1988 میں بے نظیر حکومت گرانے کی سازش کیسے ناکام ہوئی؟

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کے پہلے دور اقتدار میں ان کی حکومت گرانے کے لیے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے کچھ سینئر افسران کی جانب سے کی جانے والی ناکام سازش کو آپریشن مڈنائٹ جیکال کے نام سے شہرت حاصل ہوئی، میجر عامر اور بریگیڈیئر امتیاز اس کے مرکزی کردار تھے، آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ یہ سازش کیسے بے نقاب ہوئی اور آپریشن مڈ نائٹ جیکال کیسے ناکام ہوا؟
جنرل ضیا کی موت کے بعد 1988 مین نئے آرمی چیف بننے والے جنرل اسلم بیگ اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’اقتدار کی مجبوریاں‘ میں لکھتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے وزیر داخلہ میجر جنرل نصیراللہ بابر کو میرے پاس بھیجا جو مڈنائٹ جیکال کے نام سے ایک انکوائری لے کر آئے تھے، اس میں آئی ایس آئی کے دو افسران بریگیڈیئر امتیاز اور میجر عامر پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کا ساتھ دیا ہے اور یہ کہ ان کا فل کورٹ مارشل ہونا چاہئے۔
یاد رہے کہ ستمبر 1989 کے آخری ہفتے میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تھی۔ ایوان میں تبدیلی کے جمہوری طریقہ کار کے مطابق یہ تحریک 12 ووٹوں سے ناکام ہوئی مگر اسمبلی کے فلور پر حکومتی تبدیلی کی یہ کوشش اپنے پس منظر میں اور پس پردہ غیر جمہوری مہم جوئی کی ایک ڈرامائی داستان رکھتی ہے۔
سید صفدر گردیزی اردو نیوز کے لیے ایک تفصیلی رپورٹ میں بتاتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ’آپریشن مڈ نائٹ جیکال‘ پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کی سیاسی وفاداریاں خریدنے کی کوششوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کیا گیا خفیہ آپریشن تھا۔ ستمبر 1989 میں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں اس کی گونج سنائی دی جانے لگی۔ اس کے کرداروں کے خلاف کارروائی اور دیگر شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اور ان کے مخالفین کو سیاسی طور پر مضبوط کرنا اس سازش کا مقصد تھا۔
پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی رشید بھٹی اور عارف اعوان کو راولپنڈی میں ویسٹریج کے ایک مکان میں بلایا گیا جہاں اسلامی جمہوری اتحاد کے ممبر اسمبلی ملک نعیم اور فاٹا سے رکن پارلیمنٹ حاجی شیر گل بھی موجود تھے۔ ان ارکان کو حکومت کو کمزور کرنے اور تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجنے کے ایک منصوبے میں تعاون کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یکے بعد دیگرے کی گئی میٹنگز میں منصوبے کی جزئیات اور اس کے لیے درکار مالی وسائل پر بھی ممبران کو بریف کیا گیا۔
ان خفیہ ملاقاتوں کے میزبان کا نام ملک ممتاز تھا جو کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایک سینیئر افسر بھی تھے، ان کی دوستی اس دور میں انٹیلی جنس بیورو کے ایک سینیئر افسر مسعود شریف خٹک سے بھی تھی۔ شاید اسی لیے ان ملاقاتوں اور منصوبوں کی بھنک آئی بی کو بھی پڑگئی۔ آئی بی نے ان ملاقاتوں کی خفیہ ریکارڈنگ شروع کر دی اور پیپلز پارٹی کے رہنما میجر جنرل ریٹائرڈ نصیراللہ بابر کے ذریعے ان سرگرمیوں کی 12 آڈیو اور ویڈیو ٹیپس وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو پیش کی گئیں۔
آپریشن مڈنائٹ جیکال کے ذریعے حاصل کردہ ثبوت اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کے علم میں لائے گئے۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اپنی خود نوشت ’ڈاٹر آف دی ایسٹ‘ میں اس واقعے کے بارے میں لکھتی ہیں کہ دونوں افسروں نے ان کی پارٹی کے ممبران سے متعدد ملاقاتیں کی تھیں۔ ایسی ہر ملاقات میں وہ اپنے پسندیدہ فقرے مخاطب کے سامنے بار بار دہراتے تھے کہ بے نظیر بھٹو کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہے۔ امریکہ ان کا حامی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ پاکستانی فوج بھی انہیں پسند نہیں کرتی۔ جب وہ اقتدار سے باہر ہو جائیں گی تو ان کا شوہر بھی انہیں چھوڑ دے گا۔
پاکستانی آرمی کی تاریخ پر مبنی کتاب Cross Sword کے مصنف شجاع نواز کے مطابق دونوں افسروں کو سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزامات اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے پر فوج سے برطرف کر دیا گیا۔ اسلم بیگ کے مطابق انہوں نے مذکورہ افسروں کے خلاف رپورٹ پڑھی جس میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے لیے شہادتیں ناکافی تھیں۔اس لیے انہوں نے اپنے سمری اختیارات کے تحت ان کے ٹرائل کا فیصلہ کیا۔ ان دونوں کو قبل از وقت سروس سے ریٹائر کر دیا گیا۔ پیپلزپارٹی افسروں کے کورٹ مارشل کی پُرجوش حامی تھی۔ 1993 میں بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ اقتدار میں آئیں تو یہ معاملہ از سر نو کھولا گیا۔
1994 میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے پبلک ٹرائل کا مطالبہ ہونے لگا۔ اس وقت کے اپوزیشن لیڈر نواز شریف نے اس گرفتاری کی مذمت کی کیونکہ آپریشن مڈنائٹ جیکال کا بنیادی مقصد بے نظیر کو ہٹا کر نواز شریف کو اقتدار میں لانا تھا۔
اسی لیے 1990 میں صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد 1993 میں بننے والی نواز شریف حکومت نے بریگیڈیئر امتیاز کو آئی بی میں ڈائریکٹر تعینات کیا تھا۔ اسی طرح میجر ریٹائرڈ عامر ایف آئی اے میں ڈائریکٹر امیگریشن کے عہدے پر فائز رہے۔ بے نظیر بھٹو کی جمہوری حکومت کے خاتمے کی سازش میں ملوث ہونے کے حوالے سے میجر ریٹائرڈ عامر نے ایک انٹرویو میں اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد حکومتی صفوں میں شامل کالی بھیڑوں کی نشان دہی کرنا تھا۔
انہوں نے حکمران جماعت کے ممبران اسمبلی پر نظر رکھنے کے لیے اس طرح کی ملاقاتوں کا اہتمام کیا تھا، اس منصوبے کو منظرعام پر لانے میں شریک رہنے والے انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر مسعود شریف خٹک نے سازش کے بارے میں کہا تھا کہ ’دونوں افسروں کی آڈیو ویڈیو ٹیپس اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ ممبران اسمبلی کو بے نظیر بھٹو کا ساتھ چھوڑنے کے لیے اُکسا رہے تھے۔
