عمران خان اسمبلیوں سےاستعفے دو ہم مقابلے کیلئے تیار ہیں

پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے  پی ٹی آئی  چیئرمین عمران خان کو چیلنج کر تے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلیوں سےاستعفے دو ہم  تمہارامقابلے کیلیے تیار ہیں، سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان ہوا تو سلیکٹڈ سیاست دان پریشان ہو گئےہیں۔

کراچی میں پی پی پی کے 55 ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں نشتر پارک میں  منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ یہ جو دھمکیاں دے رہا ہے کہ میں استعفے دوں گا، پہلے تو آپ ہمارے استعفے لینے آئے تھے اور خود اپنے استعفے دینے شروع کردیے، مگر یہ بھی جھوٹ اور دھوکا ہے، لکھ لو یہ خیبرپختونخوا اور پنجاب سے استعفیٰ نہیں دیں گے کیونکہ قومی اسمبلی سے اس نے استعفیٰ دیے تھے جیسے ضمنی انتخابات شروع ہوئے تو عدالت پہنچ گئے کہ ہمارے استعفے منظور نہ کریں ہم سیاست کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا سلیکٹڈ لانگ مارچ پر نکلے تو وہ ناکام ہونا تھا اور ناکام ہوگیا، جیسے یہ عدم اعتماد کے وقت اسمبلی سے بھاگا تھا ویسے یہ پنڈی سے بھاگ نکلا اور یہ شوشا چھوڑا کہ ہم استعفیٰ دے رہے ہیں،اگر استعفیٰ دینا چاہتے ہو تو دے دو، پی پی پی آپ کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے، سلیکٹڈ ڈراما باز سے نہیں ڈرتے ہیں اور ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، لیاری میں وہ خود بھاگے، جب وہ فیض یاب تھے تو لیاری میں ڈاکا مارا گیا اور مینڈیٹ چوری کیا گیا اور جب امتحان کا وقت آیا تو ڈر کر بھاگ گئے اور اسلام آباد سے اسٹے آرڈر کا بندوبست کرتے ہیں اور کہتے ہیں استعفیٰ منظور نہ کرو یہ تو ہم سیاسی شوشا کر رہے تھے۔

انکا کہنا تھاسیلاب کی وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ اس سال ضلعی سطح پر یا ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں پی پی پی کا یوم تاسیس منایا جائے گا، نشترپارک میں کراچی کے میڈیا کو بتانا چاہتا ہوں نشترپارک کراچی کے شہریوں سے بھرا ہوا ہے اور اسی شہر میں پیدا ہوا ایک جیالا شہر کا ناظم منتخب ہوگا،پی پی پی وفاق کی جماعت ہے تو کراچی کی بھی جماعت ہے اور ہمارا بھی حق ہے کہ ہم کراچی کا میئر منتخب کریں اور کراچی کے عوام کے مسائل حل کریں۔

بلاول بھٹو نے کہامیں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے جیالوں سے مخاطب ہوں، جنہوں نے عمران خان نیازی کے ناک کے نیچے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی ہے، پی پی پی نفرت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، پی پی پی امید اور یک جہتی کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور انتشار کی سیاست کو رد کرتی ہے، پی پی پی اس ملک کو جوڑتی ہے،ذوالفقار علی بھٹو نے 55 برس قبل جب پی پی پی کا پرچم اٹھایا اور ایک جنگ ہارنے کے بعد اس ملک کی قیادت سنبھالی تھی، ایک ہارے ہوئے ملک کو امید دلایا تھا، ہاری ہوئی قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا تھا۔

انہوں نے کہااس فوجی ناکامی کے بعد 90 ہزار جنگی قیدی ہمارے دشمن کے کیمپ میں تھے لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاست، دانش مندی، کامیاب خارجہ پالیسی سے وہ جنگی قیدی پاکستان واپس لے آئے،جنگ ہارنے کے بعد 5 ہزار مربع کلومیٹر زمین ہمارے دشمنوں کے پاس تھا لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے وہ پاکستان کے قبضے میں واپس لایا اور آج اسی زمین سے کالا سونا تھر کا کوئلہ نکل رہا ہے اور فیصل آباد کی جو صنعتیں ہیں وہ اسی سرزمین کے کوئلہ سے بجلی پیدا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ملک کا دفاع یقینی بنایا، یہ سیاسی کارکنوں کی کامیابی ہے کہ آج پاکستان ایٹمی طاقت ہے، مسلم دنیا میں پاکستان ایک ایٹمی پاور ہے تو وہ بھٹو اور پی پی پی کی وجہ سے ہے،ذوالفقار علی بھٹو انتشار کی نہیں بلکہ یک جہتی کی سیاست پر یقین رکھتا تھا، اس ملک کو آپس میں نہیں لڑواتا تھا بلکہ اس ملک کو جوڑتا تھا، آج بھی پاکستان کے مسائل حل کرنے ہیں، جمہوریت کو طاقت ور بنایا اور ملک کی معاشی ساکھ بہتر کرنا ہے اور خارجہ امور پر کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے تو پی پی پی کی امید اور یک جہتی کی سیاست یہ حاصل کرسکتی ہے، ہم نے جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے ہوئے یحییٰ خان، ضیاالحق اور آمر مشرف کی آمریت ختم کیا اور سلیکٹڈ راج کو خداحافظ کہہ دیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہم نے ایسی قیادت دیکھی ہے جو شہادت قبول کرے، جو پھانسی کے پھندے پر چڑھے مگر اس وقت بھی نفرت اور انتشار کی سیاست نہ کرے جبکہ آج کے نوجوانوں کو غلط بتایا جاتا ہے کہ جو لیڈرز ہوتے ہیں وہ یوٹرنز لیتے ہیں،یہی نظریہ بینظیر بھٹو آگے لے کر چلی، والد اور دونوں بھائیوں کو شہید کیا گیا، والدہ پر لاٹھی چارج اور جلاوطن کیا گیا اور خود جلاوطنی برداشت کی، اپنے شوہر کی طویل قید دیکھی لیکن پاکستان کے سیاسی کربلا میں اس سیاسی جدوجہد میں بینظیر بھٹو نے ایک دن کے لیے بھی نفرت اور انتشار کی سیاست نہیں کی اور زندگی بھر کبھی پاکستان کے خلاف کوئی نعرہ نہیں اٹھا، آج کل لوگ انگلی کٹا کر شہادت کی منزل حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس ملک میں سیاست اگر کرنی ہے تو شہید بینظیر بھٹو سے سیکھو، جو نفرت نہیں بلکہ محبت اور امید کی سیاست پر یقین رکھتی تھی، وہ غیرت مندوں اور بہادروں کی سیاست پر یقین رکھتی تھی۔

انکا کہنا تھا بینظیر بھٹو واپس آئی تھی تو کراچی میں کارساز حملہ جو آج تک پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہے، اس واقعے پر بینظیر بھٹو پیچھے نہیں ہٹی یا انتشار یا نفرت کی سیاست شروع نہیں کی،بینظیر بھٹو چاہتی تو اس دھماکے کے بعد خود کو گھر میں بند کرکے کارکنوں سے ویڈیو خطاب کرسکتی تھی مگر وہ بہادر اور دلیر تھی ملک کے کونے کونے میں پہنچی اور راولپنڈی میں کھڑی ہو کر وقت کے آمر کو للکارا،آج کل جعلی سازش کی بات کی جاتی ہے لیکن بینظیر بھٹو کے خلاف اصلی سازش ہوتی تھی اور بار بار حکومت ختم کردی جاتی تھی مگر ایک دن کے لیے بھی نفرت یا انتشار کی سیاست نہیں کی یہاں تک ملک میں ایک بار پھر آمریت مسلط کی گئی تو وہ بھول چکی تھی کہ کس نے میرے شوہر کو جیل بھیج دیا اور کس نے میری پارٹی کے اوپر کیسز بنائے اور کس کے دور میں پارٹی کارکنوں اور شوہر پر تشدد کیا گیا۔

انہوں نے کہااگر بینظیر بھٹو نفرت اور انتشار کی سیاست کرتی تو شاید یہ ممکن نہ ہوتا لیکن ملک کی سیاست اور جمہوریت کی بحالی کے لیے انہی سیاست دانوں کے پاس پہنچی جنہوں نے شوہر کو جیل میں ڈالا اور جمہوریت بحال کرنے کے لیے تحریک شروع کی، بینظیر بھٹو نے ہمیں ہر کسی سے لڑنے کی نہیں بلکہ جوڑنے کی سیاست سکھائی ہے،بینظیر بھٹو کو ہماری آنکھوں کے سامنے راولپنڈی میں شہید کیا گیا اور ملک کے چاروں کونوں میں آگ ہی آگ تھی اور ہم چاہتے تو تب نفرت کی سیاست کرتا اور کوئی اعتراض نہیں کرتا اگر ہم نفرت اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کرتے، یہ پی پی پی، جیالوں، صدر زرداری اور میرے لیے امتحان کا موقع تھا اور موقع آیا تو صدر زرداری نے کہا پاکستان کھپے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر میں چاہتا تو کہہ سکتا تھا مجھے انتقام چاہیے میرے نانا، میرے ماموں کے قتل کا حساب دو اور ایوان صدر پر ٹوٹ پڑو اور مجھے آمر مشرف کا سر چاہیے اور اگر 27 دسمبر 2007 کو میری تقریر یہ ہوتی تو پاکستان کے ساتھ کیا ہوتا مگر بینظیر بھٹو نے ہمیں نفرت اور انتشار کی سیاست نہیں سکھائی، یہی وجہ ہے کہ میں نے کبھی ذاتی انتقام کی بات نہیں کی،ہم نے اپنے کارکنوں اور عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اس کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ جس کو ہم پر مسلط کیا گیا جو آئینی حقوق سلب کرنا چاہتا ہے، صوبائی خود مختاری ختم کرنا، بے روزگاری، مہنگائی اور ٹیکسز کا طوفان لا رہا ہے، گھڑی چوری بھی مگر ہم اس کا مقابلہ سیاسی میدان اور ضمنی انتخاب میں کریں گے اور لانگ مارچ ہوگا مگر اس کا نتیجہ جمہوری ہوگا، میں نے وعدہ کیا تھا ملک کی تاریخ میں پہلی بار عدم اعتماد، آئینی جمہوری ہتھیار اپنا کر ایک وزیراعظم کو گھر بھیجیں گے، جس کے لیے نہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور نہ کہیں اور جائیں گے کیونکہ ہم ووٹ کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست کی کہانی ابھی شروع ہو رہی ہے اور آتے ہوئے ہم نے عمران خان کو خداحافظ کہہ دیا ہے، ہم تو گنوا سکتے ہیں، ہم اپنی قربانی اور کامیابی بھی گنوا سکتے ہیں اور ملک کے عوام کو معلوم ہے اگر حق اور معاشی انصاف ملنا ہے تو پی پی پی دلاسکتی ہے،ہم اپنے سیاسی مخالف سے کہتے ہیں کہ نفرت اور انتشار کی سیاست بند کرو، اس قوم اور جمہوریت کے خلاف سازش بند کرو تو پھر شاید یہ قوم آپ کو معاف کرے ورنہ یہ قوم کبھی معاف نہیں کرے گی، ہر غیرجمہوری سازش میں یہی سلیکٹڈ لوگ ساتھ تھے، عوام کے حقوق سلب کرنے اور آمرانہ نظام نافذ کرنے کے لیے یہ پولنگ ایجنٹ بنے، آج جب ہمارے سارے ادارے اپنی غلطیاں مان چکے ہیں اور آج کے بعد سیاست نہیں کریں گے، آج کے بعد متنازع نہیں بلکہ آئینی کام کریں گے، آج کے بعد ہم سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے تو اسی وقت سارے سلیکٹڈ سیاست دان اور کٹھ پتلیاں پریشان ہوئے کہ اگر یہ لوگ غیرسیاسی اور نیوٹرل ہوکر آئینی کردار ادار کریں گے تو سلیکٹڈ سیاست دانوں کا کیا کردار ہوگا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اسی وقت انہوں نے نفرت، انتشار، سازش اور ملک توڑنے کی سازش شروع کرتے ہیں، اپنی گھڑی چوری چھپانے، گوگی صاحبہ کو بچانے کے لیے، علیمہ باجی کو بچانے کے لیے، فارن فنڈنگ کیس سے چھپنے کے لیے انتشار پھیلایا جارہا ہے اور نفرت کی سیاست کی جارہی ہے اور دھمکیاں دی جارہی ہیں، ان ساری سیاسی قوتوں کو ہم خبردار کرتے ہیں اور ان کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ماضی میں ہر جمہوریت دشمن سازش کو ناکام بنایا اور آج بھی اس کٹھ پتلی سازش کو ناکام بنائیں گے۔

Back to top button