پی پی پی اور نواز لیگ اتحاد حکومت کے لیے پریشان کن

تحریک انصاف حکومت کی تین سالہ بدترین کارکردگی، منہ زور مہنگائی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں دراڑ آنے کے بعد پارلیمنٹ کی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں پی پی پی اور نواز لیگ بھی ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان کے خلاف متحد ہو گئی ہیں جس سے لگتا ہے کہ کپتان اینڈ کمپنی کے اقتدار کی الٹی گنتی میں تیزی آ گئی ہے۔ حکومت کے تیزی سے کمزور ہونے کا ایک واضح ثبوت 9 نومبر کے روز ملا جب قومی اسمبلی میں ووٹنگ کے دوران اپوزیشن نے دو مرتبہ حکومت کو شکست دی۔
چنانچہ اب اپوزیشن کی جانب سے پارلیمان میں حکومت کی جانب سے متنازع قانون سازی بشمول قومی احتساب آرڈیننس ترمیمی بل اور انتخابی اصلاحات بل منظور کرانے کی کوشش ناکام بنانے کی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ مشترکہ اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے اور متنازع قانون سازی میں شکست دینے کے لیے ٹھوس منصوبی بندی کر لی گئی ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں مشترکہ اپوزیشن کے غیر رسمی اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم آج کامیاب ہوئے اور مستقبل میں مشترکہ اپوزیشن مزید کامیاب ہوگی۔ انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی میں نجی اراکین کے بلز پیش کیے جانے کی دو کوششوں پر حکومت کو شکست دینے کے تناظر میں کہی۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی سے اپوزیشن اراکین کی عدم موجودگی میں اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی خفیہ حمایت سے کورم پورا ہونے پر سات بلوں کی منظوری کے ایک روز بعد 9 نومبر کو حکومت کو اسمبلی میں دو بل متعارف کرانے کی تحریک پر ووٹنگ کے دوران دو بار اپوزیشن کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے سب سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے رکن جاوید حسنین کی جانب سے سیاست دانوں کو اپنی پارٹیاں تبدیل کرنے سے روکنے کے لیے نجی بل پیش کرنے کی اجازت طلب کرنے کی تحریک پر 104 کے مقابلے 117 ووٹوں سے حکومت کو شکست دی۔ اس کے بعد تحریک انصاف کی رکن اسمبلی عاصمہ قدیر کی جانب سے خواتین کے خلاف نازیبا ریمارکس دینے والوں کے لیے سزا میں اضافے کے بل پر اپوزیشن نے دوبارہ حکومتی ارکان کو شکست دی۔ چنانچہ ڈپٹی اسپیکر نے اچانک اجلاس 10 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ عاصمہ قدیر کو بل پیش کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ اپوزیشن ارکان نے اسے اکثریت سے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم انہوں نے ووٹوں کی گنتی نہیں کرائی کیونکہ اپوزیشن کی بظاہر حکومتی اراکین کے مقابلے میں تعداد زیادہ تھی جن میں سے اکثر پہلی شکست کے بعد ایوان سے چلے گئے تھے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ایوان میں آمد کے باعث اپوزیشن بینچز پر ارکان کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پہلے بل پر ووٹ کے نتیجے کے اعلان کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق نے اسے اپوزیشن کی ’اخلاقی فتح‘ قرار دیا۔ انہوں نے متعدد متنازع بلوں کی منظوری کے لیے رواں ہفتے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کے حکومتی منصوبے کے واضح حوالے سے کہا کہ اخلاقی طور پر عمران خان کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے سے پہلے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
خیال رہے کہ حکومت نے دو درجن سے زائد بلز کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر بل پارلیمنٹ کے ایک ایوان سے منظور ہو چکے ہیں لیکن آئینی طور پر طے شدہ 90 دن کی مدت کے اندر دوسرے ایوان سے منظور نہیں ہوسکے۔ گزشتہ برس ستمبر میں، حکومت نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اپوزیشن کی جانب سے کارروائی سے واک آؤٹ کے بعد تقریباً 17 بلز منظور کرائے تھے جن میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز بھی شامل تھے۔ اگر دونوں ایوانوں کو مشترکہ اجلاس کے لیے اکٹھا کیا جائے تو اس وقت حکومتی اتحاد کو بہت کم اکثریت حاصل ہے۔
تاہم اپوزیشن جماعتوں کے ایک بار پھر اکٹھا ہونے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ اب حکومت کو مزید من مانیوں کی کھلی چھٹی نہیں ملے گی اور کپتان اینڈ کمپنی کے اقتدار کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔
