کینیڈا سے سندھ چلانے والا یونس میمن کون ہے؟

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات کے خلاف کیسز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے سندھ میں نظامِ حکومت اور طرزِ حکمرانی پر سوالات اٹھاتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کراچی کا نظام کینیڈا سے چلایا جا رہا ہے اور یونس میمن نامی طاقتور شخص سندھ کا اصل حکمران ہے۔
پاکستانی عدلیہ کے سربراہ کی جانب سے اس دعوے کے بعد ہر جانب سے ایک ہی سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر یہ یونس میمن کون ہے؟
وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ میں باوثوق ذرائع سے بتایا گیا ہے کہ کراچی میں زمینوں کی الاٹمنٹ کے معاملات ہوں، ان کی خرید و فروخت، آکشن یا ان کی حیثیت تبدیل کرنے کے معاملات، یونس میمن ان سب میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ کچھ لوگ اس شخص کو ‘یونس میمن’ کے نام سے جانتے ہیں، کچھ اسے ‘یونس سیٹھ’ کہتے ہیں اور کچھ کے مطابق یہ ‘یونس قدوائی’ ہے؛ لیکن یہ تمام نام ایک ہی شخص کے ہیں۔ ماضی میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں انتہائی کلیدی عہدے پر تعینات ایک سابق افسر نے بتایا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل منظور قادر عرف کاکا کے بیرونِ ملک فرار ہونے کے بعد صوبے میں زمینوں کی خرید و فروخت، لیز، آکشن اور اس سے جڑے دیگر معاملات یونس مین دیکھنے لگے تھے۔
وفاقی حکومت کے غلط معاملات پر خاموش رہنے لیکن سندھ حکومت کے معاملات کا اکثر نوٹس لینے والے جسٹس گلزار احمد نے جب یہ ریمارکس دیے کہ سندھ میں زمینوں کا سارا نظام یونس میمن چلا رہے ہیں تو اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ طالب الدین خاموش رہے۔ گلزار نے ان سے استفسار کیا کہ آخر سندھ میں کس کی حکومت ہے اور یہاں مکمل لاقانونیت کا راج کیوں ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت اور ایسی ہوتی ہے حکمرانی؟ حسب توقع سندھ حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کے سیاسی ریمارکس پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ بقول جسٹس گلزار احمد کے میمن نامی صاحب کینیڈا میں بیٹھ کر سندھ میں زمینوں کے سودے اور آکشن کے معاملات کیسے طے کرتے ہیں سوال یہ بھی یے کہ وہ اس قدر طاقتور کیسے ہوگئے؟ بتایا جاتا ہے کہ ان دنوں یونس میمن کینیڈا میں مقیم ہیں جنہیں صوبے کے انتہائی بااختیار شخص کا بہت ہی قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، ادارہ ترقیات کراچی، لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی، محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں اہم ترین تقرریاں یونس میمن کی ایما پر کی جاتی رہی ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ، فروخت اور آکشن اور ان کی حیثیت کا یہ متوازی نظام سال 2008 سے چلا آرہا ہے۔
یاد رہے کہ لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ محکمہ بورڈ آف ریونیو کا ذیلی محکمہ ہے۔ اس کا کام سرکاری زمینوں کو استعمال کے قابل بنانے کے لیے پالیسیوں کا بنانا اور ان پر عمل درآمد کرانا ہے۔ یہ محکمہ دیہی علاقوں میں زرعی مقاصد کے لیے زمینوں کے علاوہ رہائشی مقصد کے لیے دیہی اور شہری علاقوں میں انتظام، کمرشل، صنعتی، رفاہی اور مذہبی مقاصد کے لیے زمینوں کے استعمال کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ موجودہ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی کچھ عرصے کے لیے محکمہ بورڈ آف ریونیو کے وزیر رہ چکے ہیں، لیکن اُس وقت بھی ان کے پاس لینڈ یوٹیلائزیشن کا ذیلی محکمہ نہیں تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لینڈ یوٹیلائزیشن کا محکمہ اگرچہ محکمہ بورڈ آف ریونیو کا ہی ذیلی محکمہ ہے لیکن ریونیو ڈپارٹمنٹ کا قلم دان سنبھالنے والے کسی وزیر کو لینڈ یوٹیلائزیشن کا محکمہ نہیں دیا گیا۔ اس طرح یہ محکمہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہی کی براہِ راست نگرانی میں رہا ہے۔ یہ سلسلہ سال 2003 سے کم و بیش برقرار ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سال 2008 کے بعد محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن کی باگ ڈور وزیر اعلیٰ کے بجائے سابق وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا چلاتے تھے۔ ان کے بعد ‘زمینوں کا یہ نظام’ سابق ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی منظور قادر کے پاس آگیا۔ ذرائع کے مطابق جب نیب نے 2015 کے بعد چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تو زمینوں کی الاٹمنٹ، لیز اور دیگر پیسے اکٹھنے کرنے کا نظام غیر سرکاری طور پر یونس میمن کے پاس آگیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونس میمن کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا اور سیاست سے دور رہنے کے باوجود وہ اس سسٹم کی براہِ راست نگرانی کرتے رہے اور کبھی وہ بیرونِ ملک بیٹھ کر معاملات چلاتے رہے۔ بعض دیگر ذرائع کے مطابق، سپریم کورٹ میں جس یونس میمن کے نام کی گونج سنائی دی وہ درحقیقت یونس قدوائی ہیں جو سندھ بینک میں کرپشن کے مقدمے میں مفرور ہیں۔ احتساب عدالت سال 2020 میں مفرور یونس قدوائی کی تمام جائیداد، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے ساتھ شناختی کارڈ بھی بلاک کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ یونس قدوائی کے بارے میں نیب رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ کینیڈین شہریت رکھتے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کراچی میں پبلک لائبریری اور مندر کے لیے مختص دو پلاٹس کی غیر قانونی طور پر حیثیت تبدیل کر کے انہیں فروخت کر دیا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ مختلف کیسوں میں مفرور اور پھر اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد یونس قدوائی کے خاندان کے دیگر افراد بھی پاکستان چھوڑ کر خلیجی ریاستوں اور کینیڈا میں رہائش اختیار کر چکے ہیں۔ بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کے ایک قریبی رشتہ دار کا نام بھی یونس قدوائی ہے اور وہ بھی ان دنوں کینیڈا میں مقیم ہیں۔ اہم سرکاری عہدوں پر تعینات بعض افسران کے بقول، ایم کیو ایم کے بانی رہنما کے رشتہ دار یونس قدوائی کا بھی ماضی میں شہر کے سرکاری اداروں بشمول کے ایم سی، کے ڈی اے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں اہم کردار رہا ہے۔ تاہم، یہ وہ یونس قدوائی نہیں جن کا ذکر سپریم کورٹ میں کیا گیا۔
کراچی میں اہم سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ زمینوں کے معاملات کی نگرانی، اس سے متعلق سرکاری دفاتر کی انتہائی اہم پوسٹوں پر من پسند افسران کی تقرری، ان سے من پسند آرڈرز کا حصول، شہر میں خالی سرکاری زمینوں کی حیثیت تبدیل کرانا یعنی رہائشی کو کمرشل اور رفاہی پلاٹس کو رہائشی یا کمرشل استعمال کے لیے اجازت دلانے کے لیے ایک نیٹ ورک کام کرتا ہے۔ زمینوں کی ہیرا پھیری سے حاصل ہونے والا بھاری کمیشن صرف ایک دو نہیں بلکہ مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے درجنوں افسران، اہلکار اور پرائیویٹ افراد کو اکثر ‘نقد رقم’ کی صورت میں دیا جاتا ہے اور یہ مجموعی رقم اکثر کئی کئی ارب روپے ہوتی ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یونس میمن اس نیٹ ورک کی قیادت کرتے رہے ہیں۔
