شکار ہے۔ اس کی وجہ سے ناراض اور مشتعل افراد بھی پی ڈی ایم کے ساتھ شامل ہورہے ہیں۔ ان حالات میں سوال یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

یہ سچ ہے کہ پی ڈی ایم کو اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔ ایک سال سے اس کی اہم ترین جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن لانگ مارچ یا فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اپنے مسائل کی اصل وجہ قرار دے کر اسے ہدف بنانے کے حق میں نہیں تھیں۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کے حامی شہباز شریف کی گرفتاری اور آصف زرداری کے خلاف مسلسل نیب کیسوں کے اندراج کے بعد اینٹی اسٹیبلشمینٹ بیانیے رکھنے والے عناصر کو پذیرائی مل گئی۔ نواز شریف کی جانب سے فوجی قیادت کا نام لے کر تنقید کرنے کے فیصلے کو شہباز دھڑے نے بھی قبول تو کر لیا تاہم وہ اسے دل سے قبول کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں کیونکہ ان کی رائے میں کوئی بھی سیاسی تبدیلی لانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو اپنے ساتھ ملانا ضروری ہے۔ دوسری طرف نواز شریف کے موقف کی تائید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو دباؤ میں لایا جائے اور تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔

اس بات کو تو وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک حالیہ انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ اپوزیشن قیادت کی جانب سے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لے کر تنقید کرنے کا بنیادی مقصد فوج پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ انکی حکومت کو گرا دے۔ تاہم وزیراعظم نے واضح کیا کہ فوج ان کے نیچے ہے، ان کے اوپر نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل قریب میں اپوزیشن تحریک کے زور پکڑنے کے بعد بھی فوج ان کے نیچے ہی رہتی ہے یا انکے اوپر چڑھ جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button