پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کی نااہلی کیلئے دائر ریفرنس مسترد

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کی جانب سے اپنے منحرف اراکین قومی اسمبلی کیخلاف دائر نااہلی کا ریفرنس مسترد کر دیا۔
بدھ کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سرابرہی میں 3 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ منحرف ارکان قومی اسمبلی کے خلاف ریفرنس آئین کے مطابق ثابت نہیں ہوئے،منحرف ارکان پرآرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔
سماعت کے دوران ممبر الیکشن کمیشن نے نورعالم کے وکیل گوہر خان سے پوچھا کہ کیا نورعالم خان نے تحریک عدم اعتماد کے دن ووٹ کاسٹ کیا؟ جس پر ان کے وکیل گوہرعلی نے کہا کہ نورعالم خان نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹ کاسٹ نہیں کیا،ان کے موکل پر آرٹیکل 63 ون (اے) کا اطلاق نہیں ہوتا۔
گوہر خان نے دلائل میں کہا کہ نور عالم نے پی ٹی آئی شوکاز نوٹس کے جواب میں کہا تھا کہ نہ پی ٹی آئی چھوڑی ہے اور نہ ہی پارلیمانی پارٹی۔انہوں نے کہا کہ نور عالم نے تین اپریل کو اجلاس میں شرکت کی کیونکہ پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ اجلاس میں شرکت کریں۔
پی ٹی آئی کے ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ منحرف ارکان کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کی جائے۔
الیکشن کمیشن نے آج دلائل مکمل ہونے پر ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،الیکشن کمیشن نے 28 اپریل کو ریفرنسز پر پہلی سماعت کی تھی اور بدھ تک اس پر چار سماعتیں ہوئیں۔
تحریک انصاف کے جن منحرف اراکین کیخلاف ریفرنس دائر کیا گیا ان میں راجہ ریاض، نور عالم خان، فرخ الطاف، احمد حسین ڈھیر، رانا قاسم نون، غفار وٹو، مخدوم سمیع الحسن گیلانی، مبین احمد باسط بخاری، عامر گوپانگ، اجمل فاروق کھوسہ، ریاض مزاری، جویریہ ظفر، وجیہہ قمر، نزہت پٹھان، رمیش کمار، عامر لیاقت حسین،ع اصم نذیر، نواب شیر و سیر، افضل ڈھانڈلہ کے نام شامل ہیں۔
یاد رہے کہ سندھ ہاؤس میں پاکستان تحریک انصاف کے 20 اراکین اسمبلی کی موجودگی اور جماعت سے منخرف ہونے پر یہ ریفرنسز سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے 14 اپریل کو الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے تھے۔
