کیا کوئی کینہ پرور کمینہ بھی ریاست مدینہ کا حاکم ہو سکتا ہے؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کوئٹہ میں لاشوں سمیت 5 روز سے دھرنا دیے ہوئے ہزارہ برادری کے مظاہرین کو بلیک میلر قرار دیا جانا سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔
عمران خان نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہزارہ برادری کو مخاطب کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پچھلے ڈھائی سال سے اگر اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے اور اسکے سامنے سر نہیں جھکایا تو وہ کسی اور کے ہاتھوں بھی بلیک میل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں مظاہرین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر لاشوں کی تدفین کریں تاکہ میں کوئٹہ آ سکوں۔ تاہم عمران خان کے اس موقف کو ظالمانہ اور بے حسی پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر وزیر اعظم شدید تنقید کی زد میں ہے۔ صارفین عمران خان کو یاد دلوا رہے ہیں کہ جب 2012 میں ہزارہ برادری کے لوگ قتل ہوئے تھے تو تب انہوں نے کوئٹہ پہنچ کر مظاہرین کے لاشوں سمیت دھرنا دینے کے عمل کی تائید کی تھی اور بلوچستان حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔ صارفین پوچھ رہے ہیں کہ اگر اس وقت ہزارہ مظاہرین کا موقف درست تھا تو آج غلط کیوں اور کیسے ہوگیا خصوصاً جب عمران خان خود وزارت عظمیٰ پر فائز ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں عمران خان سے زیادہ بے حس اور غیر ذمہ دار شخص وزیر اعظم اعظم کے عہدے پر فائز نہیں ہوا اور نہ ہی ایسا واحیات بیان کوئی نارمل آدمی دینے کا سوچ سکتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین عمران خان کی جانب سے کوئٹہ جانے سے انکار کے بعد سوال کر رہے ہیں کہ ان کے پاس ترکی کے فنکاروں سے ملنے کا وقت تو ہے لیکن ذبح کر دئے جانے والے غریب مزدوروں کے لواحقین سے ملاقات کا وقت نہیں ہے۔
سینئر صحافی طلعت حسین نے ٹویوٹر پر 22 سیکنڈ کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے فقط اتنا لکھا کہ ’عمران خان فلمی شخصیات کے جھرمٹ میں‘
اس ٹویٹ کے نیچے تبصروں کی ایک لمبی قطار ہے جس میں زیادہ تر لوگ عمران خان کو ہزارہ برادری کے پاس جانے کی بجائے فنکاروں سے ملنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شاید اس شخص کے سینے میں دل کی جگہ کوئی پتھر ہے جو پگھل نہیں پا رہا۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان اس بات کو انا کا مسئلہ بنا رہے ہیں کہ بلاول بھٹو اور مریم نے کوئٹہ دھرنے پر جاکر کر مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیا ہے اور وزیر اعظم سے کوئٹہ آنے کا مطالبہ کیا ہے تو اس سے زیادہ بے وقوفی کی بات ہو نہیں سکتی۔ صارفین سوال کر رہے ہیں کہ کیا عمران خان کی انا ان لاشوں سے بھی مقدم ہے جو پانچ روز سے سڑک پر کھلی آسمان تلے پڑی ہیں۔ انکا کہنا ہے کے اگر وزیراعظم پہلے دن ہی کوئٹہ پہنچ جاتے تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
سوشل میڈیا صارفین اس بات پر بھی اعتراض کر رہے ہیں کہ وزیراعظم ایک جانب تو کوئٹہ نہیں جا رہے اور دوسری جانب ترکی کے فنکاروں سے ملاقات کی خبریں اور ویڈیوز مین سٹریم میڈیا پر چلوا رہے ہیں۔
شجاعت علی نامی صارف نے اسی ملاقات کے حوالے سے لکھا ’کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو معذرت کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہمارے وزیر اعظم اس وقت ترک ڈرامے کی ٹیم اور پاکستانی فنکاروں سے ایک اہم ترین ملاقات میں مصروف ہیں، اسی وجہ سے وہ آپ کے پاس نہیں آ سکتے.‘ فرح زیڈ نامی صارف نے طلعت حسین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں جانتی ہوں کہ یہ درست نہیں لیکن لواحقین کو اپنے پیاروں کی میتیں دفنا دینی چاہییں۔ وہ ایسے شخص کا انتظار کیوں کر رہے ہیں جس کو اپوزیشن ارکان کو جیلوں میں ڈالنے اور مذاق اڑانے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ عمران خان نامی شخص تو اپنے قریبی ترین دوستوں کے جنازوں میں بھی شریک نہیں ہوتا چاہے وہ نعیم الحق ہو یا کوئی اور؟’
ایک صارف علی اعظم نے عمران خان کی ایک ایسی ٹویٹ کا سکرین شارٹ لگایا جو 2017 میں اس وقت کی گئی تھی جب کوئٹہ میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا تھا اور اس وقت عمران خان وزیر اعظم نہیں تھے۔ ٹویٹ میں لکھا گیا تھا ’بدقسمتی سے وزیراعظم نواز شریف نے بہاولپور جانے کا انتخاب کیا، جبکہ ہمارے لوگ پارہ چنار اور کوئٹہ میں سوگ کی حالت میں ہیں۔ کیا نواز شریف فاٹا اور بلوچستان کے وزیراعظم نہیں ہیں؟‘ علی اعظم نے اس سکرین شاٹ کے ساتھ فقط اتنا لکھا ’یاد ماضی عذاب ہے یا رب‘. عائشہ نامی صارف نے ایک ساتھ دو تصویریں شیئر کرتے ہوئے لکھا ’ایک دن ایک ملک، دو لیڈر دو ترجیحات‘۔ ان۔میں سے ایک تصویر مریم نواز کی تھی جس میں وہ ہزارہ برادری کی خواتین کو گلے لگا رہی ہیں جبکہ دوسری تصویر وزیراعظم سے ترکش ڈرامے کے فنکاروں کی ملاقات کی تھی۔
دوسری طرف عمران خان نے 8 جنوری کو ایک تقریب سے خطاب میں ہزارہ مظاہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اپنے ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا کرتے۔ اگر میں آج بلیک میل ہو گیا تو پھر ہر کوئی مجھے بلیک میل کرے گا۔’ عمران خان نے کوئٹہ جا کر ہزارہ مظاہرین سے افسوس کرنے اور اظہار یکجہتی کرنے والے بلاول بھٹو اور مریم نواز پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں اسی طرح کا ڈاکوؤں کا ایک ٹولہ ہے جو کہتا ہے کہ ہمارے کرپشن کے کیسز معاف کرو، نہیں تو ہم حکومت گرا دیں گے، وہ ٹولہ بھی مجھے ڈھائی سال سے بلیک میل کر رہا ہے لیکن میں نہیں جھکا۔ اس لیے یہ بہت اہم ہے کہ جب ہزارہ مظاہرین کے تمام مطالبات مان لیے گے ہیں تو وہ لاشوں کو دفنا دیں۔ گر وہ آج لاشوں کو دفنا دیں گے تو میں آج ہی کوئٹہ آ جاتا ہوں اور ان سے ملتا ہوں۔ لیکن وہ یہ نہیں کر سکتے کہ ایسی شرطیں عائد کریں جن کی کوئی منطق نہیں ہے۔ میں اس طرح کی بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا’۔
خیال ہے کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے افراد مچھ میں قتل کیے گئے کان کنوں کی لاشوں کے ساتھ 5 روز سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم کوئٹہ آئیں گے تو ہی مقتولین کی تدفین کی جائے گی۔
دوسری طرف وزیراعظم کی جانب سے لاشوں کی تدفین کے بعد کوئٹہ جانے کے اصرار پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار اور کالم نگار مسعود کہتے ہیں کہ لاشوں کے سرہانے منجمد تین ہزار عورتوں اور بچوں کو یہ علم ہے کہ ان کے مطالبات نہیں مانے جائیں گے، نہ آئی جی ایف سی استعفی دیں گے، نہ ونگ کمانڈر ایف سی، متعلقہ ڈی پی او نہ ڈپٹی کمشنر برطرف ہوں گے، نہ مجرمان کی تلاش کبھی مکمل ہو گی، نہ انھیں قرار واقعی سزا ملے گی، نہ گزشتہ سانحوں کے مجرمان کو سرعام پھانسی دی جائے گی، نہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کا کوئی نتیجہ نکلے گا، نہ شفاف تحقیقات ہوں گی، نہ کوئی قاتل گرفتار ہو گا، نہ لاشوں کی قیمت ملے گی، نہ لاپتہ افراد بازیاب ہوں گے، نہ عدالت انصاف دے گی، نہ ہزارہ مسافروں کو تحفظ ملے گا، نہ کوئی باقی ماندہ زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا، نہ شناختی کارڈ ملیں گے، نہ پاسپورٹ میں دشواریاں ختم ہوں گی، نہ وزیراعظم آئیں گے، نہ ظلم کی یہ روایت دم توڑے گی۔
عمار مسعود نے ہزارہ برادری کی عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہامکہ بس اب تم تحفظ کی خواہش چھوڑ دو، بس تم اب امن کی تمنا ترک کر دو، اب ریاست کو آواز دینا بند کرو، رحم کی اپیلیں کرنا چھوڑ دو؛ اس لیے کہ یہ واقعہ آخری نہیں ہے جب تمھارے 100 لوگ مار دیے گئے تھے تو اس وقت بھی تم نے سارے پاکستان میں دھرنا دیا تھا جس کا نتیجہ اب دوبارہ تمھارے سامنے برف میں پڑا ہے۔ اے تین ہزار عورتو اور بچو! اب چاہے تم ماتم کرتے کرتے برف ہو جاؤ، بس حفاظت کے خواب چھوڑ دو۔ اس لیے کہ ان سانحوں کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے، اذیت ناک سرکاری بیانات تھمنے والے نہیں ہیں، ظلم کی یہ رات ڈھلنے والی نہیں ہے۔ یہ واقعات پھر ہوں گے، پھر جوانوں کے لاشے گریں گے، پھر برف میں تم احتجاج کرو گی اور پھر طفل تسلیاں تمھارا مقدر بنیں گی، پھر تمھیں حوصلہ رکھنے کا مشورہ دیا جائے گا، پھر تمھاری ہمت کی داد دی جائے گی، پھر تمہاری عظیم قربانی کی مثال دی جائے گی۔
عمار مسعود نے کہا یاد رکھو ہزارہ برادری کی عورتو! یہ نعرے اس لیے لگتے ہیں کہ تم اگلے سانحے کے لیے تیار ہو جاؤ، ایک دفعہ پھر ماتم کے لیے کمر کس لو ایک دفعہ پھر اپنے پیاروں کی لاشیں سامنے رکھ کر دھرنا دے سکو، اب تمھیں اس کا عادی ہو جانا چاہیے، تمھیں یقین ہو جانا چاہیے کہ یہاں کچھ نہیں بدلنے والا، یہاں یہی ظلم ہوتا رہے گا، یہاں قاتلوں کی پشت پناہی والے طاقتور لوگ موجود رہیں گے، یہاں دہشت گردوں کی پیٹھ تھپکنے والے حاضر رہیں گے، یہاں نفرت کی آگ میں تمھاری نسلیں بھسم ہوتی رہیں گی۔
برف میں منجمد ہوتی ہزارہ برادری کی عورتو! اب آنسو بہانا بند کرو، اب ماتم کرنا چھوڑ دو، اب بین ڈالنا ترک کردو اور ان بے جان لاشوں کو دفنا دو کیونکہ ریاست مدینہ کا والی عمران خان اس طرح کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گا۔
