کیا پاکستان میں صرف بلڈی سویلینز ہی کرپٹ ہیں؟


پاکستان کی 73 سالہ سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں احتساب صرف بلڈی سویلینز یعنی عوامی نمائندوں کا ہی ہوتا ہے اور نان سویلینز کو اس معاملے میں چھوٹ حاصل ہے۔ یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کی کرپشن کا نہ کوئی ذکر کرتا ہے اور نہ ہی ان کی کھلی بدعنوانیوں پر کوئی ادارہ ان کا احتساب کرتا ہے۔ چند ایک مثالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سویلینز کے مقابلے میں طاقتور اداروں سے وابستہ افراد کئی سو گناہ زیادہ کرپشن کے مرتکب ہوتے ہیں مگر کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک غیر سویلین فوجی شخصیت کا احتساب ہوا جس کا نام ایڈمرل منصور الحق تھا لیکن اسے بھی اربوں روپے کے کرپشن الزامات میں محض چند کروڑ روپے میں پلی بارگیننگ کر کے چھوڑ دیا گیا۔
ابھی کل کی بات ہے کہ مشہور زمانہ آگوسٹا آبدوز سکینڈل میں پاک نیوی کے سابق سربراہ ایڈمرل منصورالحق تو نیب کے ساتھ پلی بارگین کرکے صاف بچ نکلے اور امریکہ میں سیٹل ہو گئے اور پھر وہیں 2018 میں وفات پاگئے لیکن اس کے برعکس فرانس نے 15 جون 2020 کو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے تقریبا تین دھائیاں گزر جانے کے بعد اس کرپشن کیس میں ملوث میں چھ افراد کو 18 لاکھ پاؤنڈ رشوت لینے کے جرم میں سزا سنائی۔ کئی عشروں تک چلنے والی تحقیقات میں تین سابق فرانسیسی حکومتی عہدیداروں اور تین دیگر افراد کو کراچی افیئر یا کراچی گیٹ میں ملوث پایا گیا اور ثابت ہوا کہ اس معاہدے میں خفیہ طور پر رشوت لی گئی تھی جس کی مدد سے پیسے فرانس لائے گئے تھے۔
مقام حیرت ہے کہ 91 برس کے ضعیف العمربا لادور اور ان کے وزیرِ دفاع فرانسوا لیوٹارڈ کے خلاف مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور وہ پیرس میں اس حوالے سے فوجداری عدالت کا سامنا کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں آٹھ مئی 2002 کو ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری کار کو فرانسیسی انجنیئرز کی منی بس سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوئے جن میں 11 فرانسیسی انجنیئر بھی شامل تھے جو فرانس کی نیوی کی کنسٹرکشن کمپنی ڈی سی این کے ملازم تھے۔یہ انجنیئر پاکستان میں آگوسٹا آبدوز کی تیاری کے لیے یہاں موجود تھے، پاکستانی بحریہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے آگوسٹا آبدوزیں فرانس نے پاکستان کو فروخت کی تھیں۔ حملے کے اس واقعے کی تحقیقات کے دوران پاکستان اور فرانس کی اہم شخصیات میں کمیشن کا سکینڈل سامنے آیا، جس کو کراچی افیئر کا نام دیا گیا۔ پاکستان نیوی کے سابق ڈی جی انٹیلی جنس کموڈور شاہد اشرف نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ 1992 میں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں نیوی نے 52 کروڑ ڈالرز کی مالیت کی آبدوزوں کی خریداری کی منظوری دی تھی تاہم 21 اگست 1994 کو آگوسٹا کی خریداری کا معاہدہ ہوا تو اس وقت بینظیر بھٹو اقتدار میں تھیں۔
1994 میں تین آگوسٹا آبدوزوں کی خرید کا آرڈر دیا گیا تھا ان میں سے ایک فرانس میں تیار کی گئی تھی جبکہ باقی دو کی تیاری پاکستان میں عمل میں لائی گئی۔ پاکستان نیوی کے سابق ڈی جی انٹیلی جنس کموڈور شاہد اشرف کے مطابق انھیں اس سودے میں ایک لاکھ ڈالر سے زائد رقم اعلیٰ نیوی حکام کو بطور رشوت دینے کی اطلاع ملی تھی لیکن بحریہ کے سربراہ ایڈمرل منصور الحق نے مشورہ دیا کہ خاموشی اختیار کریں۔ خیال رہے کہ ابتدائی طور پر اس سکینڈل میں صرف نیوی کے چند سینیئر افسران پر رشوت اور کمیشن لینے کی اطلاعات تھیں اور دوسری طرف منصور الحق نے کسی کو یہ پتہ لگنے نہ دیا کہ وہ خود اس میگا کرپشن کیس میں مرکزی کردار ہیں۔
یاد رہے کہ ایڈمرل منصور الحق پاکستان نیوی کا سربراہ تھا، یہ 10 نومبر 1994ء سے یکم مئی 1997ء تک نیول چیف رہا۔ منصور الحق پر ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 300 ارب روپے کی کرپشن کا الزام نیوی کے لیے خریدے گئے بحری جہاز، ہتھیار، آگوسٹا آبدوزیں، نیوی اور نیشنل شپنگ کارپوریشن کے سکریپ بحری جہاز بیچنے کے دوران کمشن اور کک بیکس لینے پر لگا۔
نواز شریف حکومت نے یکم مئی 1997ء کو اسے نوکری سے برخاست کر دیا اور اس کے خلاف تحقیقات شروع کرا دیں جبکہ منصور الحق 1998ء میں ملک سے فرار ہو گیا اور امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں پناہ گزین ہو گیا۔پاکستان میں اس کے خلاف مقدمات چلتے رہے، جنرل پرویز مشرف نے جب نیب بنائی تو یہ مقدمات نیب میں منتقل ہو گئے اور اتفاق سے اسی دوران امریکہ میں اینٹی کرپشن قوانین پاس ہو گئے، ان قوانین کے مطابق دنیا کے کسی بھی ملک کا کوئی سیاستدان، بیوروکریٹ یا کوئی تاجر کرپشن کے بعد فرار ہو کر امریکا آئے گا تو اسے نہ پناہ ملے گی اور نہ ہی رہائشی سہولتیں بلکہ یہ کرپٹ شخص امریکا میں گرفتار بھی ہوگا اور امریکی حکومت اس کے خلاف مقدمہ بھی چلائے گی۔نیب نے اس قانون کی روشنی میں امریکی حکومت کوخط لکھا اور امریکہ نے 17 اپریل 2001ء کو منصور الحق کو آسٹن سے گرفتار کرکے اسے جیل میں بند کیا اور اس کے خلاف مقدمہ شروع کر دیا گیا۔منصور الحق کو جیل میں عام قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا تھا اور اسے ہتھکڑی پہنا کر عدالت لایا جاتا یہ سلوک نازوں کا پلا منصور الحق برداشت نہ کر سکا اور اس نے امریکی حکومت کو لکھ کر دے دیا کہ مجھے پاکستان کے حوالے کر دیا جائے جہاں میں اپنے ملک میں مقدمات کا سامنا کروں گا امریکی جج نے یہ درخواست منظور کرلی۔ یوں منصور الحق کو ہتھکڑی لگا کر جہاز میں سوار کر دیا گیا۔ سفر کے دوران اس کے ہاتھ بھی سیٹ سے بندھے ہوئے تھے مگر جوں ہی یہ جہاز پاکستانی حدود میں داخل ہوا تو نہ صرف منصور الحق کے ہاتھ کھول دیے گئے بلکہ اسے وی آئی پی لائونج کے ذریعے ائیر پورٹ سے باہر لایا گیا اور نیوی کی شاندار گاڑی میں بٹھایا گیا، پولیس، ایف آئی اے اور نیب کے افسروں نے اسے سیلوٹ بھی کیا، پھر یہ سہالہ لایا گیا جہاں سہالہ کے ریسٹ ہائوس کو سب جیل قرار دیا گیا اور منصور الحق کو اس جیل میں قیدکر دیا گیا۔ منصور الحق کی جیل میں نہ صرف اے سی کی سہولت بھی تھی بلکہ اسے خانساماں بھی دیا گیا۔بیگم صاحبہ اور دوسرے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت بھی تھی اورمنصور الحق لان میں چہل قدمی بھی کر سکتا تھا۔ نیب اور ایف آئی اے کے دفتر نہیں جاتا تھا بلکہ تفتیشی ٹیمیں اس سے تفتییش بھی اس کے بیڈ روم میں ہی کرنے آتی تھی۔ مگر یہ بھی آن ریکارڈ ہے کہ تفتیش کرنے والی ٹیمیں آپ کیلئے تازہ پھل اور جوس ساتھ لیکر آتی تھیں۔
مزید ستم ظریفی دیکھئے کہ 300 ارب روپے کی کرپشن کا ملزم صرف 45 کروڑ 75 لاکھ واپس لے کر پلی بارگین کے نام پر رہا کر دیاگیا۔ 2012 میں اس کا ضبط شدہ گھر اور مرسیڈیز گاڑی کی مالیت 10 لاکھ ثابت کرتے ہوئے ایک لیفٹیننٹ کرنل کے جنبش قلم مبارک سے واپس ہدیہ تبریک کے طور پر اسے پیش کر دی گئیں۔کہانی یہیں ختم نہیں ہو جاتی 2013 میں موصوف نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل کی کہ مجھے میرا ملٹری رینک بمع پینشن اور دیگر مراعات واپس کیا جائے جس پر معزز عدالت نے کمال انصاف پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسکو فور سٹار رینک بمع پینشن اور دیگر مراعات مرحمت فرما دیا۔ ایڈمرل منصورالحق 2018 میں امریکہ میں انتقال کر گئے۔
منصور الحق کی عجب کرپشن کی غضب داستان کوئی اکلوتا واقعہ نہیں۔ اس جیسے نہ جانے کتنے ہی واقعات ہیں جو مقتدر اداروں سے وابستہ اعلیٰ حکام کی کرپشن کی داستانوں سے لتھڑے پڑے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس ملک میں طالع آزما قوتوں کی کرپشن پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے اور سیاستدا نوں کو دل کھول کر ملعون و مطعون کرنا یہاں کا کلچر ہے۔ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے اور نہ جانے یونہی کب تک چلتا رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button