نواز شریف کو واپس لانے کی حکومتی کوشش ناکام ہوگئی

سابق وزیراعظم نواز شریف کو برطانیہ سے واپس پاکستان لانے کی حکومتی کوششیں اس وقت مکمل طور پر دم توڑ گئیں جب برطانوی حکومت نے واضح کردیا ہے کہ یہ معاملہ نواز شریف اور حکومت پاکستان کے درمیان ہے لہٰذا وہ پاکستانی وارنٹ پر نواز شریف کو گرفتار نہیں کرسکتے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کے لئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے بات کریں گے جبکہ وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے بھی اعلان کیا تھا کہ 15 جنوری 2021 تک نواز شریف پاکستانی جیل میں ہوں گے۔
تاہم 15 جنوری کو برطانوی حکومت کے انکار نے تمام تر حکومتی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تمام تر حکومتی کوششوں اور دعووں کے باوجود لندن میں مقیم نواز شریف کو گرفتار کرکے پاکستان لانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا لہذا اب یہ طے ہو گیا ہے کہ جب بھی نواز شریف پاکستان آئیں گے، اپنی مرضی سے ہی آئیں گے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو لکھے گئے خط کے جواب میں اب برطانوی حکومت نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے نواز شریف کے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ کی بنیاد پر سابق وزیراعظم کیخلاف قانونی کارروائی نہیں کرسکتے۔لندن میں مقیم سینئر صحافی مرتضی علی شاہ کے مطاق یہ بات پاکستان اور افغانستان کیلئے دولت مشترکہ اور ڈیولپمنٹ آفس نے وزیراعظم بورس جانسن کو برطانوی لیبر رکن پارلیمنٹ اسٹیفن ٹمز کے خط کے جواب میں کہی جو انہوں نے پاکستان کی جانب سے لکھا تھا۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ سابق وزیراعظم اور پاکستانی حکومت کے درمیان ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ کے خط میں کہا گیا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ نواز شریف اس وقت برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اس کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی قوانین میں یہ بات واضح طور پر بتایا جاچکا ہے کہ امیگریشن کے معاملات پر برطانوی حکومت کیا کرسکتی ہے اور کیا نہیں کرسکتی۔ ہم انہی قوانین کے مطابق سختی سے عملدرآمد کرتے ہیں۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ برطانوی پولیس برطانیہ سے باہر کسی عدالت کے حکم پر اپنے ملک میں کسی کو گرفتار نہیں کرسکتی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بے دخلی کا معاہدہ بھی نہیں ہے۔ تاہم اس کے باوجود بھی بے دخلی کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو ملک بدر کروانا ہو توا اس کے لئے پراپر چینل استمعال کیا جائے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں مختلف مقدمات کا سامنا کرنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف اعلیٰ عدالتوں اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد 19 نومبر 2019 کو علاج کی غرض سے برطانیہ گئے تھے۔ عدالت نے آٹھ ہفتوں کے لئے ان کی سزا معطل کی تھی اور اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر ان کا بیرون ملک قیام طویل ہوجائے تو حکومت پنجاب ان کو توسیع دے سکتی ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ نواز شریف نہ تو وہاں علاج کروارہے ہیں اور نہ ہی وطن واپس آنے کو تیار ہیں۔ اس حوالے سے تحریک انصاف حکومت پر جب دبائو بڑھا تو نواز شریف کو واپس لانے کی کوششیں شروع کردی گئیں۔ عدالتوں کے ذریعے انہیں اشتہاری قرار دلوایا گیا اور برطانوی حکومت سے نواز شریف کو بیدخل کرنے کی استدعا کی گئی۔ نوا شریف کو برطانیہ سے نکلوانے کے لئے حکومت پاکستان نے آئندہ ماہ فروری میں ان کا پاسپورٹ ایکسپائر ہونے کی صورت میں اس کی تجدید بھی نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ہر حکومتی حربہ ناکام ثابت ہوا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے مشیر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا تھا کہ نواز شریف کو پاکستان لانے کے لیے حکومت ایک سے زائد آپشنز پر غور کررہی ہے۔ فروری 2021 میں میاں نواز شریف کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہو جائے گی، جس کی تجدید کے لیے انہیں ہر صورت وطن واپس آنا پڑے گا۔ پاسپورٹ کی عدم تجدید کے حوالے سے قانونی ماہرین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تین مرتبہ ملک کے ویراعظم منتخب ہونے والے نواز شریف کو پاکستان لانا آسان نہ ہوگا کیونکہ برطانیہ اور پاکستان میں مجرمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ ہی نہیں اور دورا اگر نواز شریف برطانوی حکومت کو ایک درخواست دے دیں کہ پاکستان جانے کی صورت میں ان کی جان کو خطرہ ہے تو برطانیہ کبھی بھی انہیں اپنے ملک سے نہیں نکالے گا۔ گذشتہ دنوں یہ چہ میگوئیاں بھی ہوتی رہیں کہ برطانیہ میں مزید قیام کی درخواست دینے کی بجائے نواز شریف سعودی عرب منتقل ہوسکتے ہیں تاہم اب برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان کو سرخ جھنڈی دکھائے جانے کے بعد یہ باب بھی بند ہوگیا ہے۔
دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف اگلے ایک سے دو ہفتے میں برطانیہ سے سعودی عرب کا سفر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ لیکن وہاں کچھ ہفتے کے قیام کے بعد ان کا لندن واپس آ جانے کا امکان ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے لندن پہنچ کر اپنی سیاست زندہ کی ہے اور اپنے سخت اسٹیبلشمنٹ اور حکومت مخالف بیانیے کے ذریعے اپنی پارٹی کا ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں جو کہ حکومت کو کسی صورت قابل قبول نہیں اور اسی وجہ سے وہ ان کو واپس پاکستان آ کر جیل میں ڈالنا چاہتی ہے۔
