کیا پاکستان طالبان حکومت تسلیم کر لے گا؟


ماضی کے برعکس اس مرتبہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے جلد بازی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد مختلف ممالک اس شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ کیا طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا چاہیے یا نہیں؟ بڑی وجہ یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل 1999 میں افغان طالبان کو دہشت گرد گروہ قرار دے چکی ہے۔
یاد رہے کہ جب پاکستان نے طالبان کی پچھلی حکومت کو تسلیم کیا تھا تب تک اقوام متحدہ نے اس گروہ کو دہشت گرد قرار نہیں دیا تھا۔ لیکن اب پاکستان کے لیے بھی طالبان کی حکومت کو ماضی کی طرح تسلیم کر لینا کافی مشکل نظر آتا ہے خصوصا جب وہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں سے نکلنے کی کی امید لگائے بیٹھا ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں افغان طالبان کی حکومت کو نواز شریف دور میں تسلیم کیا گیا تھا لیکن سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انھیں اس فیصلے کا علم تب ہوا جب انہوں نے 9 بجے کے خبرنامے میں یہ خبر سنی۔ اس لئے ایک بات ہے کہ افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ حکومت وقت نے نہیں بلکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے کرنا ہے۔ افغانستان میں سوویت یونین کے ساتھ لگ بھگ 10 برس تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد جب طالبان نوے کی دہائی میں سامنے آئے تھے تو صرف تین ممالک نے طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کو باقاعدہ تسلیم کیا تھا جن میں پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل تھے۔ حالیہ دنوں میں ممالک میں افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے نقصانات اور فوائد پر بحث جاری ہے۔ بیشتر ممالک انتظار کریں گے کہ پہلے دیگر ملک طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں۔ امریکہ کے وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حکومت کی باقاعدہ منتقلی نہیں ہوئی اس لیے اس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے گریز کیا۔ دیگر اہم ممالک جیسے کہ روس اور چین جو کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد سیکیورٹی کے خلا کو پر کرنا چاہتے ہیں، انکے بارے میں کہا جا رہا یے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کر کے علاقے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں۔اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان کے لیے بھی افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا کوئی مشکل نہیں ہو گا۔
اقوامِ متحدہ میں روس کے سفارت کار وسیلے نیبنزیا کا طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد اگلے روز سیکیورٹی کونسل کی ہنگامی میٹنگ میں کہنا تھا کہ طالبان کی جیت پر گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اان کے بقول روس کے طالبان سے متعلق اقدامات کا انحصار طالبان کے اقدامات اور ان کی مخصوص کارروائیوں پر ہو گا لیکن وہ طالبان کے حوالے سے مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ اسی طرح چین نے حال ہی میں شمالی شہر تیانجن میں طالبان کے 9 رہنماؤں کی میزبانی کی تھی جس کے بعد چین نے بین الاقوامی برادری سے کہا تھا کہ طالبان کی مثبت سمت کی طرف حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرنی چاہیے نا کہ ان پر مزید پریشر ڈالا جائے۔ اس دوران افغان طالبان نے چینی حکام کو افغانستان میں موجود ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے جہادی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا بھی یقین دلایا تھا۔
افغان طالبان کے لیے ایک عرصے سے محفوظ پناہ گاہ بنے رہنے والے پاکستان کا بھی کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں مخلوط حکومت کے قیام کے لیے کوششیں کر رہا ہے اورمغربی ممالک بھی افغانستان کو تسلیم کرنے سے متعلق باہمی طور پر فیصلہ کریں گے۔ یاد رہے کی اگلے ہفتے بڑی صنعتوں والے سات ممالک کے سربراہان کے گروپ جی سیون کی ملاقات طے ہے۔ یہ رہنما طالبان کے لیے اہداف کا تعین کریں گے جن کو پورا کرنے پر یہ ممالک سفارتی طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ تاہم دفترخارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پھونک کر قدم رکھے گا اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

Back to top button