پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ سے ہٹانے پرگورنر کیخلاف قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کے خلاف چوہدری پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ کے منصب سے ہٹانے کے اقدام پر قرارداد منظور کر لی۔
صوبایہ اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے 12 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا جس کی صدارت اسپیکر سبطین خان نے کی، اجلاس کے وقت حکومت کے 149 اور اپوزیشن کے 115 اراکین موجود تھے،ایوان میں گورنر پنجاب کے خلاف قرارداد سے پہلے اپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔
پی ٹی آئی کے سینئر صوبائی وزیر پنجاب میاں اسلم اقبال نے ایوان میں گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کے خلاف غیر آئینی اقدامات پر قرارداد پیش کی۔ایوان نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کے خلاف قرارداد منظور کر لی۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان قواعد و ضوابط کے تحت منظور کرتا ہے کہ دستور کے تحت اقتدار اعلیٰ خدائے بزرگ برتر اور اختیارات عوام کے پاس ہیں، امپورٹڈ حکومت کی جانب سے پنجاب پر یلغار جاری ہے، پنجاب اس یلغار کا نشانہ بن رہا ہے، اکثریتی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔
قرارداد کے مطابق ضمیر فروشی سے حکومت کو غیر مستحکم کرکے ایوان کے خلاف غیر جمہوری یلغار کا سلسلہ جاری ہے، گورنر نے 22 دسمبر کو وزیر اعلیٰ پنجاب اور کابینہ کے خلاف اختیارات سے تجاوز کیا اور ایوان کا استحقاق مجروح کیا۔اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ صدر مملکت سے اس شرم ناک اقدام کا نوٹس لینے کی گزارش ہے، فوری طور پر گورنر کو منصب سے معزول کرنے کا اہتمام کریں، چوہدری پرویز الہیٰ پر ایوان اعتماد کا اظہار کرتا ہے اور اسپیکر کی رولنگ کی توثیق کرتا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے ایوان میں دی پنجاب ہولی قرآن پرنٹنگ اینڈ ریکارڈنگ ترمیمی بل 2022 پیش کیا گیا جسے حکومتی رکن میاں شفیع نے پیش کیا، اس دوران اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی کی گئی، ایوان نے دی پنجاب ہولی قرآن پرنٹنگ اینڈ ریکارڈنگ ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
خاتم النبین یونیورسٹی لاہور بل 2022 حکومتی رکن میاں شفیع نے ایوان میں پیش کر دیا، پنجاب اسمبلی میں حکومت نے خاتم النبین یونیورسٹی لاہور بل 2022 بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی نے پنجاب اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آخری نبی ﷺ کے صدقے ہمیں عطا ہوئی، اللہ ہی اس کی حفاظت کرے گا، مسلمان ہیں دل و جان سے آخری نبی ﷺ پر بھروسہ کرتے ہیں، دشمن جو مرضی کرلے حکومت قائم رہے گی۔
چوہدری پرویز الہٰی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خاتم النبین بل اور قرآن پرنٹنگ اینڈ ریکارڈنگ بل منظور کرنے پر سب کو مبارک باد دیتا ہوں، دین کی حفاظت کے بل کی منظوری پر اچھا پیغام جاتا ہے، پرائمری اسکول سے بارہویں کلاس تک قرآن کریم کی تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری و نجی اسکولوں میں قرآن کی تعلیم دی گئی جو اچھا اقدام ہے، ہماری اور عمران خان کی حکومت میں جو دین کی سربلندی، ختم نبوت پر جو قانون سازی ہوئی اس کی سعادت عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو حاصل ہوئی، حکومت آخری نبی ﷺ کے صدقے ہمیں عطا ہوئی، اللہ ہی اس کی حفاظت کرے گا، مسلمان ہیں دل و جان سے آخری نبی ﷺ پر بھروسہ کرتے ہیں، دشمن جو مرضی کرلے حکومت قائم رہے گی۔
پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ ہم کسی سے نہیں مانگتے اللہ و رسول سے مانگتے ہیں، کتنی مشکلات سے گزر کر ایوان میں بیٹھے ہیں، اس کام کو جاری و ساری رکھیں گے، یقین سے کہتا ہوں نسلیں دین کی خدمت جاری رکھیں گی، اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، مجھے میری کابینہ کو سعادت بخشی۔
سپیکر سبطین خان نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو 2 بل پاس ہوئے، اس پر حکومت اور اپوزیشن کا اچھا کردار ہے، وزیراعلی پنجاب لائق تحسین ہیں، جو ارکان بھی اس بل میں شامل رہے، اللہ ان کو بھی اجر دے۔
پنجاب اسمبلی میں شور شرابے کے دوران گجرات یونیورسٹی ترمیمی بل 2022 بھی منظور کر لیا گیا، جسے میاں شفیع نے ایوان میں پیش کیا تھا۔اسی طرح ایوان نے پبلک سیکٹر یونیورسٹی ترمیمی بل 2022 بھی منظور کر لیا جبکہ لاہور یونیورسٹی آف بایولوجیکل اینڈ الائیڈ سائنسز بل 2022 کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی رانا مشہود احمد خان نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو ایوان کی کارروائی ہو رہی ہے، وہ غیر قانونی ہے، جو گفتگو سابق وزیر اعلیٰ نے کی، اگر ریاست مدینہ ہے تو عمران خان ٹیریان کو مانیں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ریاست مدینہ ہے، ریحام خان کی کتاب کا جواب دیں، اگر ریاست مدینہ ہے تو طیبہ گل کا جواب دو، آئین و قانون کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیں گے، آئین و قانون کے مطابق ہاؤس کو چلائیں وگرنہ چلنے نہیں دیں گے۔
اس دوران پنجاب اسمبلی مچھلی منڈی بن گئی، اپوزیشن اور حکومتی ارکان آمنے سامنے آگئے، اراکین کی جانب سے شدید شور شرابہ جاری رہا اور اپوزیشن اراکین حکومتی نشستوں کے سامنے آگئے۔
پنجاب اسمبلی میں دونوں جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی، حکومتی اراکین نے ’گلی گلی میں شور ہے، سارا ٹبر چور ہے‘ اور ’امپورٹڈ حکومت نامنظور‘ کے نعرے لگائے جبکہپوزیشن اراکین کی جانب سے ’گھڑی چور‘ کے نعرے لگائے گئے۔
اسپیکر سبطین خان نے کہا کہ اپوزیشن اپنی جگہ پر بیٹھے، رانا مشہود کو بولنے کا موقع دینا چاہتا ہوں، سلمان رفیق صاحب اپوزیشن اراکین کو بٹھائیں، عمر فاروق اور عرفان اللہ اپنی سیٹوں پر بیٹھیں۔
پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی رانا شہباز نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گورنر پنجاب (بلیغ الرحمٰن) نے گندا کام کیا اور پنجاب اسمبلی پر شب خون مارا، انہیں سزا دی جائے، رات کو ان کے چہرے دیکھنے والے تھے، گورنر کی ڈگری جعلی ہے، ڈگری چیک کروا لیں، گورنر کو پنجاب میں رہنے کا حق نہیں ہے۔
رانا شہباز نے کہا کہ رانا ثنااللہ ڈرپوک ہے، وہ بھاگ گیا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف تین، تین ٹوپیاں تبدیل کر رہے ہیں، آصف زرداری کو بلا کر منڈی لگا لی ہے، حرام کی کمائی پر لعنت ہے، خود چور ہیں ان کا ریکارڈ دیکھ لیں۔
جس کے بعد اسمبلی کا اجلاس 26 دسمبر کو دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
