ایک برس میں اپوزیشن اتحاد کی موت اور فاتحہ کی کہانی

معروف صرف صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے تباہ حال اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے اپنی سیاسی بربادی کی بنیاد تب ہی رکھ لی تھی جب اس نے سوچے سمجھے بغیر عوامی طاقت سے حکومت کو گرانے کا ٹارگٹ مقرر کیا تھا، ایسا کرتے ہوئے پہی ڈی ایم اتحاد نے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور کپتان حکومت کے مابین وابستگی کو بھی صحیح طریقے سے نہیں تولا۔ پی ڈی ایم والے بھول گئے کہ عمران خان کو ہٹانے کے لیے اقتدار میں نہیں لایا گیا۔ نہ ہی کسی نے یہ سوچا کہ اگر یہ نظام قائم رہتا ہے تو پی ڈی ایم کا مستقبل کیا ہو گا؟ لہٰذا ایک سال بعد پی ڈی ایم کی حالت موجودہ حکومت سے مختلف نہیں۔ دونوں نے اپنے ساتھ وہ کچھ کیا جو بدترین مخالفین بھی تمام تر قوت استعمال کرنے کے باوجود بھی نہ کر پاتے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سید طلعت حسین کہتے ہیں کہ ایک سال پہلے ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں پر مبنی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی بنیاد اس اُمید پر رکھی گئی تھی کہ سیاسی مزاحمت کے ذریعے موجودہ ہائیبرڈ نظام کو زمین بوس کرنے کے بعد دھاندلی زدہ الیکشن سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کو قبل ازوقت انتخابات کے ذریعے ختم کیا جا سکے۔ پچھلے اتحادوں کی طرح پی ڈی ایم بھی سیاسی طاقت کے حصول کے لیے ایک ذریعہ تھا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ملکی مسائل کو حتمی طور پر طے کرنے کا عزم بظاہر اس اتحاد کو ایک غیرمعمولی اہمیت دیتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ حالات بھی موافق تھے۔ موجودہ حکومت کے پہلے سال معیشت 5.8 فیصد کی شرح سے گر کر منفی میں چلی گئی تھی۔ دوسرے سال شرح ترقی دو فیصد پر کھڑی تھی اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار اگلے چند سالوں کے بارے میں ایک بھیانک تصویر بنا رہے تھے۔ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے نوکریاں ختم ہو رہی تھیں، مہنگائی غیر معمولی حدوں کو چھو رہی تھی۔ عوام پریشان حال تھے۔

طلعت حسین کے مطابق یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے عمران خان آپشن کشش ثقل کھو کر بادلوں میں تحلیل ہو رہی ہے۔ یعنی وہ تمام اجزائے ترکیبی موجود تھے جن سے اپوزیسن کی ایک مضبوط سیاسی مزاحمت کو کامیابی نصیب کروائی جا سکتی تھی مگر انکا کہنا ہے کہ ایک سال کے عرصے میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے اپنے ساتھ وہی کیا جو حکومت نے تین سال میں اپنے اور اپنی ساکھ کے ساتھ کیا جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے چند ابتدائی کامیابیوں کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے آپسی اختلافات نے پی ڈی ایم کے اتحاد کو نفاق میں تبدیل کر دیا۔ جن توپوں سے حکومت کے قلعے کی فصیلیں تباہ کرنی تھیں، وہ اتحادیوں نے اپنی طرف تان لیں۔ جس تنقید سے موجودہ نظام کے پرخچے اڑانے تھے اس کی طاقت ایک دوسرے کی پگڑیاں اُچھالنے کے لیے استعمال ہونا شروع ہو گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت کو نکالنے کا لائحہ عمل درجنوں یو ٹرنز کے بعد ایک ایسے اونٹ میں بدل گیا جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ بقول طلعت حسین پی ڈی ایم نے آغاز کیا تھا عوامی سیلاب سے اسلام آباد کو مسخر کرنے کا لیکن اختتام ہوا ہے ٹویٹس اور پریس ریلیز کے توسط حکومت کی مذمت کرنے پر۔ اپوزیشن نے عہد کیا تھا استعفے دے کر اسمبلیوں کو مفلوج کرنے کا انجام یہ ہے کہ پانچ سال کے بعد انتخابات کی شفافیت کی منتیں کی جا رہی ہیں۔ کہا گیا تھا کہ 2018 میں انتخابات کی مبینہ دھاندلی کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا اب بات ٹھہر گئی ہے کہ ہر 15 دن کے بعد اپنی ضمانت میں توسیع ہو جائے تو شکر بجا لائیں گے۔

طلعت کہتے ہیں کہ تب مریم نواز اور بلاول بھٹو بھائی بہن کے حوالوں سے خود کو متعارف کرواتے تھے اب حالت یہ ہے کہ حکومتی وزیروں سے بڑھ کر پیپلز پارٹی کی قیادت ن لیگ کا اور ن لیگ پیپلز پارٹی کا تمسخر اڑاتی ہے۔ کہاں عوامی نیشنل پارٹی مولانا فضل الرحمان کے پیچھے صفیں باندھ کر نماز پڑھنے پر تیار تھی اور کہاں دونوں ایک دوسرے کو موجودہ قومی بحران کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ زمانہ تھا جب آصف علی زرداری جے یو آئی کے ساتھ مل کر سب پر بھاری ہونا چاہتے تھے اب وقت یہ ہے کہ آپس میں رابطہ کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کرنا پڑتی ہے۔ پہلے عوامی جلسے کر کے خوش ہوتے تھے، لوگوں کے دلوں کو گرمانے والی تقاریر کرنے کے بعد خود کو شاباشی دیتے تھے، اب اپنے کارکنان کو وضاحتیں دیتے پھر رہے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان کوئی خلیج نہیں، دشمن کی افواہوں پر کان نہ دھریں۔

طلعت حسین پوچھتے ہیں کہ کہاں مریم نواز کیمروں کے سامنے سے ہٹتی نہ تھیں اور کہاں آج کل کی صورت حال کہ سیاسی میٹنگز میں ان کی شرکت کے بارے میں شہباز شریف سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ ایک سال پہلے مزاحمتی لشکر سر پر کفن باندھے تیار کھڑے نظر آ رہے تھے۔ ایک سال کے بعد مفاہمت کے وفد درخواستیں لے کر دائیں بائیں گھوم رہے ہیں۔ بقول طلعت، پی ڈی ایم نے ایک سال میں خود کو سیاسی طور پر تباہ کرنے کی بنیاد تب ہی رکھ لی تھی جب اسنے کچھ سوچے سمجھے بغیر عوامی طاقت سے حکومت کو گرانے کا ہدف متعین کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکپن کی سیاست میں اس قسم کی خواہشات سمجھ میں آتی ہیں مگر ایسی جماعتیں جو کئی نسلوں سے طاقت کے کھیل سے منسلک ہیں خود کو ایک ناقابل عمل رستے پر ڈالنے کی جستجو کو لے کر کیوں کھائی میں چھلانگ لگا رہی تھیں؟ اس کی وضاحت صرف جذباتی فیصلوں کے حوالے سے نہیں کی جا سکتی۔

پیپلز پارٹی کو پتہ تھا کہ نہ اس نے حکومت کی ٹانگ کھینچنی ہے اور نہ ہی شہباز شریف کا دھڑا یہ کام کرنے پر تیار ہو گا۔ پیپلز پارٹی کے دونوں مفروضے درست ثابت ہوئے۔ انہوں نے کمال مہارت سے پی ڈی ایم کے اتحاد کو اپنے لیے نام نہاد احتسابی عمل سے بچنے کا ایک موثر ذریعہ بنایا۔ شہباز شریف جو کچھ ماہ پہلے سیاست سے کنارا کشی کی باتیں کر رہے تھے، پی ڈی ایم کی ابتدائی دھماکہ خیز اٹھان سے اسٹیبلشمنٹ کو یہ باور کروا پائے کہ مفاہمت کے ذریعے ملک میں اٹھتے ہوئے ابال کو ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی یہ توقع غلط ثابت ہوئی کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی حکومت کو ہٹانے کے لیے ان کی طرف سے تجویز کردہ لائحہ عمل پر قائم رہیں گی اور وہ پنجاب اور سندھ میں سے جلسے جلوسوں کے ہنگامے کے بعد سیاسی طور پر خود کو بطور مرکزی معاملہ کرنے والے قائد کے طور پر متعین کر پائیں گے۔

طلعت حسین کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک الائنس نے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ حکومت کے درمیان عملی وابستگی کو بھی صحیح طریقے سے نہیں تولا۔ وہ یہ بھول گئے کہ عمران خان کو ہٹانے کے لیے نہیں لایا گیا۔ نہ ہی کسی نے یہ سوچا کہ اگر یہ نظام قائم رہتا ہے تو پی ڈی ایم کا مستقبل کیا ہو گا؟ لہذا ایک سال بعد پی ڈی ایم کی حالت حکومت سے مختلف نہیں۔ دونوں نے اپنے ساتھ وہ سب کچھ کیا جو بدترین مخالفین تمام تر قوت کے استعمال کے بعد بھی نہ کر پاتے۔

Back to top button