کیا ڈنڈے کے ذریعے حکومت کا آئی پی پیز کو قابو کرنا ممکن ہے؟

عوامی و سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقیدی آوازوں میں شدت آنے کے بعد حکومت نے آئی پی پیز کو راہ راست پر لانے کےلیے ڈنڈا اٹھا لیا۔وفاقی حکومت نے 5 نجی آئی پی پیز کو دو ٹوک الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر بجلی کی خریداری کے معاہدے یعنی پاور پرچیز ایگریمنٹ منسوخ کر دیں اور ’’بجلی دو اور ادائیگی لو‘‘ کا نظام اختیار کریں بصورت دیگر نتائج کا سامنا کرنے کےلیے تیار ہو جائیں۔ تاہم کاروں کے مطابق حکومت چند پاکستانی آئی پی پیز کو تو ڈنڈے کے زور پر دباؤ میں لاکر معاہدے منسوخ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے تاہم چینی کمپنیوں سمیت بڑے گروپس کے ساتھ پھڈا مول لینا حکومت کے بس کی بات نہیں کیوں کہ ایسی صورت میں متعلقہ کمپنیاں عالمی فورمز پر پاکستان کا محاسبہ کر سکتی ہیں جس سے حکومت لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پانچوں آئی پی پیز کے مالکان پر واضح کیا ہے کہ حکومت آئندہ تین سے پانچ برسوں کےلیے مذکورہ آئی پی پیز کو کیپسٹی چارجز کی مد میں 139؍ تا 150؍ ارب روپے کی ادائیگی نہیں کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک آئی پی پی کے مالک نے ٹاسک فورس کے اہم عہدیداروں کو جواب دیا ہے کہ اگر حکومت 55؍ ارب روپے ادا کرے تو وہ نہ صرف معاہدہ ختم کرنے بلکہ پلانٹ حکومت کے سپرد کرنے کےلیے بھی تیار ہیں۔ تاہم، مالک سے کہہ دیا گیا ہے کہ انہیں مذکورہ رقم ادا کی جائے گی نہ پلانٹ کا کنٹرول لیا جائے گا، ذرائع کے مطابق ان چاروں آئی پی پیز مالکان سے کہا گیا ہے کہ اُن کے پاس معاہدہ ختم کرنے کے سوا اور کوئی آپشن نہیں بصورت دیگر ان کے پلانٹس کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے گا اور غلط کاموں اور منافع خوری سے کمائے گئے پیسے کی ریکوری کے ساتھ مالکان کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی۔
چودھری ظہور الٰہی کے قتل کا الزام مرتضیٰ بھٹو کی الذوالفقار پر کیوں لگا؟
خیال رہے کہ حکومت ملک میں بجلی پیدا کرنے والے 100 سے زائد نجی بجلی گھروں یعنی آئی پی پیز کو نرخ کم کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ نجی بجلی گھروں میں بڑا نام ‘لبرٹی پاور’ نے رضاکارانہ طور پر نرخ کم کرنے کی پیش کش کی ہے۔ لیکن حکومت کو دیگر بجلی گھروں سے بھی اسی نوعیت کی پیش کش کا انتظار ہے۔ دوسری جانب اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پر اس وقت دباؤ ہے کہ وہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی کرے۔ تاہم فی الوقت حکومت اپنے اس مشن میں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
خیال رہے کہ آئی پی پیز سے کیے گئے تقریباً تمام ہی معاہدوں میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ انہیں ادائیگی امریکی ڈالر کے حساب سے کی جائے گی۔ جب کہ سرمایہ کاروں کو سود کی مد میں ادائیگی بھی بین الاقوامی اسٹینڈرڈ ریٹس کے تحت ہی کی جائے گی۔ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 100 سے زائد نجی بجلی گھر حکومت کو ایسی رعایتوں کےلیے تیار ہو جائیں گے؟
ماہرین کے مطابق پاکستان میں گزشتہ دہائی میں توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے لگائے گئے ایک درجن سے زائد بڑے منصوبے چین کے تعاون سے لگے۔ان پر آنے والے اخراجات کی مجموعی رقم 16 ارب ڈالر کے قریب بنتی ہے۔ جب کہ حکومت کے مطابق ان میں سے سات اب بھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔حکومت پاکستان، چینی حکومت سے ان قرضوں کو ری شیڈول کرنے سے متعلق کئی بار درخواست کر چکی ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق اب تک ایسا لگتا ہے کہ چینی حکام کی جانب سے اس پر کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔
دوسری جانب کئی ماہرین توانائی کا یہ بھی خیال ہے کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو کیپیسیٹی پیمنٹس کا مسئلہ ضرورت سے زیادہ اچھالا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ صرف کپیسٹی پیمنٹ ہی کے باعث ملک میں بجلی مہنگی اور اس شعبے میں حکومت کو سرکلر ڈیبٹ یعنی گردشی قرضوں کا سامنا نہیں بلکہ اس مسئلے کے دیگر عوامل بھی ہیں جن پر جان بوجھ کر نظر نہیں ڈالی جاتی کیوں کہ اس کے ڈانڈے حکومت کی بیڈ گورننس سے جا ملتے ہیں۔ان کے بقول نجی بجلی گھروں کی صلاحیت کی ادائیگی یعنی کیپیسٹی پیمنٹ واقعی کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ بجلی کے بلوں پر اصل مسئلہ 40 سے 45 فی صد اس رقم کا ہے جو بجلی کے ٹیکسوں کی صورت میں حکومت کی جانب سے عائد کیے جاتے ہیں۔اس کے ساتھ بجلی کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن میں ہونے والے نقصانات، چوری اور سسٹم کی ناکاریاں، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے دیگر نقصانات وغیرہ کو بھی بجلی کے صارف سے وصول کیا جا رہا ہے۔ جس کا خمیازہ عوام مہنگی بجلی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
