کیا پاکستان میں پلاسٹک کے کرنسی نوٹ جاری ہونے والے ہیں؟

سوشل میڈیا پر افواہیں گرم ہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کاغذ کے کرنسی نوٹوں کی جگہ پلاسٹک کے بنے ماحول دوست اور کم سے کم آلودگی پھیلانے والے کرنسی نوٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یورپ کے کئی ممالک میں پہلے ہی پلاسٹک کے بنے کرنسی نوٹ استعمال کیے جا رہے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سو سال بھی خراب نہیں ہوتے۔
ملک میں زیر گردش جعلی کرنسی بارے تو خبریں اکثر زیر گردش رہتی ہیں اور اسکے تدارک کے لیے اصل کرنسی کی پہچان کے لیے ٹپس بھی سوشل میڈیا پر نظر آتی رہتی ہیں لیکن اب پاکستانی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستانی کرنسی نوٹ کے نئے ڈیزائن شیئر کیے جا رہے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے نئے کرنسی نوٹوں کے حتمی ڈیزائن جاری کر دیئے ہیں اور جلد اس کی منظوری کے بعد پلاسٹک کے بنے نوٹ متعارف کروا دیئے جائیں گے۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے نئے ڈیزائن شیئر کرتے ہوئے سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا واقعی پلاسٹک کے بنے ہوئے کرنسی نوٹ متعارف کروائے جا رہے ہیں؟ کچھ صارفین کی جانب سے نئے ڈیزائن کی خصوصیات بھی بتائی جا رہی ہیں کہ پلاسٹک سے تیار کردہ ان کرنسی نوٹوں کی بدولت جعلی کرنسی تیار کرنا اب مشکل ہو جائے گا۔ تاہم اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان عابد قمر نے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ جاری کرنے کی افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے زیر غور نہ تو کوئی ایسی تجویز یے اور نہ ہی نوٹوں کے ڈیزائن تبدیل کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ ہوا ہے۔ عابد قمر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس سے پہلے بھی ایسی افواہیں گردش کرتی رہی ہیں لیکن اس کا اعلان نہ کبھی حکومت کی طرف سے کیا گیا نہ ہی سٹیٹ بینک کی جانب سے اس قسم کا کوئی اقدام سامنے آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن بارے کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے کرنسی نوٹس ڈیزائن کرنے کے لئے مختلف گروپس کو دعوت دی تھی اور حتمی طور پر پشاور یونیورسٹی کے ڈیزائنز کو حتمی قرار دیا گیا، ان میں پچاس روپے ، سو روپے ،پانچ سو روپے اور ایک ہزار روپے کے نوٹوں کے ڈیزائن تیار کیے گئے تھے۔ لیکن عابد قمر کے مطابق جب ہم نے پشاور یونیورسٹی والوں سے پوچھا تو انکے علم میں بھی ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ انکا کہنا تھا کہ صارفین کو تب تک کسی بھی ایسی خبر پر یقین نہیں کرنا چاہئے جب تک کسی تصدیق شدہ پیج یا حکومتی ادارے کی جانب سے ایسا اعلان نہیں کیا جاتا۔
دوسری جانب اس معاملے پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سابق وزیر خزانہ سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو کافی عرصے سے پلاسٹک کرنسی لانے کا کہا جا رہا ہے اور اسٹیٹ بینک خود بھی پلاسٹک کرنسی لانے پر کافی عرصے تک کام کرتا رہا ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی پلان فائنل نہیں ہوا۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستانی جعلی کرنسی بے تحاشا پھیلتی جا رہی ہے، جس کے خاتمے کے لئے ایسی کرنسی لانی ہوگی جو جعلی طریقے سے بنانا ناممکن ہو۔ یاد رہے کہ دنیا میں اب تک 30 کے قریب ممالک میں یہ پلاسٹک یا پولیمر کرنسی استعمال ہو رہی ہے۔ اس کا آغاز 1988 میں آسٹریلیا سے ہوا تھا۔ ماہرین کے مطابق پلاسٹک سے بنے نوٹ نہ صرف صاف ستھرے رہتے ہیں بلکہ سو سال سے زیادہ عرصے سے زیرِ استعمال کاغذ کے نوٹوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بھی ہیں۔ اسکے علاوہ پلاسٹک کے نوٹوں کی طباعت کی لاگت میں کاغذ کے نوٹ کی نسبت کم اخراجات اٹھتے ہیں۔ ایسے کرنسی نوٹ ماحول دوست اور کم سے کم آلودگی پھیلانے کا زریعے بھی بنتے ہیں۔برطانیہ میں سال 2012 میں پلاسٹک کرنسی متعارف کرنے سے قبل ایک سروے کیا گیا جس ملک کے مختلف شاپنگ سنٹروں میں آنے والے افراد سے اس مجوزہ تبدیلی کے بارے میں رائے لی گئی۔ ان میں سے 87 فیصد افراد پولیمر یا پلاسٹک کے نوٹوں کے حق میں تھے جب کہ صرف چھ فیصد نے مخالفت کی۔
پلاسٹک کا جاری ہونے والا پہلا انگلش نوٹ پانچ پاؤنڈ مالیت کا تھا جس پر سابق برطانوی وزیراعظم سر ونسٹن چرچل کی تصویر نظر آئی۔ اس کے ایک برس بعد دس پاؤنڈ کا پلاسٹک نوٹ مارکیٹ میں آیا جس پر برطانوی مصنفہ جین آسٹن کی شبیہ چھاپی گئی۔ یہ نوٹ حجم میں کاغذ کے نوٹوں سے چھوٹے ہیں اور ان کی عمر کاغذ کے نوٹوں کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ رہی۔ ایسے نوٹوں کو واشنگ مشین میں دھلنے کی صورت میں بھی کوئی نقصان نہیں پہنچتا تاہم تیز حرارت انھیں پگھلا دیتی ہے۔ عام طور پر پلاسٹک کے نوٹوں میں پولی پروپائلین نامی کیمیکل استعمال ہوتا ہے، پتلے، شفاف اور لچک دار پلاسٹک کے ٹکڑوں پر پر سفید روشنائی کی تہہ چڑھائی جاتی ہے اور پھر اس پر نوٹ کا ڈیزائن چھپتا ہے۔ اس کے علاوہ پلاسٹک منی پر ایسی حفاظتی خصوصیات بھی ہوتی ہیں جن کی بدولت یہ کاغذ کے نوٹوں سے زیادہ محفوظ ثابت ہوتے ہیں۔برطانیہ کے فوری بعد نیوزی لینڈ، میکسیکو، سنگاپور، فجی، کینیڈا اور ماریشز نے بھی یہ نوٹ استعمال کرنا شروع کر دیے تھے۔ بعد ازاں ان ممالک نے بینکوں کو بھی ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنی کیش، اے ٹی ایم اور دیگر مشینوں کو پلاسٹک کرنسی کے مطابق بنائیں۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں پلاسٹک کے بنے کرنسی نوٹ کب جاری ہوتے ہیں۔
