تین برسوں میں بجلی کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ

وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے برسر اقتدار آنے کے بعد سے تین برسوں کے دوران پاکستانی عوام کو جس بری طرح سے نچوڑا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگست 2018 سے اب تک حکومت بجلی کی قیمت میں 40 فیصد سے بھی زائد اضافہ کر چکی ہے۔
پاور ڈویژن نے تسلیم کیا ہے کہ جولائی 2018 سے بجلی کے نرخوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے لیکن بنیادی طور پر سبسڈی کی ناکافی ادائیگیوں کی وجہ سے گردشی قرضہ تقریباً پھر بھی دگنا ہوگیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے سوالات کا جوب دیتے ہوئے پاور ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری وسیم مختار نے کہا ہے کہ بجلی کے بنیادی نرخ 2018 میں 11 روپے 72 پیسے تھے جو اب 4 روپے 72 پیسے کے اضافے کے بعد 16 روپے 44 پیسے ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر پاور ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر مصدق احمد خان نے تصدیق کی کہ بجلی صارفین کو اوور بلنگ کے واقعات کچھ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں یعنی ڈسکوز میں عید اور عاشورہ کی چھٹیوں پر میٹر ریڈنگ کی تاریخ بڑھانے کی وجہ سے پیش آئے تھے، لیکن انہوں نے کہا کہ وہ اس قسم کے فعل کا دفاع نہیں کریں گے۔
یاد رہے کہ صارفین کو اوور بلنگ کا معاملہ کراچی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی الیکٹرک بجلی صارفین سے تاخیر سے میٹر ریڈنگ کے ذریعے زیادہ بل چارج کر رہی ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو 30 دن کے بل کی بجائے 35 اور 37 دن کے بل بھیجے گئے۔ کچھ دوسرے اراکین اسمبلی نے بھی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی جانب سے اسی طرح کی وارداتوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ایسا کرنا تشویشنا معاملہ ہے اور اس کی گہرائی سے تحقیقات کی ضرورت ہے۔
ادھر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے وائس چیئرمین رفیق احمد شیخ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ریگولیٹر نے کے ای اور دیگر ڈسکوز کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن ریگولیٹر کو صارفین کی جانب سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ لیکن ڈاکٹر مصدق احمد خان نے کہا کہ ایک تفصیلی رپورٹ موصول ہوچکی ہے اور وہ اس بات کی تصدیق کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے کہ عید کی تعطیلات کے باعث محدود پیمانے پر زائد دنوں کی وجہ سے اوور ریڈنگ کے واقعات پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے 46 میٹر ریڈنگ بیچز ہیں جن میں سے 6 بیچز میں میٹر ریڈنگ 35 سے 37 روز کے بعد لی گئی۔
اس موقع پر آغا رفیع اللہ نے کہا کہ یہ نیپرا کی غفلت ہے جو صارفین پر اربوں روپے کا بوجھ ڈالتے ہوئے ایک ’سفید ہاتھی‘ بن چکا ہے۔ ان کے ساتھ دیگر قائمی کمیٹی اراکین نے بھی مطالبہ کیا کہ اوور بلنگ کا معاملہ ٹھیک ہونا چاہیے اور ایسا کرنے والی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں پر نیپرا کو بھاری جرمانے عائد کرنے چاہئیں۔ اس موقع پر نیپرا کے نائب چیئرمین نے بتایا کہ ریگولیٹر کے تکنیکی مشیر نے تمام ڈسکوز کے ساتھ ساتھ کے الیکٹرک سے مکمل رپورٹ طلب کی تھی۔انہوں نے بتایا کہ تکنیکی مشیر ان رپورٹس کی جانچ کررہے ہیں جس کی بنیاد پر نیپرا تمام ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے لیے کھلی عوامی سماعت کرے گی۔
اجلاس کے دوران قومی اسمبلینکی قائمہ کمیٹی کو ایڈیشنل سیکریٹری وسیم مختار نے بتایا کہ فروری میں ریگولیٹر کی جانب سے متعین کردہ 3 روپے 34 پیسے فی یونٹ میں سے بجلی کے نرخ میں ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے بقیہ ایک روپے 39 پیسے فی یونٹ کا اضافہ صارفین پر منتقل نہیں کیا اور یہ ایک سیاسی فیصلہ بھی تھا کہ حکومت کب یہ بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس موقع پر قائمہ کمیٹی نے گردشی قرض کا معاملہ اٹھایا اور تشویش کا اظہار کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں باقاعدہ اضافے کے باوجود اس میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ کمیٹی کو فراہم کردہ ایک رپورٹ میں وزارت توانائی نے کہا کہ رواں برس جولائی تک گردشی قرض 2 کھرب 32 ارب 40 کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھا، جس کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے سبسڈی کی عدم ادائیگی تھی اور اس کی وجہ سے تقسیم کار کمپنیوں پر قرض جمع ہوا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اراکین کی اکثریت نے پچھلے تین برس میں بجلی کی قیمت میں 40 فیصد اضافے کو عوام کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف قرار دیا اور یہ تجویز پیش کی کہ ان قیمتوں پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔
