کیا ترین نے بغاوت کیلئے پر تول لیے؟

شوگر سکینڈل اور منی لانڈرنگ مقدمات میں پھنسے ہوئے جہانگیر ترین کی جانب سے ریلیف لینے کی غرض سے سیاسی پاور شو کے بعد اگرچہ تحریک انصاف کے مفاہمت پسند عناصر معاملات بہتر بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں تاہم ابھی تک کپتان نے لچک کا مظاہرہ نہیں کیا لہذا دونوں میں دوریاں تاحال برقرار ہیں۔ دوسری جانب جہانگیر ترین بھی کھل کر کپتان پر تنقید کی بجائے ابھی ہواؤں کے رخ کا اندازہ ہی لگا رہے ہیں یعنی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کپتان کو گھر بھجوانے کے آثار نظر آنے کے بعد یا خود پر احتساب کا شکنجہ کسے جانے کی صورت میں ہی وہ کپتان کے خلاف فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلیں گے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر اختلافات نے شدت اختیار کی تو جہانگیر ترین کا عمران خان کے اقتدار کے اس جنم میں ساتھ ممکن نظر نہیں آتا حالانکہ ماضی قریب میں ترین، عمران خان کے سیاسی ہمسفر جیسی زندگی گزر رہے تھے اور اب دونوں کی جدائی کا سفر ناقابلِ یقین کہانی کا سفر ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین اپنی ہی حکومت میں خود پر لگے چینی کی بلیک مارکیٹنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر نالاں ہیں، اور ایف آئی اے کی جانب سے مقدمات کے اندراج کے بعد وہ تحریک انصاف سے اپنے لیے انصاف مانگ رہے ہیں۔ اس دوران ترین کے ذریعے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے کئی وزرا اور اراکین و قومی و صوبائی اسمبلی کھل کر انکے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں اور حکومتی جماعت میں ایک فارورڈ بلاک بنائے جانے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے صورتحال کو نارمل کرنے کے لئے تحریک انصاف کے مفاہمت پسند عناصر فریقین کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کے بعد ترین اینڈ کمپنی نے تو تھوڑی لچک دکھائی ہے لیکن کپتان ابھی بھی جارحانہ موڈ میں ہیں۔ یاد رہے کہ 10 اپریل کو اپنی عدالتی پیشی کے دوران دو درجن سے زائد ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کا ساتھ دکھانے والے جہانگیر ترین کے حق میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں نے وزیر اعظم عمران خان کو ایک خط لکھ کر انکے خلاف انتقامی کاروائی کا نوٹس لینے کی استدعا کی تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ ان کے خلاف فوجداری مقدمات ختم کیے جائیں۔ حکومتی اراکین اسمبلی نے وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت بھی مانگا تھا تاکہ ترین اپنی پوزیشن واضح کر سکیں، کیونکہ ان کے خیال میں انہیں ایک سازش کے تحت انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ترین کے حق میں خط لکھنے کا فیصلہ اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں 9 اپریل کی رات انکے گھر ہونے والے گرینڈ ڈنر کے دوران کیا گیا تھا جس پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے کم از کم تیس ایم این ایز اور ایم پی ایز نے دستخط کیے تھے۔ تاہم حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم نے اراکین اسمبلی کے خط کو مسترد کرتے ہوئے ترین کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ترین کی جانب سے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کو اپنے ساتھ عدالت لے جانے اور اس کے بعد ان سے اپنے حق میں ایک خط لکھوانے کے عمل کو بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ بے لاگ احتساب کے معاملے میں کسی دباؤ میں نہیں آئینگے اور نہ ہی کسی ادارے کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالیں گے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے مفاہمت پسند عناصر نے جہانگیر ترین اور ان کے ساتھیوں کے تحفظات دور کرنے کے لئے وزیراعظم عمران خان کو تدبر کے ساتھ معاملہ سلجھانے کا مشورہ دیا ہے تاکہ پارٹی اور حکومت کو مزید مشکلات کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے تاہم کپتان کی جانب سے لچک نہ دکھانے کی وجہ سے ابھی ڈیڈلاک ختم نہیں ہوسکا۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمومی طور پر جہانگیر ترین جیسے صنعت کار یا سرمایہ دار چاہے جتنے طاقتور ہوں، بڑی سیاسی جنگ نہیں لڑتے اور اپنی جاگیروں کو انتقام کی بھینٹ نہیں چڑھاتے بلکہ کسی بڑے سیاسی سہارے یا بڑے اشارے کے وقت کا انتظار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ بغاوت کا اعلان بھی آخری آپشن کے طور پر کرتے ہیں۔ لہازا اگر اختلافات نے شدت اختیار کی تو جہانگیر ترین اور عمران خان کی مستقبل میں بھی سیاسی راہیں جدا ہی لگتی ہیں حالانکہ ماضی قریب میں کپتان اور ترین ایک سیاسی ہمسفر جیسی زندگی گزر رہے تھے اور اب جدائی کا سفر ناقابل یقین کہانی لگتا ہے۔
اس سے پہلے سیاسی جلسے کا اسٹیج ہو یا نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنے کا کنٹینر،دونوں ہر جگہ ساتھ ساتھ نظر آتے تھے۔ ایک طرف عمران خان کی شخصیت کا دبدبہ، چاہنے والوں کے لیے سحر انگیز شخصیت، ماضی کے حکمرانوں، شریف خاندان اور زرداری کے خلاف دھواں دار تقاریر، نوجوانوں کے ذہنوں کے گرد انقلابی خوابوں کا حصار کھینچنے والے خان صاحب اور دوسری طرف سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر، جیبوں میں اربوں کا سرمایہ، رحیم یار خان کے مخدوموں، ملتان کے گیلانیوں اور سندھ کے پیر پگارا سے رشتہ داریوں کی دامن سے گرہیں باندھے ترین۔ ایک پولیس افسر کے بیٹے ترین نے اپنی عملی زندگی کا آغاز پنجاب یونیورسٹی میں ہزار روپے کی تنخواہ سے کیا، کچھ عرصہ بنک میں ملازمت اور پھر دو تین دہائیوں میں جنوبی پنجاب اور سندھ میں ہزاروں ایکڑ اراضی کی ملکیت۔ کریڈٹ ترین کی قسمت کو جاتا ہے یا کاروباری ذہنی صلاحیتوں کو، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ ترین ملک میں کارپوریٹ فارمنگ کی بنیاد رکھنے والوں میں سے ایک ہیں اور اپنی زمینوں پر کام کرنے والوں کی اولادوں کے لئے تعلیمی اداروں اور مقامی آبادی کے لیے فلاحی ادارے بھی چلا رہے ہیں۔ جب اربوں کا وزن ساتھ ہو تو عموماً پاکستان میں ایسی شخصیات کو معاشرے میں سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ کے لیے سیاست میں سرمایہ کاری کی سوجھتی ہے۔ ترین کے ساتھ بھی غالباً کچھ یوں ہی ہوا۔ عمران خان سے قبل انھیں شہباز شریف کی قربت ملی، بطور مشیر کام کیا۔جب شریف خاندان پر جنرل مشرف کے دور میں مشکل وقت آیا تو جہاں وفاداروں نے راتوں رات صفیں بدلیں وہاں وہ بھی چوہدری برادرز کی ق لیگ میں شامل ہو گئے۔
بعد ازاں وہ وفاقی وزیر بنے اور مشرف کے ہی دور میں انکے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات مزید استوار ہوئے۔ انکا اسٹیبلشمینٹ سے پہلے بھی تعلق تھا کیونکہ ابتداء میں انہون نے جنوبی پنجاب میں زیادہ تر ریٹائرڈ فوجیوں سے ان کی بنجر زمین سستی داموں خریدی تھیں جنہیں بعد میں انہوں نے اپنی کاروباری بصیرت سے زرخیز بنایا۔
مشرف دور کے بعد چند برس پس منظر میں رہتے ہوئے ترین نے بدلتی ہوئی سیاست کو بھانپا، اب تک انہوں نے جس شے کو ہاتھ لگایا تھا سونے میں تبدیل ہوئی تھی۔ انہیں سیاسی میدان کی دوڑ میں عمران خان سب سے مضبوط نظر آئے، چنانچہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے رویوں کو محسوس کیا اور سب کچھ داو پر لگا دیا۔ 2013 میں تحریک انصاف ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھری ضرور مگر رہی اقتدار سے دور۔ ان کی خان صاحب سے دوستی مضبوط انہی دنوں ہوئی۔ ترین نے عمران خان کو الیکشن نتائج کا تجزیہ پیش کیا اور حصول اقتدار کے لیے پنجاب کے سیاسی خاندانوں کی پارٹی میں شمولیت کے ٹوٹکے پر ان کی رضامندی حاصل کی۔نواز شریف کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے کشیدگی، تحریک انصاف کا دھرنا، پھر پانامہ اور کرپشن مقدمات بالآخر ان کی نا اہلی ہوئی۔ چنانچہ دو ہزار اٹھارہ انتخابات سے قبل بدلتی ہواؤں کو محسوس کرتے ہوئے پنجاب کی روایتی سیاسی شخصیات کا موسمی پرندوں کی طرح تحریک انصاف کے گھونسلے میں آمد کا تانتا سا بندھ گیا۔ سیاسی پرندوں کے اس جھنڈ کی رہنمائی ترین کر رہے تھے۔ پارٹی میں اپنا تگڑا گروپ اور خان صاحب کے بھرپور اعتماد سے انہیں بے پناہ طاقت حاصل ہوئی تھی۔ وہ خان صاحب اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک پل کا کردار بھی ادا کر رہے تھے۔کہا جاتا ہے کہ دھرنے کے دوران کنٹینر پر عسکری قیادت کا عمران خان کے ساتھ ملاقات کا سندیسہ بھی ترین کے موبائل پر ہی آیا تھا۔
اس دوران جہاں ترین نے ایک سرمایہ دار سے طاقتور سیاسی شخصیت کا روپ دھارا، وہاں پارٹی میں جلن، حسد اور دشمنیاں بھی مول لیں۔ انٹرا پارٹی الیکشن میں جسٹس وجیہ الدین نے ترین اور عبدالعلیم خان پر امیدواروں میں رقوم کی تقسیم جیسے الزامات لگائے۔ عام انتخابات میں انہیں بے پناہ اختیارات حاصل ہوئے۔ کون ٹکٹ کا حق دار ہے، کون نہیں، صوابدید ترین کی۔ ایک موقعے پر تو شاہ محمود قریشی احتجاج کر بیٹھے، بڑی مشکل سے صلح ہوئی لیکن دل میلے ہی رہے۔انتخابات کے قریب آتے دن، جہاں عمران خان کے وزیر اعظم بننے کا خواب پورا ہوتا نظر آ رہا تھا، وہاں ترین کی خواہشات کو بڑا جھٹکا لگا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق وہ صادق امین قرار نہیں پائے گئے اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے نا اہلی کا حکم ملا۔ الیکشن کی جوڑ توڑ کا زمانہ تھا تو ترین اور ان کے جہاز کی پروازیں جاری رہیں۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ، جہانگیر ترین نا اہل ہونے کے باوجود ہر اہم حکومتی میٹنگ میں پالیسی ساز کی طرح موجود ہوتے۔ پارٹی میں ان کے ناقدین کا الزام کہ وفاق میں انہوں نے ڈپٹی پرائم منسٹر اور پنجاب میں چیف منسٹر کی طرح رویہ اپنایا ہوا تھا۔ان کی نا اہلی اور اس کے بعد سیاسی جانشین علی ترین کی لودھراں کے ضمنی الیکشن میں شکست سے تو پارٹی میں موجود انکے مخالفین کو ان کے خلاف ایک اور محاذ مل گیا۔ چنانچہ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد انکے ترین سے تعلقات میں بدلاؤ ایک قدرتی عمل تھا۔
ترین کا وزیر اعظم ہاؤس میں پہلا ٹکراؤ عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے ہوا، جنہیں وہ اپنے خلاف کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ بیرسٹر شہزاد اکبر بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ گزشتہ برس جب چینی کی قیمتیں آسمان سے پہنچیں تو شوگر کمیشن کی تفتیشی رپورٹ جاری کی گئی۔ ذمہ داروں کی فہرست تو طویل تھی لیکن ترین کے نام کو خوب اچھالا گیا۔ وہ چند ماہ کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ اقتدار کی راہ داریوں سے دوریاں ہوں، وزیر اعظم سے بھی فاصلہ ہو اور آپ کے حریف بھی تاک میں ہوں تو بدگمانیاں مزید بڑھتی ہیں۔سینیٹ الیکشن میں فاصلے کم کرنے کا موقعہ تھا لیکن ایسا ہونا سکا اور جہانگیر ترین چینی بحران اسکینڈل کی تفتیشی دلدل میں مزید پھنس گئے۔ پارٹی میں ان کے مخالفین نے عمران خان کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ جہانگیر ترین کی وجہ سے ہی گیلانی کی جیت ممکن ہوئی، مبینہ طور پر ان کا جہاز بھی گیلانی کے لیے استعمال ہوا۔ اس کے برخلاف ان کے حامیوں کا دعوی ہے کہ ترین نے سینٹ الیکشن میں حکومت کی جیت کے لیے کام کیا۔اب اربوں کی مبینہ ہیرا پھیری کے الزامات میں ترین، ان کے بیٹے علی اور صاحبزادیوں کے خلاف مقدمات درج کر دیے گئے ہیں۔ لیکن ترین اسے انتقامی کارروائی قرار دے رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں تو دوست تھا۔ مجھے دشمنی کی طرف کیوں دھکیل رہے ہو؟ اس دوران ترین پارٹی میں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔ ضمانت لینے جانا ہو یا اپنی رہائش گاہ پر عشائیہ، تحریک انصاف کے اپنے حامی قومی اور پنجاب اسمبلی کے اراکین کے جھرمٹ میں نظر آرہے ہیں۔ سب کو علم ہے کہ وفاق اور پنجاب حکومت اتحادیوں اور چند ووٹوں کے فرق سے قائم ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا انکی ایسی سرگرمیوں کو دھمکی سمجھا جائے، مصیبتوں میں گھرے طاقتور سیاستدان کی ایک جوابی سیاسی چال سمجھا جائے یا عمران خان حکومت کے خلاف بغاوت؟
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمومی طور پر ترین جیسے صنعت کار یا سرمایہ دار چاہے جتنے بھی طاقتور ہوں، بڑی سیاسی یدھ نہیں لڑتے اور اپنی جاگیروں کو انتقام کی بھینٹ نہیں چڑھاتے۔ ایسے لوگ کسی بڑے سیاسی سہارے یا بڑے اشارے کے وقت کا انتظار کرتے ہیں اور بغاوت کا اعلان بھی آخری آپشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لہازا دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیر ترین اپنی آخری آپشن کا استعمال کب کرتے ہیں۔
