کورونا وائرس کی ابتدا چین کی لیبارٹری سے ہونے کا شبہ

بیجنگ کی ساؤتھ چائنا یونیورسٹی اور ٹیکنالوجی نے خدشہ ظاہر کیا ہےکہ کورونا وائرس کی ابتداء شاید ووہان کی لیبارٹری’وہان سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول‘ سے ہوئی۔ جہاں چمگادڑوں اور دیگر جانوروں کو ہونے والی سانس کی بیماریوں پر تحقیقات کی جاتی ہیں۔
سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اس موذی مرض کا آغاز ووہان کی ایک مچھلی مارکیٹ سے 300 گز فاصلے پر واقع ایک تحقیقاتی ادارے سے ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق چمگادڑوں نے ایک محقق پر حملہ کیا اور چمگادڑ کا خون اس کی جلد پر لگ گیا۔
اس کے علاوہ مقامی آبادی چمگادڑوں کو غذا کے طور پر بھی استعمال کرتی تھی، سائنس دانوں نے اسی بنیاد پر اندازہ لگایا ہے کہ کورونا وائرس کی شروعات مذکورہ لیبارٹری سے ہوئی۔
واضح رہے کہ جان لیوا کورونا وائرس سے چین میں مجموعی طور پر 68 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جب کہ اموات کی تعداد 1600 سے تجاوز کر گئی ہے۔
چین کے صوبے ہوبئی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی تصدیق دنیا کے 30 ممالک ہو چکی ہے جب کہ چین سے باہر ہانگ کانگ، فلپائن، جاپان اور فرانس اور یورپ میں بھی وائرس سے ہلاکت کا ایک ایک کیس سامنے آچکا ہے۔
