2022: کراچی کے سٹریٹ کرائمز میں 473 افراد قتل

کراچی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں سال 2022 کے دوران 473 افراد کو قتل کر دیا گیا لیکن پولیس کریمنلز کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ سندھ پولیس کے مطابق اس برس سٹریٹ کرائمز کے دوران مشتعل ہجوم کے ہاتھوں 12 ڈاکو مارے بھی گئے۔ 2022 کے دوران سات اضلاع پر مشتمل کراچی شہر میں 82 ہزار 713 مختلف جرائم کی ورادات ہوئیں، جن میں اسلحے کے زور پر شہریوں سے 28 ہزار 150 موبائل فون، 560 گاڑیاں، 3352 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔ اس کے علاوہ گھر میں گھس کر مسلح ڈکیتی کے 452 واقعات رپورٹ ہوئے۔ لیکن ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کراچی جنوبی عرفان بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی اور خصوصی طور پر تین اضلاع پر مشتمل جنوبی ریجن میں گذشتہ سالوں کے مقابلے میں سٹریٹ کرائم میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ بلوچ نے بتایا کہ کراچی جنوبی ریجن میں پولیس کی بہترین کارکردگی کے باعث جرائم خاص طور پر سٹریٹ کرائم میں 30 فیصد کمی آئی، گھر میں گھس کر ڈکیتی، اسلحے کے زور پر موبائل فون، موٹر سائیکل یا گاڑی چھیننے کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
انکا کہنا ہے کہ کراچی میں گذشتہ سالوں کے مقابلے میں بھتہ گیری میں واضح کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کے چھیننے کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے، مگر تاحال سٹریٹ کرائمز اور ڈکیتی کے دوران گولی مار کر قتل کرنے کے واقعات پولیس کے لیے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ جب ڈی آئی جی عرفان بلوچ سے پوچھا گیا کہ پولیس نے کراچی میں گذشتہ سالوں کے مقابلوں میں کرائم ریٹ کو کس طرح کم کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ پولیس نے سٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لیے کرائم اینالسس یونٹ بنایا ہے، جو اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ کون سا جرم کس وقت اور کس جگہ ہوا، جس کی بنیاد پر ملزمان کو گرفتار کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
بقول عرفان بلوچ یہ یونٹ متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو ہدایت کرتا ہے کہ خاص اوقات میں خاص جگہ پر خاص قسم کی گاڑیوں یا موٹر سائیکلوں کی چیکنگ کی جائے تو جرم ہونے سے پہلے ہی روکا جاسکتا ہے۔ اس طرح گذشتہ سالوں کی نسبت جرائم میں کچھ کمی آئی ہے اور اس پر مزید بھی کام کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا ایک بینک بھی بنایا ہے، تاکہ اس کی فوٹیج سے ملزمان کی تصاویر نکال کر متعلقہ تھانے کو دی جائیں اور ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔
