گندم سکینڈل انکوائری رپورٹ میں بزدار ذمہ دار قرار

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے آٹا سکینڈل کی تفتیش کرنے والی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی انکوائری کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے سیاسی دباؤ پر محکمہ خوراک میں وسیع پیمانے پر ڈپٹی ڈائریکٹرز اور فوڈ کنٹرولرز کی تقرریاں اور تبادلے کئے۔ محکمہ خوراک کے یہی افسران بعد ازاں پنجاب میں آٹا بحران پیدا کرنے کا باعث بنے۔
انکوائری رپورٹ مرتب کرنے والوں کا کہنا یے کہ گندم اسکینڈل پر ایف آئی اے کی ضمنی رپورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف دھماکہ خیز مواد موجود ہے اور اگر گندم بحران کے ذمہ داران کےخلاف میرٹ پر کارروائی ہو تو عثمان بزدار کی چھٹی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ انہوں نے سیاسی دباو پر محکمہ خوراک میں تبادلوں اور تقرریوں کا خود اعتراف کیا یے جن کی کرپشن اور غلط فیصلے بعد میں ساری خرابی کی بنیادی وجہ بنے۔
گندم بحران پر ایف آئی اے کی ضمنی انکوائری رپورٹ کے مطابق صوبائی سیکرٹریوں نے بھی تصدیق کی یے کہ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب کے حکم پرمحکمہ خوراک میں بار ہا تبدیلیاں کیں ۔ حتیٰ کہ بزدار کے زبانی احکامات پر افسران کے تبادلے کئے گئے۔ سب سے ذیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی کمیٹی کے استفسار پر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے محکمہ خوراک میں سیاسی دبائو پر تبادلوں کا خود اعتراف کیا ۔ ایک سیکرٹری خوراک نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے محکمہ خوراک میں کئی تبادلے تو اپنے زبانی احکامات پر کروائے۔ وزیر اعلیٰ نے انکوائری ٹیم کو کہا کہ یہ درست ہے کہ افسران کے تبادلوں اور تعیناتی میں سیاسی شخصیات نے ان پر دباو ڈالا لیکن فیصلوں سے قبل اسپیشل برانچ سے بھی افسران کے بارے میں رائے لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ محکمہ خوراک میں تقرریوں اور تبادلوں کے لئے بہت زیادہ سفارشیں آتی تھیں اس لیے انھوں نے یہ اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
ایف آئی اے انکوائری رپورٹ کے مطابق بزدار حکومت نے اپریل تا نومبر 2019 سات ماہ کے عرصہ میں محکمہ خوراک میں چار سیکرٹریوں کے تبادلے کئے ۔ سوائے نسیم صادق کے، ان تمام سیکرٹریوں نے وزیر اعلی کے احکامات پر محکمہ خوراک میں ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کے بڑے پیمانے پرتقرریاں اور تبادلے کئے ۔ ان میں سے ایک سیکرٹری نے گزشتہ سال صرف مارچ کے مہینے میں 35 ڈپٹی فوڈکنٹرولرز کے تبادلے کئے۔ ایک اور سیکرٹری نے تمام 9 ڈپٹی ڈائریکٹرز کے تبادلے اور 32 ڈی ایف سیز تبدیل کر دئے ۔
تاہم دونوں سیکرٹریوں شوکت علی اور ظفر نصراللہ کا کہنا ہے کہ ان کے ادوار میں تقرریوں اور تبادلوں پرپابندی تھی اور یہ سب تبدیلیاں وزیر اعلیٰ کے احکامات پر ہوئیں۔ مذید یہ کہ تعیناتی کے لئے سمریاں وزیر اعلیٰ کے زبانی احکامات پر تیار ہوتی رہیں۔ ایف آئی اے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو صوبائی سیکرٹریوں کے تقرر اور تبادلوں کا اختیار حاصل ہے لہٰذا تمام سیکرٹریز وزیر اعلیٰ پنجاب کی منظوری سے تبدیل ہوئے۔ جس عرصہ میں ڈی ایف سیز بھی تبدیل ہوئے ، اس وقت بھی تبادلوں اور تقرریوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب دفتر کی جانب سے پابندی تھی اور تمام ڈی ایف سیز کا تبادلہ وزیر اعلیٰ پنجاب دفترکی منظوری سے ہوا ۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق اس بارے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا بھی بیان لیا گیا۔ انہوں نے ایف آئی اے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ سال اپریل میں انہوں نے سیکرٹری خوراک شوکت علی کو تبدیل کیا جنہیں گزشتہ حکومت نے مقرر کیا تھا ،ان کا موقف تھا کہ نئی حکومت اپنا سیکرٹری خوراک لانا چاہتی تھی تا کہ گندم کی خریداری کا کوئی مسئلہ نہ رہے اس لیے انہیں خریداری سیزن کے شروع ہو نے سے پہلے ہی ہٹا دیا گیا ۔ بعد ازاں دو ماہ کے لئے نسیم صادق سیکرٹری خوراک رہے اور پھر انہیں بھی تبدیل کر دیا گیا۔ پھر محکمہ خوراک میں وزیر اعلی دفتر نے اپنی من مانیاں کی اور نتیجہ گندم کے شدید بحران کی صورت میں سامنے آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button