کیا وزیراعظم FBR کو اپنی اہلیہ کی جائیداد کی تفصیل دیں گے؟

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے وزیر اعظم عمراں خان کے اثاثہ جات بارے تحقیقات کے مطالبے کے بعد اب ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے بھی عمران خان کی جائیدادوں بارے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ‘میں نے تو اپنی جائیدادوں بارے تمام تفصیلات ایف بی آرکو فراہم کردی ہیں۔ کیا وزیر اعظم اور وزراء نے اپنی بیویوں کی جائیدادوں کی تفصیلات ایف بی آر کو فراہم کی ہیں؟ کیا ایف بی آرعمران خان سے پوچھ سکتا ہےکہ مجھ سے کم ٹیکس دینے والے وزیر اعظم کس طرح 300 کنال پر مشتمل محل جیسی قیمتی جائیدادیں رکھتے ہوئے اس کا خرچ برداشت کرتے ہیں؟
واضح رہے کہ اس سے قبل صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت میں خود پیش ہو کر وزیراعظم عمران خان کی بیرون ممالک میں جائیدادوں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور اس حوالے سے دائر درخواست میں استدعا کی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان کی مبینہ طور پر برطانیہ میں موجود جائیدادوں کی چھان بین کی جائے۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ جس سرچ انجن سے میرے خاندان کی پراپرٹیز چیک کی گئیں اس کے ریکارڈ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سمیت کئی حکومتی ارکان کی بیرون ممالک جائیدادیں موجود ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی یو کے میں اپنی 6 جائیدادیں ہیں, یو کے میں شہزاد اکبر کی پانچ, زلفی بخاری کی 7,عثمان ڈار کی تین اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی ایک جائیداد موجود ہے۔ علاوہ ازیں جہانگیر ترین کی ایک اور پرویز مشرف کی بھی 2 جائیدادیں موجود ہیں۔ اس حوالے سے بھی حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بعد ان کی اہلیہ نے بھی وزیر اعظم اور ان کے قریبی وزراء اور مشیران کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مسز سرینا عیسیٰ کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کے اثاثہ جات کو زیر بحث اس لئے لایا جا رہا ہے کیونکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مبینہ غیر ملکی جائیدادوں بارے صدارتی ریفرنس عمران خان کی ایڈوائس پر ہی صدر نے دائر کیا ہے اور مسز سرینا عیسیٰ کا مؤقف ہے کہ جب قانون کے تحت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ہونے کے ناطے وہ اپنی جائیدادوں بارے تمام تفصیلات ایف بی آر کو دینے کی پابند ہیں توایف بی آر کو وزیر اعظم اور حکومتی وزراء سے بھی ان کی جائیدادوں بارے تمام حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کرنا چاہیے کیونکہ ایک ملک میں دو قانون نہیں چل سکتے قانون کی پاسداری سب پر لازم ہے۔ مسز سرینا عیسیٰ کی طرف سے ایف بی آر میں جمع کرائے گئے جواب کے بعد ان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر انھیں ہراساں کر رہا ہے، گذشتہ ایک سال سے ان کے ساتھ مجرم جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ’ کیا ایف بی آر مجھے عمران خان، عبد الوحید ڈوگر، مرزا شہزاد اکبر، انور منصور خان اور فروغ نسیم کے ٹیکس گوشوارے دے سکتا ہے؟ کیا عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں بیویوں اوربچوں کی تفصیلات فراہم کیں؟ عمران خان اوران کے قریبی ساتھیوں کا ٹیکس ریکارڈ فراہم کیا جائے کہ انہوں نے کب ٹیکس دینا شروع کیا۔
مسز سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو مجھے اب بھی ہراساں کر رہا ہے. جواب جمع کرانے کے بعد فیڈرل بیورو آف ریوینیونے میڈیا کو وہ باتیں جاری کیں جو انہوں نے کہی ہی نہیں۔ ‘میں اس معاملےمیں دوسرے لوگوں کو گھسیٹنا نہیں چاہتی لیکن میں اپنی جاسوسی سے تنگ آچکی ہوں۔’ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے اور تضحیک کی جا رہی ہے۔ ‘میرے خلاف جھوٹا پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے، مجھ پر الزام لگایا جارہا ہے کہ میں نوٹس وصول نہیں کررہی۔’ انہوں نے واضح کیا کہ 25 جون کو جب نوٹس جاری ہوا تو اسی روز ان کے والد کی وفات ہوئی تھی۔ ‘میری رہائش گاہ پر میرے سٹاف کی موجودگی میں نوٹس چسپاں کیا گیا، جس سے میں نے خود کو مجرم محسوس کرنا شروع کر دیا۔ ‘ایف بی آر میں جمع کرائے گئے میرے جواب کا متن میڈیا کو غلط طور پر جاری کیا گیا، ‘
انہوں نے ایف بی آر کو جمع کرائے گئے چھ صفحات پر مبنی بیان میں کہا کہ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں سُنا کہ ایک مقررہ مدت کے بعد انکم ٹیکس سے متعلق سوال نہیں پوچھا جا سکتا، اگر ایسا ہے تو ایف بی آر کو چاہیے کہ ان کی اس حوالے سے رہنمائی کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں 2018 کا انکم ٹیکس نوٹس کیوں بھیجا گیا، جس کی وجہ سمجھ نہیں آئی کیونکہ متعلقہ پراپرٹی 2004 اور پھر 2013 میں لی گئی تھی۔ سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر کے جانب سے چسپاں کیے گئی نوٹس کے الفاظ پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ اس میں بے معنیٰ الفاظ استعمال کیے گئے ۔ ‘میں سب معلومات فراہم کر رہی ہوں ،اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس بات کی قانون اجازت نہیں دیتا میں ایف بی آر کو سوال پوچھنے کی اجازت دوں گی۔’انہوں نے کہا کہ اگر وہ اور ان کے بچے جائیداد چھپانا چاہتے تو آف شور کمپنی خرید لیتے اور اپنا نام چھپا لیتے۔ ‘اگر یقین نہیں آتا تو عمران خان اور اُن کے رفقا سے پوچھیں کہ کیسے انہوں نے بیرون ملک بے نامی جائیدادیں بنائی۔ جائیدادوں کی ملکیت چھپانے کا عمران خان اور ان کے رفقا کافی تجربہ رکھتے ہیں۔’
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ مسز سرینا عیسیٰ نے مزید کہا کہ ‘میں نے تو اپنی تمام تفصیلات ایف بی آرکو فراہم کردی ہیں۔ کیا ایف بی آر عمران خان سے پوچھ سکتا ہےکہ وہ مجھ سے کم ٹیکس کیوں دیتےہیں؟ مجھ پر عمران خان کے ساتھی میڈیا پر آکر کردار کشی کرتے ہیں۔ مجھ سے کم ٹیکس دینے والے عمران خان کس طرح 300کنال پر مشتمل محل جیسی قیمتی جائیدادیں رکھ اوران کا خرچ برداشت کرتے ہیں؟’انہوں نے کہا کہ کیا ایف بی آر یہ پوچھ سکتا ہے کہ عمران خان، مرزا شہزاد اکبر،فروغ نسیم اور انورمنصورخان نے کیسے غیرقانونی طور پر میرے ٹیکس ریکارڈ حاصل کیے؟
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 19 جون کو جاری مختصر حکم کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ اور ان کے 2 بچوں ارسلان فائر عیسیٰ اور سحر عیسیٰ کی برطانیہ میں 3 آف شور جائیدادوں کی نوعیت اور فنڈنگ کے ذرائع کی وضاحت طلب کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 176 کے تحت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے 2 بچوں کی 3 جائیدادوں کی خریداری اور ان کے ذرائع سے متعلق وضاحت طلب کرنے کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔ تاہم 3 نوٹسز موصول نہ ہونے کے بعد اے ای او آئی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رہائش گاہ کے باہر 3 نوٹسز چسپاں کردیے تھے۔
