مشرف کیس کا فیصلہ دیا نہیں گیا بلکہ لیا گیا ہے

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں پھانسی کی سزا سنانے والی خصوصی عدالت کا قیام کالعدم قرار دیئے جانے کو ایک سیاسی اور علامتی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کی بجائے ہائی کورٹ سے یہ فیصلہ دلوا کر اسٹیبلشمنٹ نے خود کو اپنے پرو مشرف بیانیہ کے عین مطابق فیس سیونگ دلانے کی کوشش کی ہے۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں 13جنوری کولاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دے کر بالواسطہ طور پر اس تاریخی فیصلے کو ہی کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ خصوصی عدالت کی جانب سے 17 دسمبر 2019 کو مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا کا فیصلہ سنایا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ کے غیر متوقع کے فیصلے کے بعد اپنے ایک ٹویٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے لکھا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین و قانون اور عدالتی روایات کی صریحاً اور ننگی خلاف ورزی ہے۔ اس کیس کی اپیل سننے کی مجاز صرف سپریم کورٹ ہے اور یہ بھی تب ممکن تھا جب جنرل پرویز مشرف خصوصی عدالت کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرتے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے ایک سنگین عدالتی اور آئینی بحران جنم لے چکا ہے۔
قانونی حلقوں میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ہر جگہ یہی سوال زیر بحث ہے کہ کیا ہائی کورٹ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے؟
یاد رہے کہ مشرف کیس میں میں غداری کے الزامات پر فیصلے کے لیے سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت تشکیل دی تھی جو کہ آئین کی روح کے عین مطابق تھی۔ آئینی ماہرین کے نزدیک تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے جس میں ماتحت عدالت اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دے رہی ہے ۔
جنرل مشرف کے خلاف اپنی نوعیت کے منفرد اور تاریخی مقدمے کی سماعت کے لئے سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کو کیس بھیجا تھا، جس کی سربراہی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کی اور مشرف کی پھانسی کا تاریخی فیصلہ سنایا۔ واضح رہے کہ نومبر 2019 میں جب خصوصی عدالت نے پراسیکیوشن کے تاخیری حربوں سے تنگ آکر مشرف سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانے کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا تو عدالتی اعلامیے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے خصوصی عدالت کو احکامات دئیے کہ وہ پٹیشنر کے اعتراضات دور کرے اور جلد بازی میں کیس کا فیصلہ نہ سنائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس پر مشرف سنگین غداری کے سننے والی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ریمارکس دیئے تھے کہ وہ پٹیشنر کو دلائل دینے کا موقع ضرور دیں گے مگر اس ضمن میں وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے پابند نہیں کیونکہ خصوصی عدالت کے خلاف اگر کسی فورم سے رجوع کیا جاسکتا ہے، تو وہ صرف اور صرف عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ آف پاکستان ہے۔
مشرف سنگین غداری کیس کی سماعت کے ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ خصوصی عدالت کو ہمیشہ سپریم کورٹ پاکستان کی جانب سے ہی ہدایات ملتی رہیں یعنی خصوصی عدالت سے اوپر صرف ایک عدالت ہے اور وہ ہے سپریم کورٹ آف پاکستان۔
اس نکتے کو لے کر آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی خصوصی عدالت نے ایک کیس کا فیصلہ کیا ہے تو اس عدالت کی تشکیل اور اس کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں ہی دائر کی جا سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے فیس سیونگ کے لیے سپریم کورٹ جانے کی بجائے لاہور ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ سپریم کورٹ سے ریلیف نہیں مل سکتا۔ اس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ صرف جنرل پرویز مشرف پر آرٹیکل 6 کا اطلاق غلط ہے اس میں ان تمام لوگوں کو شامل کرنا چاہیے جو مشرف کا ساتھ دیتے رہے۔ اس حوالے سے بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کی واضح رولنگ موجود ہے جس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ چونکہ جنرل مشرف ہی تمام ملکی معاملات کو دیکھ رہے تھے اس لیے ایمرجنسی کا نفاذ جنرل مشرف اکیلے کا کام ہے لہٰذا صرف مشرف پر ہی سنگین غداری کا مقدمہ چلے گا۔
آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے مشرف سنگین غداری کیس سے متعلق فیصلہ دے کر سپریم کورٹ آف پاکستان کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سنائے گئے فیصلوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ یا دیگر عدالتیں بھی اپیلیں سن سکتی ہیں۔ اگر لاہور ہائیکورٹ کا مشرف کیس میں خصوصی عدالت کی تشکیل کالعدم قرار دیئے جانے سے متعلق فیصلہ درست مان لیا جائے تو پاکستان میں سپریم کورٹ کی جانب سے ماضی میں کیے گئے تمام فیصلے بھی ایک ایک کرکے کالعدم قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے خیال میں ایسا ہرگز ممکن نہیں اور ہائی کورٹ کی طرف سے آنے والا فیصلہ دراصل ایک سیاسی فیصلہ ہے جو دیا نہیں گیا بلکہ لیا گیا ہے۔
