کیا بلاول بھٹو سفارتکاری میں خود کو منوا پائیں گے؟

بین الاقومی تعلقات کے مشکل ترین دور سے گزرنے والے پاکستان میں 33 سالہ بلاول بھٹو کی وزارت خارجہ پر تعیناتی کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ وہ بطور وزیر خارجہ خود کو منوانے میں کتنے کامیاب ہوں گے؟ سوشل میڈیا پر یہ سوال کرنے والے صارفین بلاول بھٹو کا موازنہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور اندرا گاندھی کے پوتے راہول گاندھی سے کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ بلاول کی والدہ بے نظیر بھٹو کو ایک ریلی میں شہید کیا گیا تھا اور ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا تھا۔ دوسری جانب راہول گاندھی کے والد راجیو گاندھی اور ان کی دادی اندرا گاندھی دونوں کو بالترتیب تامل ٹائیگرز اور سکھ علیحدگی پسندوں نے قتل کیا تھا۔
بلاول نے اپنی والدہ کی طرح برطانیہ کی مشہور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جبکہ راہول گاندھی نے امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، راہول نے حال ہی میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ وہ صاحب اقتدار خاندان میں پیدا ہوئے ہیں لیکن انہیں اقتدار میں بالکل بھی دلچسپی نہیں ہے۔
راہول گاندھی کو اکثر تذبذب کا شکار سیاست دان کہا جاتا ہے۔ دوسری جانب بلاول بھٹو کو 19 سال کی عمر میں پیپلز پارٹی کا جانشین بنایا گیا اور اب وہ 33 سال کی عمر میں وزیر خارجہ بھی بن گئے ہیں ان کے دادا ذوالفقار علی بھٹو 34 برس کی عمر میں پاکستان کے کم عمر ترین وزیر خارجہ بنے تھے جن کا ریکارڈ اب بلاول بھٹو نے توڑ دیا یے۔ ناقدین کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ جب پاکستان بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے مشکل ترین مرحلے سے گزر رہا ہے تو وزارت خارجہ کی باگ ڈور ایک ایسے شخص کے حوالے کر دی گئی ہے جس کا کوئی خاص تجربہ نہیں۔ دوسری طرف بلاول کا موازنہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بھی کیا جا رہا ہے، ایس جے شنکر کو سفارت کاری کا وسیع تجربہ ہے، وہ چین، امریکہ اور روس جیسے بڑے ممالک میں انڈیا کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔
لیکن بلاول کے قریبی حلقے کہتے ہیں کہ وہ عمر اور تجربے میں کمتر ہو سکتے ہیں لیکن انکے پاس پختہ سیاسی بصیرت ہے، دنیا میں ایسے بہت سے ممالک ہیں، جہاں نوجوانوں نے ملک کی کمانڈ ہے اور ہم نوجوان ٹیلنٹ پر شک نہیں کر سکتے۔ تاج حیدر پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما ہیں جنھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا دور بھی قریب سے دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بلاول بھٹو کا ایک امیج ہے جو ایک ایسے رہنما کا ہے جو جمہوریت کی بات کرتا ہے، امن کی بات کرتا ہے، اقلیتوں کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔ ی وہی ویلیوز ہیں جو پاکستان کی آزادی کے وقت قائد اعظم محمد علی جناح نے دی تھیں اور اس وقت دنیا نے پاکستان کی حمایت انہی نظریات کی وجہ سے کی اور خارجہ پالیسی بھی نظریات سے چلتی ہیں، چالاکی سے نہیں۔‘
انکا۔کہنا ہے کہ بلاول کی دنیا میں عزت ہے کیوں کہ وہ شہیدوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے آمریت کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اس وقت دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی دنیا بھر میں ایک بہت بڑا چیلنج ہیں۔ بلاول ایسا لیڈر ہے جس نے دونوں کی مخالفت کی، اور وہ بھی اپنی زندگی کو داو پر لگا کر۔ اس کا یہ امیج ہی بین الاقوامی سٹیج پر بہت بڑا ہے۔
بینظیربھٹوکے سابق دست راست بشیر ریاض کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو نے مغربی درسگاہوں سے سیاسیات اور سفارت کاری کے فن میں تعلیم پائی ہے۔ لہٰذا کم از کم علمی حد تک ہی سہی لیکن وہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان میں وہ کشش موجود ہے جو انھوں نے اپنی والدہ سے وراثت میں پائی ہے۔۔۔ ذہن میں رکھیں کہ مغرب انھیں بی بی شہید کا بیٹا ہونے کے ناطے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ایک علامت سمجھتا ہے۔ لہٰذا مغربی دارالحکومتوں میں بلاول کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
بلاول کی بطور وزیر خارجہ تقرری پر پاکستان کے انگریزی اخبار دی ڈان نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ نوجوان بلاول کا موازنہ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو سے کیا جا رہا ہے، جو 1963 سے 1966 تک پاکستان کے وزیر خارجہ بھی رہے، اور پھر وزیر اعظم کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلاول کے لئے سب سے بڑا چیلنج پاک امریکا تعلقات کو بحال کرنے کا ہوگا خصوصاً ایسے وقت جب سابق وزیراعظم عمران خان خود کو اقتدار سے نکالنے کی سازش کا الزام امریکا پر عائد کر رہے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں سرد مہری تو 2011 میں سلالہ حملے کے وقت عروج پر پہنچ چکی تھی لیکن گذشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان نے چین سے نہایت قریبی تعلقات رکھتے ہوئے امریکہ سے تعلقات کو مکمل طور پر کبھی بھی ختم نہیں ہونے دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ جو بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بعد ان کی جانب سے عمران خان سے رابطہ نہ کرنا ایک تنازع رہا۔ تاہم ہم پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ جوبائیڈن کے ماضی میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری سے قریبی تعلقات بھی ہیں۔
بلاول بھٹو کے لیے دوسرا بڑا سفارتی چیلنج پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا کیونکہ اب پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی اپنی سابقہ پالیسی پر نظر ثانی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ خود آرمی چیف جنرل قمر باجوہ بھی ماضی قریب میں دو مرتبہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ انڈیا کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کا اظہار کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ ’ہماری یہ مخلصانہ سوچ ہے کہ بنیادی مسئلہِ کشمیر سمیت پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازعات کے پرامن حل کا راستہ جامع اور بامعنی مذاکرات سے ہوکر گزرتا ہے۔
بلاول کی پرورش پاکستان کے ایک اہم سیاسی گھر میں ہوئی ہے اور یہ ان کے لیے کارآمد ثابت ہو گا، پارٹی کا خیال ہے کہ بلاول کے لیے موقع ہے کہ وہ اس عہدے کا فائدہ اٹھا کر قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا نام اور مقام بنائیں۔ ویسے بھی اگر پیپلزپارٹی کے دیگر لیڈران پر نظر دوڑائی جائے تو بلاول بھٹو ان میں سب سے اعلی تعلیم یافتہ دکھائی دیتے ہیں۔ لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ بلاول بھٹو وزارت خارجہ چیلنج سے نبرد ازما ہونے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔
