کیا پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اب غیر سیاسی ہو گئی؟


پاکستانی عسکری اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا افراد کو سرو کے اونچے لمبے درختوں سے تشبیہ دیتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے قرار دیا ہے کہ یہ درخت بہت ہی بےفیض ہیں، جو نہ تو سایہ دیتے ہیں کہ جس سے گھاس پھونس کو چھاوں میسر آ سکے اور نہ ہی ان کا پھل یا بیج کسی کام کا ہے۔ اپنی تازہ استعاراتی تحریر میں وہ لکھتے ہیں کہ یہ سرو کے درخت نکمے، گونگے اور بہرے بھی ہیں۔ انہیں صرف اپنے مفادات، تنخواہوں اور مراعات سے غرض ہے، اپنے ہم وطنوں کی بھوک پیاس اور لاچاری سے یہ بالکل لا تعلق ہیں۔ اونچے عہدوں اور بڑے منصبوں والے یہ سرو قد دردِ دل سے عاری اور انسانیت سے خالی ہیں۔ کرونا سے ہر روز لوگ مولی اور گاجر کی طرح کٹتے جا رہے ہیں لیکن یہاں بےحسی کا یہ عالم ہے کہ ابھی تک یہی طے نہیں ہو سکا کہ پاکستانیوں کو ویکسین کب تک دستیاب ہو گی؟

سہیل وڑائچ سوال کرتے ہیں کہ کیا ضروری نہیں تھا کہ ملک کے سارے وسائل اور توانائیاں کرونا سے بچنے کی ویکسین لانے اور پاکستانیوں کو محفوظ بنانے پر خرچ کی جاتیں۔ مگر مجال ہے کہ مراعات یافتہ سرو قد اشرافیہ کے کانوں پر جوں تک رینگی ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ کرونا کی چند ہی منٹ میں تشخیص کے لئے غیر ممالک سے چند مہنگے ترین انیلائیزر پاکستان پہنچے تو وہ بھی سرو قد افسروں کے گھروں کی زینت بن گئے بجائے کہ عام عوام کے کام آتے۔ وہ لکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں ویکسین لگانے کے لئے لوگوں کی کیٹیگریز بنائی گئی ہیں، پہلے ڈاکٹروں اور 80 سال سے اوپر کے معمر افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے کیونکہ اُنہیں کرونا کے حملے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف ہمارے تضادستان میں سرو قد اشرافیہ جوق درجوق ویکسین لگوا رہی یے اور گھاس پھونس یعنی عام لوگ اِس بیماری میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں۔ سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ جس ملک میں غریب اور امیر، سرو اور گھاس پھونس، مراعات یافتہ اور غیرمراعات یافتہ، افسر اور نوکر، حکمران اور رعایا کا فرق جس قدر ذیادہ ہو، اُس ملک کا کامیابی سے چلنا بھی اتنا ہی محال ہوتا ہے۔

وہ سوال کرتے ییں کہ کیا اس سرو قد اشرافیہ میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کو غریب اور لاچار کی بارش میں چھت ٹپکنے کا خیال پریشان کر دیتا ہو؟ کیا ایک بھی ایسا نہیں جسے گھاس پھونس کو خوراک نہ ملنے کا دکھ پریشان کرتا ہو؟ کیا مراعات یافتہ اور حکمران طبقہ میں ایک بھی ایسا نہیں جسے مہنگائی اور بےروزگاری کا مسئلہ پریشان کرتا ہو؟ کیا اونچے عہدوں والوں میں ایک بھی ایسا نہیں جسے رات کو ملک میں ہونے والی ناانصافیوں پر نیند نہ آتی ہو؟ بظاہر تو یونہی لگتا ہے کہ ہمارے ملک کی اشرافیہ اور حکمران طبقہ بے حس اور نا مہربان ہے۔ وگرنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنے عرصہ بعد بھی ایک ملک کی سمت کا تعین ہی ٹھیک طرح سے نہ ہو پا رہا ہو۔

سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ مجھے سچ کہنے دیجئے کہ اِس وقت ملک پر اختیار رکھنے والے لوگ معاشی اور سماجی مسائل تو ایک طرف ملک کے سیاسی مسائل پر بھی سنجیدگی سے نہ غور کر رہے ہیں اور نہ ہی اُنہیں حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ اگر وہ اپنے وقتی فائدوں اور مراعات سے باہر نکل کر سوچیں تو سیاسی مسائل کو حل کرنے کا انہیں ہی دور رس فائدہ ہو گا۔ ملکی حالات پر جتنا غور کریں اتنا ہی سرو قد اشرافیہ پر افسوس ہوتا ہے۔ ملک کا سب سے بڑا منتخب ادارہ پارلیمان موجود ہے مگر اس کی حیثیت گھاس پھونس والی ہو چکی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت پارلیمان میں مل بیٹھنے اور ملک کے مسائل کا حل نکالنے کو تیار ہی نہیں لگتے۔ پارلیمان کا اجلاس اس لئے بلایا نہیں جا رہا کہ جیلوں میں پڑے اراکین کو بھی لانا پڑے گا اور قانون سازی اس لئے نہیں کی جا رہی کہ اپوزیشن کی بھی سننا پڑے گی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی حکمران جماعت کے دبائو میں آ کر اپنی ثالثی کی کوششیں چھوڑ چکے، اپوزیشن اب اسپیکر کے ساتھ ایجنڈے پر بات کرنے تک کو تیار نہیں۔ ڈیڈ لاک ہے، مکمل ڈیڈ لاک!!
کیا ایسے میں ضروری نہیں کہ اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان فیصلہ کن طاقتیں ملک و قوم کی بہتری کے لئے کوئی کردار ادا کریں؟ کیا وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے پارلیمان کی ناکامی کا حشر دیکھتے رہیں گے؟ کیا سرو کے درخت، گھاس پھونس کی تباہی و بربادی کا منظر یونہی دیکھتے رہیں گے؟ کیا سرو قد اشرافیہ غریب عوام کی بےبسی کا یونہی تماشا دیکھتی رہے گی؟ کیا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک کا یونہی نظارہ کیا جاتا رہے گا؟

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ یونہی چلتا رہا تو تاریخ سرو کے ان بےفیض درختوں پر نوحہ ضرور لکھے گی اور نظام کا خون ہونے کا الزام بھی انہی پر دھرا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ سرو قد اشرافیہ کی جانب سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ سیاست سے ہمارا کیا تعلق؟ سوال تو اچھا ہے لیکن جب ماضی میں سرو قد اشرافیہ کی سیاست میں مداخلت پر عوام یہ سوال کرتے تھے تو کہا جاتا تھا کہ دراصل ملک ایک نازک موڑ سے گزر رہا تھا اور وسیع تر قومی مفاد میں ایسا کرنا ضروری تھا۔ تو پھر آج کیا ملک تاریخ کے نازک ترین موڑ سے نہیں گزر رہا؟

سہیل وڑائچ کہتے ہیں ماضی میں جب بھی ہماری سرو قد اشرافیہ کا جی چاہتا تھا تو وہ کسی پارٹی کو الیکشن ہرانے اور کسی کو جتوانے کیلئے زور لگا دیتی تھی۔ اسی طرح کبھی کسی کو جیل میں ڈالا جاتا رہا ہے اور کسی کو زندان سے آزاد کرکے مراعات سے بھی نوازا جاتا رہا ہے۔ 1985اور 2002 کی اسمبلیوں اور حکومتوں کی مثالیں اظہر من الشمس ہیں۔ اگر سسٹم چل گیا اور بچ گیا تو سرو قد اشرافیہ بھی بچ جائے گی، لیکن اگر گھاس پھونس مر گیا اور سیاست کا جنگل اجڑا گیا تو سرو کے پتے تک زرد ہو کر گر جائیں گے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سرو کے درخت اس خطے میں سنٹرل ایشیا سے لا کر اگائے گئے تھے۔ مغل بادشاہ باغوں میں سرو کے درخت اس طرح سے لگاتے تھے کہ اونچے قد کے سرو قطار اندر قطار نظر آئیں گے مگر زمین پر موجود گھاس پھونس کی ہریالی پر ان کے اونچے قد کا سایہ نہ پڑے۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری طاقتور اشرافیہ اتنی سروقد ہو چکی ہے کہ اس کے سائے میں گھاس پھوس گل سڑ گیا ہے۔۔ لیکن سب کو معلوم ہونا چاہیئے کہ سرو کے اردگرد اگر گھاس پھوس اور جھاڑیاں نہ ہوں، پھول پودے نہ ہوں، برگد اور پیپل نہ ہو، تو اکیلا سرو انتہائی بھدا اور لم ڈھینگ نظر آتا ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان کی سرو قد اشرافیہ کو باغبانی کا یہ سبق یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ باغ کی ہریالی کو فروغ دے کر ہی خود بھی بڑی ہو سکتی ہے۔ لیکن آج جیسے ہمارا سیاسی باغ ویران اور اجڑا پڑا ہے ایسے میں سرو لاکھ قد آور ہو جائے، وہ برا ہی لگے گا کیوں کہ ایسا شجر بے فیض کہلاتا یے جو کسی کو سایہ نہیں دیتا اور راحت نہیں پہنچاتا۔ لہذا اگر پاکستانی سرو قد اشرافیہ چاہتی ہے کہ تاریخ اسے اچھے لفظوں میں یاد کرے تو اسے سیاسی نظام کو درست سمت میں چلنے کی اجازت دینا ہوگی۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ ہمارا سیاست سے تعلق نہیں، ویسے بھی یہ ایک سیاسی موقف ہے، سچ تو یہ یے کہ سیاست ہو گی تو نظام بھی ہو گا، اور سرو قد اشرافیہ بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button