پاکستانی خواجہ سرا اداکار منیب بٹ پر کیوں برہم ہو گئے؟

پاکستانی ڈراموں کے معروف اداکار منیب بٹ اپنے آنے والے ڈرامے میں خواجہ سرا کا کردار ادا کرنے پر تنقید کی زد میں آگئے ہیں کیونکہ خواجہ سراؤں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس کردار کے لیے کسی مرد کی بجائے خواجہ سرا کو چنا جانا چاہیے تھا۔
یاد رہے کہ پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری میں خواجہ سراؤں کے کردار عموماً مرد ہی نبھاتے آئے ہیں۔ منیب بٹ نے چند روز پہلے ہی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے بتایا ہے کہ انھوں نے ایک نئے پراجیکٹ میں ’خواجہ سرا اسسٹنٹ کمشنر‘ کا کردار نبھایا ہے اور یہ ان کے کریئر کا سب سے منفرد کردار ہے۔
منیب بٹ نے اپنی انسٹا گرام پوسٹ میں لکھا کہ ’میں یہ اعلان کرتے ہوئے پرجوش ہوں کہ میں اپنے اگلے پراجیکٹ میں ’پہلے ٹرانس اسسٹنٹ کمشنر‘ کا منفرد کردار ادا کر رہا ہوں، جو ہمارے معاشرے میں کچھ دقیانوسی تصورات کو توڑتا ہے۔‘ انکا کہنا تھا کہ ’ہمارے ہاں ایک معاشرتی روش یہ بھی ہے کہ جو خواجہ سرا پیدا ہوتے ہیں اُنکو بس ڈانسر یا سیکس ورکر بننا ہے یا ٹریفک سگنل پر بھیک مانگنی ہے۔ اس ڈرامے میں ایسی ہی دقیانوسی تصورات کا خاتمہ کرتے ہوئے پیغام دیا گیا ہے کہ اگر ہم اُنھیں ایک صحیح موقع دیں تو وہ بھی ہر پیشے میں شاندار انداز میں کام کر کے دِکھا سکتے ہیں۔‘
اس ڈرامہ سیریز کا ٹائٹل تو ابھی سامنے نہیں آیا لیکن اطلاعات ہیں کہ اہم کرداروں میں منیب بٹ کے علاوہ ادکارہ صبا قمر، حریم فاروق، سنیتا مارشل اور صبور علی شامل ہیں۔ اسے ڈرامہ نگار عدیل رزاق نے لکھا ہے اور اس کی ہدایات احمد بھٹی نے دی ہیں۔ آئی ڈریمز پروڈکشن کے اس پرجیکٹ کو یو ایس ایڈ کی سپورٹ حاصل ہے جسے نجی انٹرٹینمنٹ چینل اے آر وائے سے ممکنہ طور پر جنوری میں ریلیز کیا جائے گا۔اس ڈرامے میں شامل کہانیاں ایک پڑھے لکھے خواجہ سرا، ایک خاتون ٹیکسی ڈرائیور، ایک ٹِک ٹاکر اور ایک عورت ڈاکٹر کے کرداروں کے گرد گھومتی ہیں جن کا مقصد انٹر سیکس کمیونٹی کے بارے میں دقیانوسی تصورات کو توڑنا، صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے جیسے موضوعات کا احاطہ کرنا ہے۔
منیب بٹ کی جانب سے سیریز میں اپنے کردار کے اعلان کے بعد جہاں اُن کے نئے روپ کی تعریف ہو رہی ہے وہیں ٹرانس جینڈر کمیونٹی سمیت مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کردار منیب بٹ کی بجائے کسی ٹرانس جینڈر اداکار کو نبھانا چاہیے تھا۔خواجہ سرا کمیونٹی کا مؤقف ہے کہ جب ایک مرد یا عورت کا کردار نبھانے کے لیے انھیں مدعو نہیں کیا جاتا تو ٹرانس جینڈر کے کردار کے لیے مرد اور عورت اداکاروں کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہے۔اُن کی دلیل ہے کہ معاشرے میں خواجہ سراؤں کی نمائندگی اور معاشرے میں اُن کے بارے میں دقیانوسی سوچ کے خاتمے کے لیے بنائے گئے پراجیکٹ میں ہی انھیں شامل نہیں کیا گیا۔
پاکستان میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ڈاکٹر میرب معیز اعوان نے اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’پہلا ٹرانس اسسٹنٹ کمشنر! منیب بٹ؟ یہ ہو کیا رہا ہے اس ملک میں اور یہ کس طرح کی مضحکہ خیز ٹرانس نمائندگی ہے؟‘ ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ دقیانوسی تصورات کو نہیں توڑتا جب آپ کو سکرین پر ایک ٹرانس پرسن کا کردار ادا کرنے کے لیے اصلی ٹرانس لوگوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں کیا جا سکتا۔ منیب بہت بڑے اداکار بھی نہیں تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ ایک حقیقی ٹرانس جینڈر شخص کے بجائے اُنھیں اس کردار کے لیے کیوں منتخب کیا گیا۔خواجہ سرا ایکٹوسٹ علیشہ شیرازی نے ٹویٹ کیا کہ ’مجھ میں کس چیز کی کمی ہے؟ میں تو لگتی ہی اسسٹنٹ کمشنر ہوں۔ ہمیں بھی موقع دیں۔ ایک کارکن ہونے کے ناطے میں اس کردار میں اپنی کمیونٹی کی مدد کروں گا۔ آپ کیا سوچتے ہیں؟
پاکستان میں حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم جوائے لینڈ میں پہلی بار بڑے پردے پر ایک خواجہ سرا کو مرکزی کردار میں دکھایا گیا۔ بیبا نامی یہ کردار علینہ خان نے نبھایا جو خود ایک خواجہ سرا ہیں۔ ایک خواجہ سرا کے کردار میں ایک خواجہ سرا کو ہی کاسٹ کرنے پر ڈائریکٹر صائم صادق کو بے حد سراہا گیا۔ فلم جوائے لینڈ کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی لیکن پاکستان میں اس کی ریلیز کے وقت بعض مذہبی حلقوں نے اس کی کہانی پر اعتراض کیا اور یوں یہ فلم متنازع ہو گئی۔
سماجی کارکن گلالئی اسماعیل نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’آپ کو یہ پیشکش قبول نہیں کرنی چاہیے تھی۔ پاکستان میں حقیقی باصلاحیت ٹرانس موجود ہیں جو یہ کردار ادا کر سکتے تھے۔ جوائے لینڈ نے پاکستانی فلم/ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ایک مثال قائم کی۔‘ طوبیٰ سید نے ٹویٹ کیا کہ ’حقیقی ٹرانس لوگ موجود ہیں جنھیں کام کی ضرورت ہے اور جیسا کہ جوائے لینڈ میں ثابت ہوا کہ وہ ٹرانس بننے کی اداکاری کرنے والے آدمی سے بہتر کام کر سکتا ہے۔‘ اِس تنقید کے جواب میں منیب بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر کسی کی اپنی سوچ ہے اور وہ ہر کسی کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔ ’لوگ کہہ رہے ہیں تو بالکل کرنا چاہیے تھا لیکن میں ایک اداکار ہوں اور میں ایک اداکار کی طرح سوچتا ہوں کہ اگر مجھے کوئی چیز آفر ہوئی ہے تو میں اتنے سنجیدہ کردار کے ساتھ انصاف کر پاؤں گا یا نہیں۔ میرے لیے یہ چیز زیادہ اہم تھی۔ میں نے اس بارے میں نہیں سوچا کہ میرے بجائے اسے کوئی ٹرانس کرے۔‘
منیب بٹ کہتے ہیں کہ ایک پڑھے لکھے اور نفیس خاندان سے تعلق رکھنے والے خواجہ سرا کا کردار نبھانا ایک چیلنج تھا۔ میڈیا میں اُن کے دوستوں نے اُن کے اِس فیصلے کو جرات مندنہ قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ پراجیکٹ معاشرے کو کچھ دینے کی نظر سے کیا۔ انکاکہنا ہے کہ ’میں نے یہ پراجیکٹ اپنے لیے نہیں بلکہ معاشرے کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا کہ اُن کو اب کچھ دوں اور اُن کو ایجوکیٹ کروں کہ ہم نے ان لوگوں کو قبول کرنا ہے تاکہ اُن کو مواقع ملیں۔‘
