جانبدار الیکشن کمیشن نے الٹا اپوزیشن جماعتوں پر دباؤ بڑھا دیا


اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن پر تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کا فوری فیصلہ کرنے کا مطالبہ نظرانداز کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے الٹا حکومتی دباؤ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ پر ہی دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر نواز لیگ اور پیپلز پارٹی سے ان کی فارن فنڈنگ کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ لہذا تحریک انصاف کے خلاف 6 برسوں سے زیر سماعت فارن فنڈنگ کیس میں ابھی کوئی فوری فیصلہ ہوتا نظر نہیں آتا۔

الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی نے تحریک انصاف کی جانب سے جوابی طور پر دائر کردہ غیر ملکی فنڈنگ کے کیسز میں ای سی پی آفس کے باہر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے 19 جنوری کے احتجاج سے ایک روز قبل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو اپنی اپنی فارن فنڈنگ کی تفصیلات سمیت طلب کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے نمائندے 18 جنوری کو دوپہر 12 بجے اور 2 بجے اسکروٹنی پینل کے سامنے پیش ہوں۔ اس دوران تحریک انصاف نے دونوں اپوزیشن جماعتوں کے خلاف فارن فنڈنگ مقدمات کی روزانہ سماعت کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو ایک اور درخواست بھی جمع کرادی ہے۔ درخواست جمع کرانے کے بعد پی ٹی آئی کے قانون ساز فرخ حبیب نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو چیلنج کیا کہ وہ اسکروٹنی کمیٹی کے طلب کردہ ریکارڈ پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا احتجاج الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالنے اور ممنوعہ فنڈنگ کے کیسز میں این آر او حاصل کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خلاف درخواستیں 2017 میں دائر کی گئیں تاہم کمیٹی کے ساتھ فریقین کے عدم تعاون کی وجہ سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ پی ٹی آئی کے ایم این اے نے الزام لگایا کہ دونوں جماعتیں ریکارڈ پیش کرنے سے گریزاں ہیں کیونکہ ان کے اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوئے تھے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے یہ وضاحت کرنے کو کہا کہ ان کے اکاؤنٹ میں 5 کروڑ سے 15 کرور روپے کی رقوم کہاں سے آئیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کے ٹریک ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سودی گروہوں سے رقوم وصول کررہے ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کہا جاتا تھا کہ بے نظیر بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اس وقت کے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے نواز شریف کو فنڈز بھی ملے تھے۔ پی پی پی کی طرف اپنی توپوں کا رخ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایم این اے نے کہا کہ یہ وہ واحد جماعت ہے جس نے این آر او حاصل کرنے کے لیے لابیز کی خدمات حاصل کیں۔

تام دوسری طرف پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے اس موقف کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آصف زرداری اپنے خلاف قائم کردہ تمام تر جھوٹے مقدمات میں عدالتوں سے باعزت بری ہوئے ہیں اور ہر ایک عدالتی فیصلہ بطور ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی والوں کا مزید کہنا ہے کہ جنرل مشرف نے آصف زرداری یا بے نظیر بھٹو کو نہیں بلکہ اپنی اتحادی ایم ایم کے سینکڑوں اراکین کو قتل کے مقدمات میں این آر او دیا تھا اور اگر پیپلز پارٹی قیادت کی مشرف کے ساتھ کوئی ڈیل ہوئی ہوتی تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت نہ ہوتی ہیں جن کے مقدمہ قتل میں مشرف بطور مرکزی ملزم نامزد ہے اور مفرور ہے۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری احمد جواد نے غیر ملکی مالی اعانت سے متعلق اپنے پرانے موقف سے پارٹی کے ہٹنے کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے غیر ملکی ایجنٹس کی رجسٹریشن ایکٹ کی تعمیل میں امریکا میں دو لمیٹیڈ لائیبلیٹی کمپنیوں کو شامل کیا تھا جس میں ‘فارن پرنسپل’ کی تعریف یہ پیش کی گئی تھی کہ ‘کوئی بھی شخص جو امریکا کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہے اسے غیر ملکی پرنسپل کے مفاد کے لیے، کسی ایجنٹ کو نامزد کرنا ہوگا’۔ اس تناظر میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں محض ایک ‘خارجی پرنسپل’ اور اس کے نامزد کردہ ‘ایجنٹس’ کے فرائض اور ذمہ داریوں کی وضاحت کی تھی جس میں ممبر شپ فیس اور اوور سیز پاکستانی کا کارڈ رکھنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے چندہ جمع کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے تحریک انصاف کے وکیل نے الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کو 5 صفحات پر مبنی جو خط جمع کروایا ہے اس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ دو امریکی کمپنیاں تحریک انصاف کے لئے فارن فنڈنگ اکٹھی کرنے میں ملوث رہی ہیں۔

اس پیش رفت پر اپوزیشن اتحاد کی قیادت کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے باقاعدہ طور پر خود پر عائد کردہ غیر قانونی فارن فنڈنگ کا الزام بالآخر تسلیم کر لیا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف جماعت پر پابندی لگتی ہے بلکہ اس پارٹی کے سربراہ عمران خان بھی بطور وزیراعظم فارغ ہوتے ہیں۔

اسی لیے اپوزیشن اتحاد کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس کا فوری فیصلے کروانے کی خاطر 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ پچھلے چھ برس سے زیر التوا کیس کا فیصلہ ہو پائے.

تاہم اسی دوران چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو بھی اپنی جماعتوں کی فارن فنڈنگ کی تفصیلات 18 جنوری تک جمع کروانے کا حکم دے دیا ہے۔ دوسری طرف اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں سے فارن فنڈنگ کی تفصیلات مانگنے والے دراصل عمران خان کی جماعت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جس نے کہ خود پر لگا یہ الزام باقاعدہ طور پر الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کے سامنے تسلیم کیا ہے کہ وہ امریکا میں رجسٹرڈ دو غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ وصول کرتی رہی ہے. اکبر ایس بابر کا کہنا یے کہ پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاور کی طرف سے جمع کروائے گے 5 صفحات پر مشتمل تحریری بیان سے اس الزام کی تصدیق ہوتی ہے کہ تحریک انصاف نے غیر قانونی طریقے سے فارن فنڈنگ اکٹھی کی. تاہم پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاور نے الیکشن کمیشن کے سامنے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ فنڈز اگر غیر قانونی تھے تو انہیں اکٹھا کرنے کی ذمہ داری پارٹی پر نہیں بلکہ اسکے غیر ملکی ایجنٹس پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن دوسری جانب اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ یہ دو غیر ملکی ایجنٹس نہیں بلکہ دو غیر ملکی کمپنیاں ہیں جنہوں نے بڑے پیمانے پر تحریک انصاف کے لیے غیر قانونی طور پر فنڈز
اکٹھے کیے اور وہ بھی عمران خان کے ایماء پر.

یاد ریے کہ گذشتہ سات برس سے فارن فنڈنگ کیس کی سماعتوں کے دوران تحریک انصاف کسی بھی ممنوعہ ذریعے سے بیرون ملک سے فنڈنگ لینے کے الزام کو رد کرتی آئی ہے تاہم اب امریکہ سے ممنوعہ فنڈنگ لینے کا اقرار کرتے ہوئے اس کے وکیل نے سارا مدعا اپنے ایجنٹس پر ڈال کر گلو خلاصی کروانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے 13 جنوری کو الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے تحریری جواب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ایجنٹس کی اکٹھی کی گئی کوئی بھی کنٹری بیوشن جو قابل پوچھ گچھ ہوسکتی ہے وہ بنیادی فریق یعنی تحریک انصاف کی دی گئی ہدایات یا ذمہ داری کے دائرہ کار سے ماورا ہے۔ پارٹی نے یہ تازہ مؤقف الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے دیے گئے سوال نامے کے تحریری جواب میں اپنایا۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس اس جماعت کے ایک بانی رکن اکبر ایس بابر نے نومبر 2014 میں دائر کیا تھا۔ اس کیس میں دعویٰ کیا گیا کہ تحریک انصاف نے سیاسی جماعتوں کے لیے موجود قانون پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کی خلاف ورزی کی ہے اور اس لیے پارٹی چیئرمین عمران خان اور خلاف ورزیوں کے مرتکب دیگر قائدین کے خلاف کارروائی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button