کیا پاکستان مودی مخالف کسان تحریک کو بڑھاوا دے رہا ہے؟

انڈیا کی مودی سرکار نے اب یہ لطیفہ چھوڑ دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر زور پکڑتی کسانوں کی حکومت مخالف تحریک سے وابستہ اکاؤنٹس اور مواد کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔
یہ الزام لگانے کے بعد بھارتی حکومت نے ٹویٹر حکام سے رابطہ کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام اکاؤنٹس کو بلاک کیا جائے جو کہ انڈین کسانوں کی حکومت مخالف تحریک کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ تاہم ٹویٹر حکام نے ان اکاونٹس کو بلاک کرنے کے چھ گھنٹے بعد ہی بحال کردیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے پاس ان اکاؤنٹس کو بلاک رکھنے کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں تھی۔
یاد رہے کہ انڈیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے مطابق حکومت ایسے آن لائن مواد کو بلاک کر سکتی ہے جو ’ملکی سلامتی کےلیے خطرہ ہو۔‘
دوسری جانب پاکستان نے چند ایسے ٹوئٹر اکاؤنٹس بلاک کرنے کے معاملے کو ٹوئٹر انتظامیہ کے ساتھ اٹھایا ہے جو ان کے مطابق ’کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے بارے میں ٹویٹس‘ کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے نئے سوشل میڈیا رولز کے مطابق ایسے مواد کو ہٹایا یا بلاک کیا جا سکے گا جو ’اسلام، پاکستان کی سالمیت، دفاع اور سکیورٹی کے خلاف ہوں۔‘ ملک میں آن لائن حقوق کے تحفظ کی تنظیموں نے ان قوانین پر اعتراض کیا ہے لیکن وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ’پاکستان اور اس کے اداروں کو بدنام کرے۔‘
حال ہی میں ٹوئٹر انتظامیہ نے انڈین حکومت کی درخواست پر تقریباً 250 اکاؤٹس کو ’امن عامہ میں خلل ڈالنے‘ کے الزامات کے تحت معطل کیا تھا۔ ان اکاؤنٹس میں ایک تحقیقاتی رسالے، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ان تنظیموں کے اکاؤنٹس شامل تھے جو انڈیا میں کسانوں کی حکومت مخالف تحریک کی سپورٹ کر رہے تھے۔ تاہم ٹوئٹر نے ان اکاؤٹس کو بند کرنے کے چھ گھنٹے بعد ہی دوبارہ بحال کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ ان اکاؤنٹس کی معطلی ’ناکافی شواہد‘ کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ اس پر مودی حکومت زیادہ خوش نہیں ہوئی اور اس نے ایک سخت بیان میں ٹوئٹر کو یہ اکاؤنٹس دوبارہ بند کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے دھمکی دی کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کے انڈیا میں موجود ملازمین کو ’قانونی نتائج بھگتنا ہوں گے‘۔ ان نتائج میں ٹوئٹر ملازمین کو سات برس تک قید بھی دی جا سکتی ہے۔ انڈین حکومت کا اصرار ہے کہ ان اکاؤنٹس سے کی جانے والی ٹویٹس ملک میں ’انتشار پھیلانے، اشتعال دلانے اور بے بنیاد حقائق پر مبنی ایک سوچی سمجھی حکومت مخالف مہم کا حصہ ہیں۔‘
دوسسری جانب حکومت پاکستان نے گزشتہ برس پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ یعنی پیکا کی شق 37 کے تحت سوشل میڈیا مواد کے قوانین متعارف کروائے تھے۔ تاہم ان قوانین پر شدید ردعمل آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ان قواعد میں ترمیم کےلیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے بعد میں ترمیم شدہ قواعد متعارف کروائے گئے جو نومبر 2020 سے لاگو ہونا تھے۔ پاکستان میں آن لائن حقوق کےلیے کام کرنے والی تنظیمیں اور کارکنوں نے ان نئے قوانین کو بھی بنیادی آزادی اظہار کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کا آمرانہ اقدام قرار دیا اور اس کے خلاف وفاقی دارالحکومت کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک قانونی درخواست دائر کر دی تھی۔ اس پر 25 جنوری کو سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ان قواعد پر حکومت کو تمام فریقین کو بلا کر دوبارہ نظر ثانی کا حکم دیا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ معاملہ بنیادی حقوق سے متعلق ہے اور لگتا ہے کہ سوشل میڈیا رولز بناتے ہوئے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی۔‘
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر مواد کے بارے میں نئے قواعد کے مطابق سوشل میڈیا پر مواد کو ریگولیٹ کرنے اور ’غیر قانونی مواد‘ کے حوالے سے شکایات پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی دیکھے گی۔ نئے سوشل میڈیا رولز کے مطابق ’اتھارٹی کسی بھی مواد یا انفارمیشن میں خلل نہیں ڈالے گی یا محدود نہیں کرے گی ماسوائے ایسے مواد کے جو ’اسلام مخالف، پاکستان کی سالمیت، دفاع اور سکیورٹی‘ کے خلاف ہوں۔ اس کے علاوہ مفاد عامہ اور عوامی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی غلط معلومات کی تشہیر کے خلاف اتھارٹی کے پاس کارروائی کرنے کا اختیار ہوگا جب کہ ’غیر اخلاقی‘ مواد کو بھی بلاک یا ہٹانے کا اختیار ہوگا۔ ترمیم شدہ رولز میں ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جن پر پانچ لاکھ سے زیادہ پاکستانی صارفین موجود ہوں گے خود کو پاکستان میں رجسٹر کروانے اور دفاتر کھولنے کے پابند ہوں گے۔ اس کےلیے ان سوشل میڈیا کمپنیز کو اب نو ماہ کا وقت دیا گیا ہے جب کہ پہلے مسودے میں ان کو تین ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کمپنیز تین ماہ کے اندر اپنے فوکل پرسن مقرر کرنے کی پابند ہوں گی جو پی ٹی اے اور سوشل میڈیا کمپنی کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرے گا۔ سوشل میڈیا کمپنیز کو پاکستانی صارفین کے ڈیٹا کو تحفظ فراہم کرنے کےلیے 18 ماہ کے اندر ایک یا ایک سے زائد ڈیٹا سرور ملک میں قائم کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی تحقیقات کےلیے سوشل میڈیا کمپنی یا پلیٹ فارم دستیاب معلومات اتھارٹی اور ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو مہیا کرنے کا پابند ہوگا۔ نئے رولز کے مطابق ایسے مواد کی لائیو اسٹریمنگ یا اپ لوڈنگ قابل گرفت جرم ہوگا جس میں دہشت گردی، شدت پسندی، نفرت انگیز مواد، فحش، تشدد پر اکسانے یا پاکستان کی سکیورٹی کے خلاف مواد شامل ہو۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود مواد سے متاثرہ شخص پی ٹی اے میں شکایات درج کر سکے گا، اس کے علاوہ کوئی بھی وزارت، ڈویژن، صوبائی محکمہ یا سکیورٹی ادارے کسی مواد کے خلاف آن لائن شکایت کر سکیں گے جبکہ اتھارٹی شکایت کنندہ کی شناخت کو خفیہ رکھنے کی پابند ہو گی۔ اس کے علاوہ اتھارٹی کو بھی کسی غیر قانونی مواد کے خلاف متعلقہ کمپنی کو مواد ہٹانے کی ہدایات جاری کرنے کا اختیار ہوگا۔
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ’لندن ہو، امریکہ ہو، یورپ ہو یا دنیا کا کوئی بھی ملک ہوں کسی کو بھی غیر مصدقہ، غلط ٹویٹس، فیک نیوز یا جھوٹی باتیں کرنے کا حق نہیں ہے کیوں کہ یہ معاشرے میں اضطراب اور اشتعال پیدا کرتی ہیں۔‘ کیا حکومت اپنے خلاف ہونے والی تنقید کو روکنے کےلیے ایسے اقدامات کر رہی ہے کہ سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو جان بوجھ پر بدنام کیا جا رہا ہے، اس کے خلاف ایک سوچی سمجھی مہم کے خلاف غلط خبریں لگائی جا رہی ہیں۔ ایسا ہم نے انڈین کورنیکلز کے معاملے میں بھی دیکھا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس میں انکشاف ہوا کہ کیسے سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں، نقلی شناخت کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ہر حق حاصل ہے کہ ہم چیزوں کو اس طرح سنبھالیں کہ معاشرے میں پراپیگنڈا، غلط اور جھوٹی خبریں پھیلنے کی بجائے امن قائم ہو۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button