شیریں مزاری کو فوج نے گرفتار کروایا یا حکومت نے؟

تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی ڈرامائی گرفتاری اور پھر رہائی کے باوجود ابھی تک یہ طے نہیں ہو پایا کہ انہیں حکومت کے ایما پر حراست میں لیا گیا تھا یا انہیں اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کا مزہ چکھانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ یہ پاکستانی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے کہ کسی سیاسی مخالف کی گرفتاری پر صوبے کے وزیر اعلیٰ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے رہائی کے احکامات جاری کیے لیکن رات گئے تک ان پر عمل درآمد نہ ہو پایا حالانکہ مزاری کو حراست میں لینے والوں کا تعلق محکمہ اینٹی کرپشن سے تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ مزاری کی وکیل بیٹی ایمان حاضر نے اپنی والدہ کی گرفتاری کے فوراً بعد یہ الزام عائد کیا کہ اس واقعے کے ذمہ دار آرمی چیف جنرل قمر باجوہ ہیں کیونکہ ان کی والدہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے فوج پر کھل کر تنقید کر رہی تھیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ایک فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب شیریں مزاری کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں رہائی کے وقت اپنی بیٹی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس کو گلے لگاتے ہوئے کان میں کہا کہ رانا ثناء اللہ کا نام لو، آرمی چیف کا نہیں۔ لیکن بعدازاں شیریں مزاری نے میڈیا سے گفتگو میں خفیہ ایجنسیوں کو اپنی گرفتاری کا ذمہ دار قرار دیا۔
اس وقت پاکستان میں ٹوئٹر پر شیریں مزاری کی گرفتاری بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے، جنہیں اسلام آباد میں ان کے گھر کے باہر سے تب گرفتار کیا گیا جب وہ پارٹی رہنماؤں سے ملنے جا رہی تھیں۔ جس طرح میڈیا پر اس واقعے کی کوریج ہوئی اور جس طرح حکومت وقت نے خود اس گرفتاری کی مذمت کی اس سے یہ ممکن ہوا کہ شیریں مزاری رات گئے بذریعہ عدالت اپنے گھر واپس پہنچ گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شیریں مزاری کی گرفتاری کے فورا ًبعد نہ صرف حمزہ شہباز بلکہ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ خاں نے بھی ایمان مزاری کو فون کرکے یقین دلایا کہ ان کی حکومت کا اس گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شاید اسی وجہ سے ایمان کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ ان کی والدہ کو فوج پر تنقید کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے تاکہ سبق سکھایا جا سکے۔
شیریں مزاری ویسے تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے متعدد بار پیش ہوچکی ہیں مگر تب وہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق تھیں۔ انھیں جن مقدمات میں عدالت بلاتی تھی انھیں لاپتہ افراد اور ان کے اہل خانہ سے حکومت کی طرف سے روا رکھے گئے عمل پر جواب دینا ہوتا تھا اور عدالت کی یہ تسلی کروانی ہوتی تھی کہ لاپتہ افراد کا پتا لگایا جائے گا اور ان کے اہل خانہ کے پرامن احتجاج کے حق سمیت انھیں حاصل دیگر تمام حقوق کی فراہمی یقینی بنائے جائے گی۔
یہ سب چند ہفتے پہلے ہی کا ذکر ہے۔ مگر اس بار عدالتی پیشی کا فرق بس اتنا ہے کہ شیریں مزاری خود متاثرہ فریق تھیں۔ شیریں مزاری نہ صرف ایک سیاستدان ہیں بلکہ وہ ایک استاد اور صحافی بھی رہ چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اس گرفتاری پر ردعمل کا اندازہ سوشل میڈیا پر ہونے والی ہزاروں ٹویٹس سے لگایا جا سکتا ہے۔ صحافی مبشر زیدی نے اس گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پوری تحریک انصاف سے انھیں اٹھانے کے لیے صرف ایک بلوچ خاتون ہی ملی تھیں۔ پبلک پالیسی پر کام کرنے والے مشرف زیدی نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ جب کراچی میں مریم نواز شریف کے ہوٹل کے کمرے پر پولیس حملہ ہوا تھا، تو بجائے کہانی کو دفن کرنے کے اگر قانونی کارروائی کی جاتی تو پھر آج شیریں مزاری کی گرفتاری نا ہوتی۔ اُنھوں نے لکھا کہ قانون غریب کے لیے خواب تھا ہی، اب اشرافیہ کے لیے بھی موسم کی طرح بن گیا ہے۔
سینئر صحافی حامد میر بھی شیریں مزاری سے اظہار یکجہتی کرنے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تھے۔ ان کے مطابق رات کے پچھلے پہر اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر شیریں مزاری کو پیش کیا گیا تو سابقہ حکومت کے کئی وزرا بھی وہاں پر موجود تھے، ان میں سے کچھ کو میں نے کہا کہ اگر آپ لاپتہ افراد والا قانون پاس کروا دیتے اسے لاپتہ نہ کرتے تو آج آپ کے ساتھ یہ کچھ نہ ہوتا۔
صارف علی معین نوازش نے لکھا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری غلط! لیکن پی ٹی آئی میں موجود ہر وہ شخص جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ 50 سال پرانا اراضی کیس کیسے زندہ ہو سکتا ہے؟ اپنے اس وقت کے بیانات اور خوشی پر نظر ڈالیں جو میر شکیل الرحمان کی 30 سال پرانے کیس میں گرفتاری اور آٹھ ماہ حراست میں رکھنے پر تھی۔ عدالت رات کو کیا لگی کہ کئی پرانے دکھ بھی تازہ ہوئے۔ کسی نے رات بارہ بجے عدالتیں کھولے جانے کے تحریک انصاف کے گلے پر بات کی تو کسی نے علی وزیر کے لیے عدالتی دروازے نہ کھلنے کا شکوہ کیا۔ مریم نواز اور فریال تالپور کی گرفتاری کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ صارف یوسف نذر نے لکھا کہ کاش علی وزیر کی بھی یہ قسمت ہوتی کہ ان کے لیے رات گئے عدالت کھلتی۔
ریما عمر نے اس بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ علی وزیر کو ایک تقریر کرنے کی پاداش میں کوئی ڈیڑھ برس قبل گرفتار کیا گیا تھا مگر وہ ابھی حراست میں ہیں۔ صارف مصطفیٰ بنگش نے لکھا کہ شیریں مزاری اور ان کی بیٹی ایجنسیوں کو اس واقعے کا ذمہ ٹھہرا رہی ہیں جبکہ تحریک انصاف کے کارکن اور رہنما موجودہ حکومت پر ملبہ ڈال رہے ہیں۔
صحافی فرح ناز زیدی نے اس لمحے کو سب سے خوشگوار قرار دیا جب رہائی کے بعد ماں نے بیٹی کو گلے لگایا۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کے باوجود دونوں میں محبت بہت خوبصورت ہے۔ انھوں نے شیریں مزاری کو بہادر خاتون قرار دیتے ہوئے ان کی مسکراہٹ اور ہاتھ کی انگلیوں کے اشارے سے فتح کے نشان کی بھی خاص طور پر تعریف کی۔
لیکن ایک صارف نے تو اپنے دل کا دکھڑا ہی سنا دیا۔ انھوں نے شکوہ کیا کہ شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے ماضی میں بھی تحریک انصاف کو نقصان پہنچایا اور مزاری نے اس کی حمایت کی۔ اب دونوں ماں بیٹی یہ یقینی بنائیں گی کہ عمران خان کے لیے فوج میں پائی جانے والی حمایت کو ختم کیا جا سکے تاکہ وہ کبھی حکومت میں واپس نہ آ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید اسی ایجنڈے کے تحت ایمان مزاری نے جنرل باجوہ کے بارے میں نہایت سخت زبان استعمال کی۔
