یہ چند حقائق جن کا عمر ایوب انکار نہیں کر سکتے

پاکستانی صارفین کی سوشل میڈیا ٹائم لائنز پر سیاسی کارکنوں کا آپس میں الجھنا اور ایک دوسرے کی جماعتوں اور لیڈران کو برا بھلا کہنا کوئی انہونی بات نہیں۔ صارفین کی ٹائم لائنز سیاسی مخالفین اور مخالف سیاسی لیڈران کے خلاف ٹویٹس سے بھری پڑی ہے۔
تاہم جمعے کو پاکستان مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر اور وفاقی وزیر پانی و بجلی عمر ایوب خان کے درمیان ٹوئٹر پر اس وقت جھڑپ ہوئی جب ایک صارف نے عمر ایوب خان کا ایک بیان کہ ’ماضی کے حکمرانوں کی غلطیاں آج بھی ٹھیک کر رہے ہیں‘ ٹویٹ کی اور ساتھ ہی عمر ایوب کے مختلف ادوار کے انتخابی پوسٹرز کی تصاویر بھی شیئر کیں۔
عمر ایوب کی یہ تصاویر مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ق کی جانب سے مختلف انتخابات میں ان جماعتوں کے انتخابی نشانات پر حصہ لینے کی ہیں۔
ٹوئٹر صارف ڈاکڑ ہما سیف کی اس ٹویٹ کو خواجہ آصف نے ری ٹویٹ کر کے لکھا کہ ’ یہ لوگ سیاست کے لیے گالی ہیں، وفادار سیاسی کارکن جس پارٹی کا ہو وہ قابل احترام ھے۔‘
اس پر وفاقی وزیر عمر ایوب خان بھی میدان میں آگئے اور خوجہ آصف کو جواب میں لکھا کہ ’ آپ نے اپنی پہلی ملازمت میرٹ پر نہیں بلکہ میرے چچا سردار بہادر خان کی سفارش پر بینک میں حاصل کی تھی۔ آپ کے لیڈر تحریک استقلال کے رہنما تھے۔ میں نے مسلم لیگ نواز کو 2002 اور 2018 میں ہرایا اور 2018 میں مسلم لیگ نواز کے امیدوار کو 40 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری سے شکست دی۔‘
خواجہ آصف نے پلٹ کر جواب لیکن عمر ایوب کے چچا کی سفارش پر نوکری حاصل کرنے کے الزام کی تردید نہیں کی۔
انہوں نے لکھا کہ ’جی یقیناً میں نے اپنی پہلی نوکری یو بی ایل میں سردار بہادر خان کی سفارش پر حاصل کی تھی جو کہ ایک بااصول شخص تھے اور انہوں نے آپ کے دادا کے مارشل لا کی مخالفت کی تھی اور قومی اسمبلی میں اپنے ہی بھائی کی حکومت کے خلاف قائد حزب اختلاف منتخب ہوگئے تھے۔‘
خواجہ آصف اور عمر ایوب خان کے درمیاں ’جھڑپ‘ میں سوشل میڈیا صارفین بھی شامل ہوگئے ہیں اور وہ اس حوالے سے مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔
ملک منظور نامی صارف نے لکھا کہ ’لوگ ایوب خان کی ان کے مقابلے میں جن کے نام جمہوریت کے کوریڈورز میں لکھے گئے ہیں سے زیادہ عزت کرتے ہیں۔ اس جمہوریت نے لوگوں کو کچھ بھی ڈیلیور نہیں کیا بلکہ جو بھی ترقی ہم دیکھ رہے ہیں وہ ان کے دور کی ہے۔‘
جاوید احمد میر نامی صارف نے لکھا کہ ’چند حقائق جن کا عمر ایوب انکار نہیں کر سکتے۔‘
محمد ناصر نے پوچھا کہ ’ خواجہ صاحب پھر آپ کے اپنے محترم لیڈر نواز شریف کے بارے میں کیا خیال جو ایک مارشل لا کی ہی پیداوار ہیں۔
اس کا مطلب کہ آپ میرٹ پر بھرتی نہیں ہوئے تھے بلکہ کسی کی سفارش پر بھرتی ہوئے تھے۔
اوئے کون لوگ او تُسیں۔
بعض صارفین خواجہ آصف کے اقامے کی تصویر شیئر کر کے ان پر تنقید کرتے رہے۔
خالد خان نے خواجہ آصف کو مینشن کرتے ہوئے لکھا کہ ‘اس کا مطلب کہ آپ میرٹ پر بھرتی نہیں ہوئے تھے بلکہ کسی کی سفارش پر بھرتی ہوئے تھے۔ اوئے کون لوگ او تُسی۔’
خواجہ کاشف نامی صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ بھائی جی آپ ایک جاب کی بات کر رہے ہیں اس ملک میں وزیر اعظم سفارش پر لگ جاتا ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button