طاقتور ادارے آئین اور قانون کو اپنے پیروں تلے روند رہے ہیں

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ طاقتور ادارے آئین اور قانون کو اپنے پیروں تلے روند رہے ہیں
ناجائز حکومت کو سہارا دینے والے زیادہ بڑے مجرم ہیں. سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے تسلیم کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں حلف اٹھاکر غلطی کی۔
ٹانک میں کارکنوں سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتا ہے کہ فضل الرحمان کو سرنڈر کرنا پڑے گا لین عمران نیازی یاد رکھے کہ سرنڈر جنرل نیازی کے قبیلے کے لوگ کرتے ہیں، ہم تو لڑتے ہیں. مولانا کہتے ہیں ہم دباؤ ڈالنے والے ہیں، دباؤ لینے والے نہیں. ان کا مزید کہنا تھا کہ قوم کو کمزور کرکے کہا جارہاہےکہ ملک چل رہاہے، یہ ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے مترادف ہے، آج ملک جام ہوچکا ہے اور سالانہ مجموعی ترقی کا تخمینہ صفر سے نیچے چلاگیا ہے اور اگلے دوسال میں ترقی کی شرح مزید نیچے جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ناجائز ہو اور نااہل بھی ہو تو اسے رہنےکا حق نہیں، یہ حکومت ناجائز اور دھاندلی کی پیداوار ہے، جو ایسی نااہل حکومت کو سہارا دےگا وہ بھی مجرم ہوگا۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پرہیں، الیکشن کے بعد تمام جماعتوں نےکہادھاندلی ہوئی ہے، نوازشریف کے دو خط آئے ہیں، ایک خط مجھے اور ایک شہبازشریف کو لکھا ہے، نوازشریف نے لکھا ہےکہ مولانا نے کہا تھا ہمیں اسمبلیوں میں نہیں جانا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اِس وقت حکومت ہل چکی ہے، حکومت نے سوالنامہ بھیج کر کردارکشی کرنےکی کوشش کی ہے، یہ جمیعت پرحملہ ہے، پیشی ہوئی تو صرف وہ نہیں پوری جماعت پیش ہوگی۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ سب متفق ہیں یہاں جمہوریت ہے نہ آئین و قانون کی عملداری، علماء اور مذہبی کارکنوں نے بھی ملک کے لیے قربانیاں دیں، مذہبی طبقہ کھڑا نہ ہوتا تو دہشتگردی کے خلاف جنگ کامیاب نہ ہوتی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر ہم، یہ کارکنان، جمعیت علمائے اسلام اور مذہبی طبقے کے غریب لوگ ملک کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو فوج دہشت گردی کو شکست نہیں دے سکتی تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے کام سے کام رکھنا اور دوسرے کے کام میں مداخلت نہ کرنے سے ملک چلے گا ورنہ پھر سمجھوتے کی سیاست ہوگی، آپ زور آور ہیں، میں آپ کو برداشت کروں گا آپ مجھے کریں گے، ایک دوسرے سے گزارا کریں گے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زورآور آدمی غریب کی زمین پر ہل چلائے تو بچارا وہ اسے کچھ نہیں کہہ سکتا، قوم کو کمزور کرکے یہ کہنا ملک میں امن ہے اور نظام ٹھیک چل رہا ہے کہ شاید ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سنجیدہ ہے، ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں لیکن ملک کسی کی ملکیت نہیں ہے یہ ہم سب کا ہے، بس فرق اتنا ہے دنیا میں جہاں آمر ہوگا اس کو زمین سے دلچسپی ہوگی جبکہ جہاں جمہوریت ہوگی اس کو عوام سے دلچسپی ہوگی۔بات کو جاری رکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہا آمرانہ قوت علاقے پر قبضے اور اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے کا سوچتا ہے جبکہ جمہوری ماحول میں لوگوں کی فلاح و بہبود مقصود ہوتی ہے، عوام خوش ہے تو پھر سیاست، پارلیمنٹ اور ملک کا نظام بھی ٹھیک چل رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کا نظام جام ہوچکا ہے، اس وقت ملک کی سالانہ مجموعی ترقی کا تخمینہ صفر سے نیچے چلا گیا ہے اور شاید آئندہ سال، دو سال اسی پوزیشن میں رہے گا جبکہ اسٹیٹ بینک کہتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اس سطح پر معیشت نہیں گری ہے۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اب جب حکومت ناجائز اور نااہل بھی ہو تو پھر اس حکومت کو رہنے کا حق حاصل نہیں بلکہ صرف حکومت کو نہیں بلکہ جو قوت بھی ایسی حکومت کو سہارا دے گی وہ بھی مجرم ہوگی، اصل میں بڑا مجرم بھی وہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مقدس اور اول ملک ہے، میں، آپ، سیاستدان، جرنیل، بیوروکریٹس، تاجر بعد میں ہیں، ملک ہوگا تو یہ سب چیزیں ہوں گی۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ تعریفیں کی جاتی ہیں جو بری بھی نہیں ہیں کہ ’فوج نے قربانیاں دی ہیں، جوانوں نے ملک کے لیے جانیں شہید کی ہیں، اللہ قبول فرمائے (لیکن) آپ نے تو پیٹی اسی لیے باندھی ہیں، آپ نے رینک اسی لیے لگائے ہیں اور تنخواہ بھی اسی چیز کی لیتے ہیں‘۔تاہم انہوں نے کہا کہ ہم جو رضاکار لوگ ہیں انہوں نے کتنے علما، کارکنوں کی شہادتیں دی ہیں جو اس ملک کے لیے ہیں کہ ہم آئین، قانون اور ملک کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ خاکم بدہن، چھوٹا آدمی ہوں لیکن یہ بات کرنے کی جرات کررہا ہوں کہ اگر ہم، یہ کارکنان، جمعیت علمائے اسلام اور مذہبی طبقے کے غریب لوگ ملک کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو فوج دہشت گردی کو شکست نہیں دے سکتی تھی۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ 1973 کا آئین کہتا ہے کہ اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہے، پاکستان کا نظام قرآن و سنت کے تابع ہوگا، حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہوگی اور عوام اپنے نمائندوں کی وساطت سے اللہ کی نیابت کا فرض ادا کریں گے لیکن آج تک ایک قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہوئی۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب آئین واضح ہے تو پھر جب رکاوٹیں ہیں تو ہمیں اسے سمجھنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button