امریکہ پاکستان تعلقات تاریخ کی نچلی ترین سطح پر آگئے

افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات تاریخی تنزلی کا شکار ہو کر نچلی ترین سطح پر آ چکے ہیں جس کی بنیادی وجہ پاکستانی ریاست کا افغانستان کے نئے حکمرانوں کے لئے نرم گوشہ رکھنا اور بار بار اس کا اظہار کرنا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک پہلے ہی سے یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی جیت کی بڑی وجہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مدد ہے۔ ایسے میں دونوں ملکوں کے تعلقات کی خرابی کا اندازہ امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن کے حالیہ بیان سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کا ازسر نو جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے ان کے بیان کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موقف حالیہ برسوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعاون سے بالکل بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان نے اس امریکی بیان پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ افغانستان میں دیرپا امن واشنگٹن اور اسلام آباد کا مشترکہ مقصد ہے اور پاکستان امریکہ کے ساتھ تعمیری تعلقات قائم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان پر کانگریس کے اجلاس کے دوران امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن اور بعض امریکی قانون سازوں کے منفی بیانات حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون سے مطابقت نہیں رکھتے۔
اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے پہلے ہی امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات خرابی کی آخری سطح کو چھو رہے تھے لیکن اب تو دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بالکل عیاں ہو گئے ہیں۔ پاکستانی حکومت امریکہ کے ساتھ ’معمول‘ کے تعلقات چاہتی ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا کہ ہم امریکہ کے ’کرائے کے فوجی بننا نہیں چاہتے بلکہ اس کے ساتھ ایسے ہی تعلقات چاہتے ہیں جیسے امریکہ اور بھارت کے درمیان ہیں‘۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی خواہش کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ بدگمانی کے سائے گہرے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
اگرچہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے ترجمان یکساں طور سے یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہمارے درمیان مکالمہ جاری ہے اور متعدد امور پر باہمی رابطے میں ہیں۔ اس کا ایک حوالہ اعلیٰ امریکی عہدیداروں کا پاکستانی حکام سے مسلسل رابطہ بھی ہے۔ حال ہی میں سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنس نے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا جس کے دوران انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات بھی تھی۔ برنس کا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ تھا۔ بظاہر اس قسم کے ہائی پروفائل دوروں سے یہی اندازہ کیا جاتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حساس معاملات پر قریبی تعاون موجود ہے۔ لیکن اس دوران سامنے آنے والے اشاروں سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوتی۔
اس تناظر میں امریکہ اور پاکستان باہمی تعاون اور قریبی تعلق کا دعویٰ کرتے ہوئے درحقیقت دو مختلف باتیں کر رہے ہیں۔ پاکستان ماضی قریب میں اپنی خدمات یاد کروا کے امریکہ کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہتا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کو براہ راست تسلیم نہ بھی کیا جائے تو بھی اس کی مالی امداد بحال کی جائے تاکہ وہاں معاشی بدحالی اور بحران کی کیفیت پیدا نہ ہو۔ اس حوالے سے پاکستانی حکام نے تواتر سے دلائل کا انبار جمع کیا ہے۔ پاکستان کے اس سرکاری موقف کو اگر طالبان کی کامیابی کے بعد پاکستانی میڈیا، سرکاری بیانات اور عوامی سطح پر پائے جانے والے جوش و خروش کے حوالے سے دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ طالبان کی طرح پاکستان بھی افغانستان میں امریکی ’ناکامی‘ پر خوش ہے اور اسے پر امن افغانستان کے لئے اہم سمجھتا ہے۔ امریکہ میں سرکاری اور نیم سرکاری ادارے پاکستان کے جوش و خروش اور تعاون کے دعوؤں کے درمیان توازن تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس غیر واضح صورت حال میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن اپنی اپنی ڈفلی ضرور بجا رہے ہیں، تعاون و مواصلت کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں لیکن دونوں دارالحکومتوں میں مل کر چلنے کے کسی ٹھوس منصوبے پر کام نہیں ہو رہا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فی الوقت پاکستان کے ساتھ تعاون کے حوالے سے امریکہ کے اہداف محدود اور افغانستان کے تناظر میں ہی ہیں۔ امریکہ پاکستان سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ مسلسل افغانستان میں پھنسے ہوئے غیر ملکیوں کے علاوہ ایسے تمام افغان باشندوں کے انخلا میں مدد فراہم کرتا رہے گا جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ پاکستان کے ذریعے افغان طالبان کو ایسی حکومت کی تشکیل پر آمادہ کرنا چاہتا ہے جس میں تمام افغان طبقات کی نمائندگی ہو تاکہ ملک میں یک جہتی اور ہم آہنگی کا ایسا ماحول پیدا ہو سکے جس میں شدت پسند گروہوں کو مضبوط ہونے کا موقع نہ ملے۔ پاکستان اس حوالے سے ابھی تک طالبان سے کوئی خاص رعایت نہیں دلوا سکا۔ طالبان پر اثر و رسوخ کے بارے میں پاکستان اپنی مجبوریوں کا ذکر بھی کرتا رہا ہے اور اس کا موقف ہے کہ طالبان خود مختاری سے فیصلے کرتے ہیں اور وہ پاکستان کا مشورہ ماننے کے پابند نہیں ہیں۔ یہ بات حقیقت حال کے نزدیک ہونے کے باوجود واشنگٹن میں پوری طرح قبول نہیں کی جاتی۔ اس کا اندازہ اس ہفتے کے شروع میں واشنگٹن میں ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی میں کی گئی تند و تیز تقریروں سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا اس اجلاس میں جواب بھی اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ امریکہ کے خیال میں پاکستان طالبان کے حوالے سے امریکی اہداف حاصل کرنے کے لئے سو فیصد کوشش نہیں کر رہا۔
انٹونی بلنکن نے کانگرس کمیٹی کو بتایا تھا کہ امریکہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران افغانستان کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسر نو جائزہ لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے افغانستان سے بعض ایسے مفادات وابستہ ہیں جو امریکی مفادات سے براہ راست متصادم ہیں۔ انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ’پاکستان نے گزشتہ بیس سال کے دوران کیا کردار ادا کیا ہے اور ہمارے خیال میں مستقبل میں اسے کیا کردار ادا کرنا چاہیے‘ ۔
اس معاملے پر پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ امریکہ جو مقاصد افغانستان میں دو دہائی تک فوجی کارروائی کے بعد حاصل نہیں کر سکا، وہ اسے اپنی مالی و سفارتی صلاحیت کے ذریعے حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اسی مقصد سے پاکستان پر دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی حکومت کو افغانستان سے انخلا کی صورت میں جس خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور اس پر امریکہ میں جو شدید تنقید ہوئی ہے، اب اس کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر داخلی طور سے سیاسی سہولت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ موقف درست بھی ہو تب بھی پاکستان کو اس کے منفی اثرات سے باہر نکلنے کے لئے واضح اور ٹھوس حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ملکی خارجہ پالیسی کی ترجیحات غیر واضح ہیں۔ پاکستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نہ تو وہ امریکی پالیسیاں درست کر سکتا ہے اور نہ ہی ان مطالبات کے بارے میں کوئی خاص کردار ادا کر سکتا ہے جو امریکہ طالبان سے منوانا چاہتے ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستان افغانستان کا فریق بننے کا تاثر قوی کر کے اپنے قومی مفادات کا تحفظ نہیں کرسکے گا۔ چنانچہ اس حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
