1947 سے لاپتا حامد میر کی نانی جان کی کہانی


سابق وزیر دفاع اور مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی کشمیر پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کی نانی 1947 میں کشمیر کا بارڈر کراس کرتے ہوئے لاپتہ ہوئیں اور آج تک ان کا سراغ نہیں مل پایا۔ تاہم اپنی نانی محترمہ کے حوالے سے حامد میر نے اصل حقائق اپنے ایک کالم میں بیان کئے ہیں جو کہ روزنامہ جنگ میں شائع ہوا تھا۔ یاد رہے کہ حامد میر کے نانا غلام محمد اور ان کے دادا میر عبدالعزیز دونوں کا تعلق جموں کشمیر سے تھا اور دونوں کے خاندان قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے سیالکوٹ میں آباد ہوئے تھے۔
اپنی نانی کی گمشدگی کے حوالے سے حامد میر نے اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ‘میں نے اپنی پوری زندگی میں فاطمہ غلام کو دیکھا نہ ان سے ملا لیکن میرے لئے وہ آزادی کی علامت ہیں۔ میں نے ان کا ذکر پہلی مرتبہ 1971میں سنا، جب میں پانچ برس کا تھا۔ میں کسی کے ہلکے ہلکے رونے کی آواز سے نصف شب کو جاگ گیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ دراصل میری والدہ رو رہی تھیں۔ تب میرے والد پروفیسر وارث میر سابق مشرقی پاکستان اور موجودہ مغربی پاکستان کے خیر سگالی دورے پر ڈھاکا میں تھے۔ میں نے سوچا غالبا میری والدہ میرے والد کی کمی محسوس کر رہی ھیں، لہذا میں چھلانگ لگا کر انکے بستر میں پہنچ گیا اور انہیں اپنے ننھے بازوؤں میں لپٹا لیا۔ میرے گال ان کے آنسوؤں سے تر ہوگئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں۔ انہوں نے میرے گالوں پر پیار کیا اور آہستگی سے کہا کہ جاؤ جاکر سو جاؤ۔ لیکن جب میں نے اپنا سوال دھرایا تو وہ ایک مرتبہ پھر رونے لگیں اور کہا کہ ’’1947 ختم ہی نہیں ہوتا، یہ خون خرابہ کب رکے گا؟‘‘ میں چکرا گیا اور ان سے پوچھا کہ ’’امی جی 1947 میں کیا ہوا تھا؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ اس سال پاکستان آزاد ہوا تھا، تب بہت سے لوگ قتل اور اغوا ہوئے تھے۔
جب میں نے اپنی والدہ ممتاز میر سے پوچھا کہ ’’اغوا کیا ہوتا ہے تو میری والدہ نے بلند آواز سے رونا اور سسکیاں لینا شروع کردیں۔ میں دہشت اور حیرت کی کیفیت میں آچکا تھا۔ کچھ دیر بعد جب ان کی ہچکیاں کم ہوئیں تو انہوں نے حوصلہ کر کے مجھے فاطمہ غلام کے بارے میں بتایا جو ان کی والدہ تھیں، یعنی میری نانی۔ اگست 1947سے چند ہفتوں قبل پنجاب کو ہلا کر رکھ دینے والے قتل عام کے دوران انہوں نے خاندان کے دیگر لوگوں کے ہمراہ جموں کشمیر میں اپنے آبائی گھر سے نکل کر سیالکوٹ جانے والی بس پکڑی جو بہت زیادہ دور نہیں تھا اور جسے بین الاقوامی سرحد بننا تھا۔ میری نانی کے والد یعنی میرے نانا ان کے ہمراہ نہیں آسکے تھے کیونکہ وہ دیگر رشتے داروں کی ہمارے نئے وطن پاکستان نقل مکانی میں مدد دینے کا انتظام کر رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی میری نانی کی بس جموں شہر سے باہر نکلی، مسلح ہندو اور سکھوں کے جتھے نے اسے روک لیا۔ انہوں نے بے رحمی سے تمام مرد مسافروں کو عورتوں اور بچوں کے سامنے قتل کر دیا۔ میری والدہ چھوٹی بچی تھیں۔ جب حملہ آوروں نے خواتین سے کہا کہ وہ بس سے باہر آئیں تو میری نانی غلام فاطمہ نے میری والدہ ممتاز سے کہا کہ وہ لاشوں کے نیچے چھپ جائیں۔ انہوں نے اپنی دو دیگر بچیوں کو بھی لاشوں کے نیچے چھپا دیا۔ لیکن انکا ننھا بیٹا ان کی گود میں رو رہا تھا۔ وہ اتنا چھوٹا تھا کہ اسے چھپایا نہیں جاسکتا تھا لہذا وہ اسکو ساتھ لے کر قریبی جنگل میں بھاگ گئیں۔ دوسری جانب میری والدہ خود کو اور اپنی دونوں چھوٹی بہنوں کو خون کے تالاب میں چھپانے میں کامیاب ہوگئیں اور اس طرح انکی جانیں بچ گئیں۔ بعد ازاں زندہ بچ کر پاکستان پہنچ جانے والے میری والدہ کے ایک رشتہ دار نے انہیں بتایا کہ انہوں نے آخری مرتبہ فاطمہ غلام کو اپنے دائیں ہاتھ میں ایک چھڑی اور بائیں ہاتھ میں چھوٹے بیٹے کو پکڑ کر حملہ آوروں سے لڑتے ہوئے دیکھا تھا لیکن پھر ان پر قابو پالیا گیا اور حملہ آور انہیں گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔
حامد میر اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ میں کبھی بھی اپنے ذہن سے اپنی نانی کی کہانی کو کھرچ نہ پایا۔ وہ لکھتے ہیں کہ میری والدہ اور ان کی بہنوں کو نومبر 1947 میں بلوچ رجمنٹ نے کٹھوعہ کے قریب سڑک پر بھری ہوئی لاشوں میں سے نکالا تھا۔ انہیں مہاجر کیمپ بھیج دیا گیا، جہاں میرے نانا نے انہیں چند ہفتوں کے بعد تلاش کر لیا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کو کئی سال تک تلاش کیا۔ ایک مرحلے پر میرے نانا نے چند مغوی ہندو خواتین کو مغوی مسلم خواتین سے تبادلے کا بھی اہتمام کیا لیکن فاطمہ غلام کبھی واپس نہ آئیں۔ مجھے یہ بات سمجھنے میں کئی برس لگے کہ 1971 میں اس رات میری والدہ اتنی شدت سے کیوں رو رہی تھیں۔ وہ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران قتل اور اغوا کی کہانیاں سن چکی تھیں، جس سے وہ دردناک یاددیں پھر عود کر آئیں جنہیں وہ اس وقت سے دبانے کی کوشش کر رہی تھیں جب وہ بچی تھیں۔ میں اپنی ماں کے بہت قریب تھا۔ میں اپنی والدہ کے ساتھ ان متعدد صوفیوں کے مزاروں پر جایا کرتا تھا جہاں جا کر وہ اپنی لاپتہ والدہ اور بھائی کی واپسی کیلئے بہت اخلاص سے دعا کیا کرتی تھیں۔ لہذا مجھے لاپتہ افراد کا دکھ ان سے ورثے میں ملا ہے۔
جب بےنظیر بھٹو 1988میں پاکستان کی وزیراعظم بنیں تو میری والدہ نے مجھ سے پوچھا ’’کیا وہ میری والدہ اور بھائی کو تلاش کرنے میں مدد کر سکتی ہیں؟‘‘ وہ اپنی والدہ کے حوالے سے کبھی ناامید نہ ہوئیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے بتایا، ’’1947میں ہندو اور سکھوں نے مسلم خواتین اور مسلمانوں نے ہندو اور سکھ خواتین کو اغوا کیا۔ دونوں جانب برے لوگ تھے لیکن اچھے لوگ بھی تھے۔‘‘ ہر سال یوم آزادی پر میری والدہ غریبوں میں خوراک اور پیسے تقسیم کیا کرتی تھیں۔ آزادی کا مطلب امن اور ہم آہنگی ہوتا ہے لیکن میری والدہ کے لئے دکھ کبھی ختم نہیں ہوا۔ ان کا انتقال دسمبر 1993 میں اچانک ہوا۔ انکے پاس اپنی والدہ غلام فاطمہ کی ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر تھی۔ اب وہ تصویر میرے موبائل فون میں محفوظ ہے اور میرے دل کی دیوار پر بھی آویزاں ہے۔ چند برس قبل میں نے نینا ایلس فریشمین اور کرسٹوفر ہل کی تحریر کردہ کتاب
’’Silence Revealed:Womenʼs Experiences during Partition of India‘‘
پڑھی۔ اس کتاب نے مجھے بتایا کہ میری والدہ نے کیوں مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں ان کی والدہ کی کہانی کسی کو نہیں سناؤں گا۔ وہ اپنی ماں کی توہین نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ حقیقت میں تقسیم کی متاثرہ بہت سی خواتین اس دہشت کے بارے میں کبھی بات نہیں کی جس سے وہ زندگی بھر گزری تھیں۔ زیادہ تر ایسی خواتین جو اغوا ہوئی تھیں انہیں بے آسرا چھوڑ دیا گیا۔ ان کے خاندان محض اس وجہ سے ان کی واپسی کے خواہش مند نہیں تھے کہ ان کی ’’پامال شدہ عزت‘‘ کی موجودگی ان کیلئے باعث شرم تھی۔
بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے مابین 1949میں ایک معاہدہ ہوا کہ اغوا شدہ افراد کو بازیاب کروایا جائے لیکن اس معاہدے پر عمل نہ ہوسکا۔ میں کسی طرح اپنی والدہ کے اپنی لاپتہ ماں کیلئے نکلنے والے آنسوؤں کو نہیں بھول سکتا۔ میرے لئے آزادی میری نانی فاطمہ غلام اور ان کی طرح کی ہزاروں خواتین کی دی گئی قربانیوں کی یاد دہانی ہے۔ یہ تمام خواتین صرف امن سے رہنے کی خواہش مند تھیں لیکن بے رحمانہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی پے در پے نسلیں اب بھی اس ناقابل حصول احساس کی تلاش میں ہیں۔ جب بھی یوم آزادی آتا ہے تو میں فاطمہ غلام کے بارے میں سوچتا ہوں جنہیں 1947 میں اغوا کر لیا گیا تھا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ کون سے حکمران ہیں جنہوں نے میری آزادی کو اغوا کرلیا ہے اور اسے خول میں تبدیل کر دیا ہے؟۔بلاشبہ آزاد ہونا ایک بڑی کامیابی ہے لیکن ہم نے اس آزادی کو ایٹم بم بنانے کیلئے استعمال کیا ہے اور جس کا ہم ایک دوسرے کی جانب اشارہ کرتے رہتے ہیں۔ آزادی کا مطلب بمشکل ہی ترقی، افزائش اور ہر آنکھ سے آنسو پونچھنا رہا ہے جس کا ہم سے 1947میں وعدہ کیا گیا تھا۔ زیادہ تر آزادی اشرافیہ تک محدود ہے۔ ایک بڑی اکثریت اب بھی غربت اور بیماریوں کی غلام ہے۔ آج بھی لاکھوں فاطمہ ایسی ہیں جو اپنے دل کی بات آزادی سے نہیں کر سکتیں۔ ہم یوم آزادی پر گاندھی اور قائد اعظم کی بات کرتے ہیں، یہ دونوں چاہتے تھے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ تحمل سے رہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ہم روز بروز ایک دوسرے کیلئے ناقابل برداشت ہوتے جارہے ہیں۔ آئیے ان ہزاروں فاطماوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جنہیں 1947 میں دونوں جانب اغوا، قتل اور بے حرمت کیا گیا تھا۔ آئیے ان عام افراد کیلئے یادگاریں بنائیں جنہوں نے مصائب سہے اور اپنی زندگی کی صورت میں اس کی قیمت ادا کی۔ آئیے تقسیم کے دکھ کو قبول کر لیں۔ آئیے یہ سمجھ لیں کہ ہمیں بطور پڑوسی ایک دوسرے کیساتھ رہتے رہنا ہے۔ آئیے ہم یہ سوال کریں کہ 1947میں شروع ہونے والی خوں ریزی ختم کیوں نہیں ہوتی۔ ہماری قسمت میں کیوں تشدد اور دکھ کے چکر کو دہراتے رہنا لکھا ہے، امن 1947سے کیوں لاپتہ ہے۔ حقیقی آزادی اس وقت ملے گی جب ہم یہ سوالات کے جوابات حاصل کر لیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button