کیا کوئی اپنی بہنوں اور بیٹیوں سے بھی دست درازی کرتا ہے؟

https://youtu.be/Mr55uctQyHs
حالیہ ہفتوں کے دوران لاہور شہر میں قوم کی بہنوں اور بیٹیوں سے دست درازی، بد سلوکی اور ہراسانی کے کئی افسوسناک واقعات سامنے آئے ہیں جس کے بعد شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی جانب سے اپنی بہنوں کو چھیڑنے والے بد بختوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
یومِ آزادی کے موقع پر گریٹر اقبال پارک میں جہاں ایک خاتون کو سینکڑوں افراد کی جانب سے ہراساں کیا گیا وہیں اسی رات رکشے میں سوار ایک خاتون کے ساتھ بد سلوکی کی ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی تھی۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر خواتین کے ساتھ بد سلوکی اور ہراسانی کے خلاف ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ اسکے بعد ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں اپنے شوہر کے ہمراہ موٹرسائیکل پر سوار ایک برقع پوش عورت کو لڑکوں کے ایک گروہ نے 14 اگست کی رات گھیر لیا اور اسکو زبردستی ڈانس کروایا۔
لاہور میں اس قسم کے واقعات پر جہاں سوشل میڈیا صارفین نے غم و غصے کا اظہار کیا وہیں شوبر ستارے بھی ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
اداکارہ ثانیہ سعید نے کہا کہ جب تک ‘مجرم’ قانون کی گرفت میں نہیں آئے گا، اس قسم کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی خاتون کے ساتھ کسی بھی جگہ اس قسم کی حرکت کرنا معاشرے کی نا کامی اور حکومت کی کمزوری ہے۔ جو اپنے عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔ثانیہ سعید کے بقول رکشے میں خاتون سے بد سلوکی کا واقعہ ہو یا مینار پاکستان میں خاتون کے ساتھ مردوں کے ہجوم کی جانب سے دست درازی، ان واقعات پر صرف اس لیے یقین کیا جا رہا ہے کیوں کہ ان کی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی تھیں۔ان کے بقول، "اس طرح کے واقعات تو اکثر ہوتے ہیں لیکن یا تو متاثرہ خواتین پر کوئی یقین نہیں کرتا یا ان کے گھر والے ان واقعات کے خلاف شکایت درج نہیں کراتے۔”اداکارہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم خواتین کے تحفظ سے متعلق مکمل لاقانونیت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ایسے تمام عناصر جو خواتین کے ساتھ بد سلوکی کے مرتکب ہوتے ہیں، وہ بے خوف ہوتے ہیں کہ ان کی پکڑ نہیں ہو گی۔ثانیہ سعید کا مزید کہنا تھا کہ سزا نہ ہونے کی وجہ سے بالعموم یہ پیغام جاتا ہے کہ یہ جرائم جائز ہیں اور بجائے مجرموں کے خلاف تفتیش کے، تحقیق اس بات پر ہوتی ہے کہ متاثرہ خاتون نے ایسا کیا کر دیا جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔
اس معاملے میں اداکارہ ژالے سرحدی کا کہنا تھا کہ مائیں اپنی بیٹیوں کو تو تربیت دے دیتی ہیں کہ باہر کیسے رہنا ہے، کیسے لوگوں سے بچنا ہے، اگر بیٹوں کو بھی یہ تربیت دی جائے تو ان واقعات میں کمی آ سکتی ہے۔ ژالے سرحدی کا کہنا تھا کہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے قانون لائے بغیر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت یا کوئی بھی ادارہ مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی گھر گھر جا کر لوگوں کو یہ تعلیم دی جا سکتی کہ وہ اپنے بچوں کی کس طرح تربیت کریں۔ان کے بقول، "اگر ہم اپنے قریبی اسلامی مماک پر نظر ڈالیں تو وہاں ایسے واقعات اس لیے نہیں ہوتے کیوں کہ لوگوں کو سزا کا خوف ہوتا ہے۔”
اس معاملے پر معروف اداکار احسن خان کا کہنا تھا کہ اگر اس قسم کی حرکت کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی تو آئندہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ بد سلوکی کرنے کی کسی کی ہمت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو الزام دینے سے پہلے ان لوگوں کی گھریلو تربیت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تمام مرد بُرے نہیں ہوتے جن کی تربیت میں کمی رہ جاتی ہے وہی اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔
اداکارہ ثانیہ سعید نے بھی احسن خان کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات صرف معاشرے کا قصور نہیں بلکہ اُن افراد کے گھروں کی تربیت کی بھی مکمل نا کامی ہے۔ احسن خان کا یہ بھی کہنا تھا جو شہری 14 اگست کو سیر سپاٹے کے لیے گھروں سے باہر نکلتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ پاکستان کی آزادی کا دن ہے، نہ کہ کسی کی بے عزتی کرنے کی آزادی کا دن۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے نا صرف ملک کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ متاثرہ افراد کی زندگی پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ احسن خان کے بقول پاکستان میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے لیکن افسوس کہ ان کے مسائل کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے اب یہ واقعات سامنے آ رہے ہیں مگر ایسے بے شمار افراد کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں جو سامنے نہیں لائے جاتے۔
اس حوالے سے گلوکار علی ظفر نے کہا کہ ٹی وی ڈراموں میں کسی کی عزت مجروح کرنے کو ہمیشہ غلط دکھایا گیا ہے لیکن جب نیوز چینلز پر مُکے، لاتیں اور گالم گلوچ چلے گی تو کون انٹرٹینمنٹ چینل پر سبق آموز ڈرامے دیکھے گا۔ان کے بقول سوشل میڈیا پر پابندی لگانے سے کچھ نہیں ہو گا، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر اچھے کے ساتھ ساتھ بُرا مواد بھی ہوتا ہے جس کی سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔ ا کا کہنا ہے کہ جب آپ کے ہاتھ میں فون ہو جس پر ہر قسم کی ویڈیوز دستیاب ہوں تو پھر ڈراموں اور فلموں کا اثر و رسوخ پیچھے چلا جاتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سائبر قانون دنیا کے دیگر ممالک میں تیز ہو سکتے ہیں تو ہمارے ہاں بھی ہونا چاہیے۔
خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعے کے خلاف شوبز سے تعلق رکھنے والی دیگر شخصیات نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے ردِ عمل کا اظہار اپنے انداز میں کیا ہے۔ اداکار عثمان خالد بٹ نے کہا کہ اُن افراد کو سزا ہونی چاہیے جو اس گھناؤنی واردات میں ملوث تھے۔
اداکارہ ماورہ حسین نے بھی ان واقعات پر ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ متاثرہ خواتین کو مورد الزام ٹھیرانے کے بجائے ایسی حرکتیں کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
اداکارہ ثنا جاوید نے بھی خواتین سے بدسلوکی کرنے والوں کے لیے جہنم سے بھی بد تر جگہ کا مطالبہ کیا۔

Back to top button