امریکی صدارتی الیکشن ٹرمپ جیتے گا یا جوبائیڈن؟

اگرچہ امریکی عوام کی رائے پر مبنی انتخابی جائزوں کے مطابق صدارتی الیکسن کی دوڑ میں جو بائیڈن صدر ٹرمپ سے آگے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ اس مرتبہ 3 نومبر کے الیکشن کے انتخابی نتائج تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں اور ٹرمپ کی دھمکی کے عین مطابق بائیڈن کی جیت کی صورت میں ملک میں امن و امان کا مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔
امریکی انتخابات کے تناظر میں سوال صرف یہ نہیں کیا جو بائیڈن بالآخر پہلی بار امریکی صدر بننے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مدت کے لیے صدر رہیں گے۔ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ پوسٹل بیلٹس سے متعلق تنازعات کے بعد انتخابی نتائج کتنی تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے کہنے کے مطابق اگر وہ ہار گئے تو پرامن انتقال اقتدار کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی، اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو امریکہ میں امن وامان کا مسئلہ کس حد تک سنگین ہوسکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سال ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں ہار اور جیت کا فیصلہ صرف چند امریکی ریاستوں کے نتائج پر منحصر ہو سکتا ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ زیادہ تر ریاستیں کسی ایک امیدوار کو چنیں گی۔ خیال رہے کہ لاکھوں امریکی پہلے ہی ووٹ دے چکے ہیں لیکن ہر ریاست کے پاس اس کے مختلف قوانین ہوتے ہیں جب وہ اصل میں ان بیلٹوں کی گنتی شروع کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق الیکشن کے بعد نتائج آنے کا عمل کئی دن اور کئی ہفتوں پر بھی مشتمل ہوسکتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر انتخابی اہلکار انتخابی دن سے ہفتوں قبل بیلٹ پر کارروائی شروع کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کارکن ووٹر کی معلومات کی تصدیق کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے انتخابات کے دن گنتی کا عمل بہتر ہوجاتا ہے اور نتائج کے اجرا میں تیزی آجاتی ہے لیکن یہ اتنا بھی آسان نہیں ہوتا کیونکہ بعض ریاستوں میں قانون بیلٹ کی جلد کارروائی کو ممنوعہ قرار دیتا ہے۔
چنانچہ 3 نومبر کو امریکا میں انتخابات کے دن عہدیداروں کو غیر متوقع طور پر میل کردہ ووٹوں کی غیرمعمولی تعداد پر کام کرنے کے ساتھ ‘ان پرسن’ الیکشن کو بھی جاری رکھنا ہوگا۔ اس کے نتیجے میں تاخیر اور بڑی تبدیلیوں کا امکان ہوتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ بغیر کسی ثبوت کے ووٹنگ میں دھوکہ دہی کی وارننگ دے چکے ہیں۔ اسی وجہ سے خدشات ہیں کہ ٹرمپ کی جانب سے ووٹوں کی گنتی میں تاخیر کی صورت میں انتخابی نتائج کو رد بھی کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم قرین قیاس ہے کہ رواں برس انتخابی نتائج معمول سے زیادہ وقت لے سکتے ہیں۔ یہاں ایک اور پہلو قابل غور ہے کہ یو ایس پوسٹل سروس میں ملک بھر میں ترسیل کی وجہ سے تاخیر سے یہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ شاید گنتی کے وقت بیلٹ نہ پہنچیں۔ ریپبلکن نے انتخابی عہدیداروں کو انتخابی دن کے بعد ہونے والے بیلٹ گنتی سے روکنے کے لیے عدالت سے بھی رجوع کرلیا ہے۔ جس کے نتیجے میں ریاست کے انتخابی عملہ پوسٹل سروس کو استعمال کرنے کی بجائے ووٹروں کو ذاتی طور پر اپنا ووٹ ڈالنے پر زور دے رہے ہیں۔ عدالتوں نے وسکونسن اور انڈیانا میں بھی اسی طرح کی توسیعات کو مسترد کردیا ہے۔
یاد رہے کہ انتخابی مہم کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات میں شکست کی صورت میں پُرامن انداز میں اقتدار کی منتقلی سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں بہت عرصے سے ووٹوں کے متعلق شکایات کرتا رہا ہوں، یہ بیلیٹ تباہ کُن ہیں۔ انتخابی عمل سے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکی انتخابات کے نتائج کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات ملک کے مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہیں کیونکہ ٹرمپ نے جس طرح ملک میں نظریاتی تقسیم کے عمل کو آگے بڑھایا ہے اب اس سے واپسی کا عمل بڑا مشکل نظر آتا ہے۔
