1947 میں کوئی جنگ ہی نہیں ہوئی تو پھر آزادی کیسی؟


متنازعہ انڈین اداکارہ کنگنا رناوت نے بھارت کی آزادی کو بھیک میں ملنے والی آزادی قرار دینے پر معافی مانگنے کی بجائے اسٹینڈ لے لیا ہے اور چیلنج کیا ہے کہ پہلے انکے مخالفین ثابت کریں کہ ان کا بیان تاریخی طور پر حقائق کے منافی ہے اور پھر معافی کا مطالبہ کریں۔ کنگنا کا کہنا ہے کہ جب 1947 میں کوئی جنگ ہی نہیں لڑی گئی تو پھر بھارت نے آزادی کس سے حاصل کی؟
یاد رہے کہ کنگنا نے حال ہی میں بھارت کا اعلیٰ سول اعزاز پدما شری ملنے کے بعد کہا تھا کہ انڈیا دراصل 2014 میں آزاد ہوا تھا جب وزیر اعظم نریندر مودی برسر اقتدار آئے۔ انکا کہنا تھا کہ اس سے پہلے 1947 میں ملنے والی آزادی ایک بھیک تھی جس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس بیان کے بعد مخالفین کی جانب سے کنگنا کی شامت آ گئی، سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر کڑی تنقید کے بعد اپنے بیان کے دفاع میں کنگنا نے کہا ہے کہ اگر لوگ میرے آزادی کے متعلق بیان کو غلط ثابت کر دیں تو میں اپنا پدما شری ایوارڈ بھی واپس کر دوں گی اور قوم سے معافی بھی مانگ لوں گی لیکن پہلے مجھے غلط ثابت کیا جائے۔ یاد رہے کہ کانگریس سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے اداکارہ سے پدما شری ایوارڈ واپس لے کر ان کیخلاف بغاوت کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا۔
کنگنا رناؤت نے اپنے انسٹا گرام کی سٹوریز پر ایک کتاب کے کچھ حصوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک ہی انٹرویو میں سب کچھ بہت واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، 1857 میں آزادی کے لیے پہلی اجتماعی لڑائی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ سبھاش چندر بوس، رانی لکشمی بائی اور ویر سوارکر جی جیسی عظیم شخصیات نے قربانیاں دی تھیں۔ اداکارہ نے لکھا کہ میں 1857 کے بارے جانتی ہوں لیکن مجھے خبر نہیں ہے کہ 1947 میں کوئی جنگ ہوئی تھی۔ اگر کوئی میرے علم میں آزادی کی ایسی جنگ لے آئے تو میں اپنا پدما شری ایوارڈ واپس کر دوں گی اور معافی بھی مانگوں گی۔ برائے مہربانی اس میں میری مدد کریں۔ کنگنا نے لکھا کہ ’میں نے شہید رانی لکشمی بائی کی زندگی پر مبنی فیچر فلم میں کام کیا ہے۔آزادی کی 1857 میں ہونے والی جنگ پر وسیع پیمانے پر تحقیق کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ قوم پرستی اور دائیں بازو کو کافی تقویت ملی لیکن وہ اچانک ختم کیوں ہوگئی؟ سوال یہ بھی ہے کہ گاندھی جی نے بھگت سنگھ کو مرنے کیوں دیا، نیتا بوس کو ہلاک کیوں کیا گیا اور انہیں کبھی گاندھی کی حمایت کیوں حاصل نہیں ہوئی؟ سوال یہ بھی یے کہ تقسیم ہند کی لکیر ایک سفید فام گورے نے کیوں کھینچی؟ اسکے علاوہ آزادی کا جشن منانے کے بجائے بھارت کے باسی ایک دوسرے کو مارتے کیوں ہیں؟ میں ان اہم ترین سوالوں کے جواب ڈھونڈ رہی ہوں۔ براہ کرم ان کے جواب ڈھونڈنے میں میری مدد کریں۔
اداکارہ نے کہا کہ وہ اپنے بیان کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جہاں تک 2014 میں بھارت کو آزادی ملنے ل بیان ہے تو میں نے خاص طور پر کہا تھا کہ ہم بظاہر آزاد ہوں گے لیکن انڈیا کا شعور اور ضمیر 2014 میں آزاد ہوا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ تب ایک مردہ تہذیب زندہ ہوئی تھی اور اس نے اپنے پر ہلائے تھے۔ یوں اب بھارتی قوم تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔کنگنا کا ماننا ہے کہ پہلا موقع ہے کہ اب انڈیا میں لوگ ہمیں انگریزی نہ بولنے، چھوٹے علاقوں سے تعلق رکھنے اور انڈین اشیا استعمال کرنے پر شرمندہ نہیں کر تے۔
دوسری جانب کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے کنگنا رناؤت کے بیانات کو فتنہ پرور اور اشتعال انگیز قرار دے کرانکے خلاف مقدمے کے لیے ممبئی پولیس کے پاس درخواست جمع کروائی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ گنگا کے مودی کی حمایت میں دئیے گئے اس بیان کے باوجود مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی سے منسلک کئی سیاستدانوں نے ان کی مذمت کی ہے لیکن وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نظر نہیں آتیں۔

Back to top button