‏مایوس ہوکر کرکٹ چھوڑنے والے کو قلندر نے کپتان بنادیا

پاکستان سپر لیگ کی اہم ٹیم لاہور قلندر نے حیران کن طور پر مایوسی کا شکار ہوکر کرکٹ چھوڑنے والے کو ٹیم کا کپتان بنادیا۔
‏لاہور قلندرز نے پی ایس ایل فائیو کے ڈرافٹ کے موقع پر جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرنے والے سہیل اختر کو جب کپتان مقرر کرنے کا اعلان کیا تو سب حیران ہوگئے، جب کہ ٹیم میں دیگر سینئر اور تجربہ کار کرکٹرز بھی موجود ہیں لیکن لاہور قلندرز کی انتطامیہ نے ایک بار پھر اپنے پلئیرز ڈویلپمنٹ پروگرام پر اعتماد کا اظہار کیا اور اسی پلیٹ فارم سے جس کرکٹر کو انہوں نے موقع دیا اور اس نے اپنی شناخت بنائی اس کو قیادت سونپ دی۔
اس حوالے سے کپتان سہیل اختر کا کہنا ہے کہ میں تین برسوں سے لاہور قلندرز کے ساتھ ہوں، مینجمنٹ نے بہت حوصلہ افزائی کی، میں ٹیم کے ہمراہ آسٹریلیا گیا اور ابو ظہبی کپ میں بھی کپتانی کی اور جب ابوظہبی میں کامیابی حاصل کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ لاہور قلندرز کی انتظامیہ مجھے کپتان کی حیثیت سے گروم کر رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ قلندرز انتظامیہ نے مجھے دو برس تک گروم کیا اور جب کپتانی سونپنے کا وقت آیا تو مینجمنٹ نے مجھے کہا کہ وہ مجھے کپتان بنانا چاہتے ہیں تو کیا آپ تیار ہیں تو میں نے فوری ہاں کر دی، یہی وجہ ہے کہ میرے لیے یہ سب حیران کن نہیں تھا، میں ذہنی طور پر تیار تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے اور نہ میں یہ سوچتا ہوں کہ میں پہلی مرتبہ اتنے بڑے ایونٹ میں قیادت کر رہا ہوں، میرے ساتھ سینئر کھلاڑی بھی موجود ہیں، مجھے سینئر کھلاڑیوں کی وجہ سے فائدہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ محمد حفیظ، سلمان بٹ اور فخر زمان میری مدد کےلیے ساتھ ہوں گے، ان کے ساتھ ٹریننگ کے دوران بھی بہت کچھ سیکھا ہے اور ٹورنامنٹ میں بھی فائدہ ہوگا۔
کپتان لاہور قلندرز نے کہا کہ پی ایس ایل کی سب سے متحرک اور مقبول فرنچائز کی کپتانی کرنا میرے لیے فخر کی بات ہے، اب مجھے بس اعتماد پر پورا اترنا ہے اور یہی سوچ ہے کہ ٹیم کےلیے اچھے سے اچھا کرنا ہے۔
‏کپتان سہیل اختر نے اپنے سفر کے بارے میں بتایا کہ میں نے تو مایوس ہو کر کرکٹ چھوڑی ہو ئی تھی، ایبٹ آباد ریجن میں مجھے مواقع نہ ملے، میں مایوس ہو چکا تھا، ایبٹ آباد ریجن کی تنزلی بھی ہو چکی تھی اور تین برسوں کے بعد مجھے گریڈ ٹو میں موقع ملا، اچھا کرنے میں کامیاب ہوا اور پھر لاہور قلندرز کے ساتھ منسلک ہوگیا، مجھے موقع دیا گیا تو میں نے خود کو ثابت کیا۔
ان کا کہنا تھا جب کسی کھلاڑی پر اعتماد کیا جاتا ہے تو وہ اپنی محنت سے 20 سے 120 فیصد تک محنت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، لاہور قلندرز نے میری فٹنس اور میری خوراک پر کام کیا اور اسی کا مجھے اب فائدہ ہو رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button